Site icon Dunya Pakistan

نور مقدم قتل کیس:تفتیشی افسر سے مقتولہ کے فون کے میسجز کے بارے میں سوال

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا ہے کہ مقتولہ نے 18 جولائی سے 20 جولائی سنہ 2021 تک نہ تو متعلقہ تھانے میں اور نہ ہی ریسکیو ون فائیو پر ایسی کوئی اطلاع دی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

اس مقدمے میں شریک ملزمان کی فہرست میں شامل تھراپی ورکس کے سربراہ طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی نے بدھ کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران اس مقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر عبدالستار پر جرح کے دوران سوالات کیے۔

ایڈووکیٹ اکرم قریشی کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا اس عرصے کے دوران مقتولہ نے اپنی کسی دوست کو واٹس ایپ پر میسج بھیجا ہو کہ اسے کسی سے جان کا خطرہ ہے جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ موبائل فون کے ڈیٹا میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقتولہ کا موبائل 18 جولائی سے 20 جولائی سنہ 2021 صبح دس بجے تک کام کرتا رہا اور اس کے بعد اس مقدمے کے مدعی کا مقتولہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ملزم کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزمان میں سے کسی ایک بھی ملزم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے کروایا ہے جس میں انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہو کہ انھوں نے اس قتل میں ملزم ظاہر جعفر کی معاونت کی ہے جس پر تفتیشی افسر نے نفی میں جواب دینے کے بعد اس کی وضاحتیں دینے کی کوشش کی تو ملزم کے وکیل نے تفتیشی افسر کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ جتنا سوال آپ سے پوچھا جائے صرف اسی کا جواب دیں۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے اسلام آباد پولیس کے ترجمان کی جانب سے منگل کے روز وضاحتی بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حکام کی جانب سے ایسا اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ریمارکس دیے کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے اور اگر ایسی بات ہوئی تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جرح کے دوران تفتیشی افسر سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ یہ بات جانتے ہیں کہ تھراپی ورکس کے ملازمین میڈیکل انٹروینشن کے لیے جائے وقوعہ پر گئے تھے جس کا تفتیشی نے نفی میں جواب دیا۔

تفتیشی کے اس جواب کے بعد طاہر ظہور کے وکیل نے تفتیشی افسر سے یہ سوال پوچھا کہ کیا انھیں میڈیکل انٹروینشن کے بارے میں معلوم ہے اور اس بارے میں کسی ڈاکٹر سے رائے لی گئی جس پر انسپکٹر عبدالستار کا کہنا تھا کہ انھیں میڈیکل کی زبان کا ہی علم نہیں ہے تو پھر اس بارے میں کسی ڈاکٹر سے رائے کیسے لی جاتی۔

جرح کے دوران سوال کے جواب میں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جائے حادثہ سے جو کلوز سرکٹ کیمروں کی ویڈیوز ملی ہیں ان میں تھراپی ورکس کے ملازمین ایک شخص کو زخمی حالت میں لے کر مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر سے باہر لے کر جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں پمز ہسپتال میں موجود پولیس اہلکار نے متعلقہ تھانے میں اطلاع دی کہ ہسپتال میں پہنچنے والے زخمی کا نام امجد شاہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص نور مقدم کے قتل کے واقعہ میں ہی زخمی ہوا ہے تو پولیس نے انھیں شامل تفتیش کرنے کی کوشش کی تو زخمی کے والد نے پولیس کو بیان دیا کہ ان کے بیٹے کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ پولیس کو بیان دے سکے۔

تفتیشی افسر کے بقول اس واقعہ کے تین ہفتوں کے بعد پولیس نے امجد شاہ کو گرفتار کر لیا۔

ملزم طاہر ظہور کے وکیل نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزم سے برآمد ہونے والے پستول اور اس کے فنگر پرنٹس کے علاوہ جائے حادثہ سے ملنے والے خون کے نمونے متعقلہ تھانہ کوہسار کے محرر کو دیے تھے تو کیا اس میں مقتولہ نور مقدم کے خون کے نمونوں کے علاوہ امجد شاہ کے خون کے نمونے بھی شامل تھے جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ انھوں نے محض دیگر شواہد کا لکھ کر محرر کے حوالے کردیا تھا۔

ملزم کے وکیل نے تفتیشی سے کہا کہ جو پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیں جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ’سر میں ابھی درست کردیتا ہوں‘۔

سماعت کے دوران اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

تین گھنٹے سے زائد چلنے والی اس عدالتی کارروائی کے دوران اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو ہتھکڑی لگانے کے ساتھ ساتھ دو پولیس اہلکار بھی ان کے دونوں بازو پکڑے ہوئے تھے۔

پولیس اہلکاروں نے مرکزی ملزم سمیت دیگر شریک ملزمان کو کھڑے رکھا تاہم ملزم ظاہر جعفر کے والد اور اس مقدمے میں شریک ملزم ذاکر جعفر کو پولیس اہلکاروں کی طرف سے کرسی فراہم کی گئی۔

سماعت کے دوران ملزم ظاہر جعفر کا پاجامہ اتر گیا تاہم ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے پولیس اہلکار نے ان کا پاجامہ اوپر کرنے کی کوشش کی کیونکہ ملزم کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے تو ملزم نے پولیس اہلکار کو لاتیں مارنا شروع کردیں۔

بدھ کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایس ایس پی انوسٹیگیشن عطا الرحمان بھی ضلع کچہری میں موجود تھے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس مقدمے میں شریک ملزم عصمت آدم جی کے وکیل اگلی سماعت پر تفتیشی افسر پر جرح کریں گے۔

Exit mobile version