نور مقدم قتل کیس سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی اپیلیں

نور مقدم کے قتل سے چند لمحے پہلے کی ’سی سی ٹی وی فوٹیج ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو اور ٹویٹس ڈیلیٹ کردیں اور مزید آگے نہ پھیلائیں۔‘

ٹوئٹر پر جاری ٹرینڈ میں نور مقدم کے ساتھیوں اور خیر خواہوں کی جانب سے یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ یہ ویڈیوز مزید شیئر نہ کی جائیں بلکہ اس ویڈیو فوٹیج کو سوشل میڈیا پر جہاں کہیں بھی ہے، ڈیلیٹ یا تلف کر دیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے دو روز پہلے نور مقدم کی قتل سے کچھ دیر پہلے ملزم طاہر جعفر سے بچنے کی کوشش کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فوٹیج ابھی چند روز پہلے ہی لیک ہوئی ہے جس میں بظاہر نور مقدم ملزم ظاہر جعفر سے بچنے کی کوشش کرتی نظر آ رہی ہیں۔

پیمرا کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس فوٹیج کو نشر کرنے پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کی شق 27 کے تحت لگائی گئی ہے۔

اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں 9 نومبر کو استغاثہ کی جانب سے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ پیش کیا گیا تھا، جسے عدالت نے وکیل دفاع کو دینے کا حکم دیا تھا۔

فوٹیج پر پابندی

اس فوٹیج کے لیک ہونے کے بعد اب پیمرا نے نشریاتی اداروں کے اس فوٹیج کو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فوٹیج کو نشر کرنے کے بارے دو پہلو ہیں، ایک اس کا اخلاقی پہلو ہے اور ایک اس کا قانونی پہلو بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس کے قانونی پہلو کی بات ہے تو پیمرا قوانین میں کوئی ایسی شق نہیں ہے، جس میں مرنے سے پہلے کی کسی فوٹیج پر پابندی عائد کی جا سکے۔ ان کے مطابق ایسی ویڈیوز پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے جس میں خون یا تشدد وغیرہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب پیمرا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر حکام سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایسے حالات ہیں یا لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے، یا معاشرے میں ایسی ویڈیو دیکھنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے تو پیمرا ایسی ویڈیو کے نشر کرنے پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر اس ویڈیو میں ایسا کوئی قابل اعتراض مواد نہیں ہے، جس پر پابندی عائد کی جائے لیکن اختلاقی طور پر یا موجود حالات کے تناظر میں جس سے متاثرہ خاندان یا عام لوگوں کو تکلیف ہو تو پیمرا ایسا مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔

اس بارے میں روزنامہ ڈان کے سینیئر صحافی اور کورٹ رپوٹر وسیم احمد شاہ کا کہنا تھا کہ یہاں بات اخلاقیات کی زیادہ ہے کیونکہ متاثرہ خاندان اور نور مقدم کے دوست اس وقت تکلیف میں ہیں اور اس طرح کی ویڈیو سے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا قانونی طور پر پیمرا کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں اور اسی کے تحت پیمرا پابندی عائد کر سکتا ہے۔

وسیم احمد شاہ نے کہا کہ اس طرح کی سینکڑوں ویڈیوز روزانہ کی بنیاد پر لیک ہوتی ہیں اور اس سے متاثرہ خاندان بری طرح متاثر ہوتے ہیں لیکن اس بارے میں لوگ کوئی زیادہ بات نہیں کرتے لیکن صرف ایک خصوصی کیس میں اس اصول کو لاگو کیا جائے اور باقی پر اس فارمولے کو لاگو نہ کیا جائے، تو یہ بھی مناسب نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہیے تو یہ ہے کہ اس طرح کی تمام ویڈیوز کو اختلاقی طور پر بھی اور قانونی طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشر نہیں کرنا چاہیے۔

ظاہر جعفر
،تصویر کا کیپشننور مقدم کے قتل کے کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر ہیں

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ اور قانونی ماہر نگہت داد کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز مقدمے میں شواہد کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور حساس ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق عدالت اور فریقین کا فرض بنتا ہے کہ اس طرح کی شواہد کی حفاظت کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں رائج قانون کے تحت پرائیویسی (رازداری) کی شق ہے جو کسی انسان کے وقار سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چینلز پر سے ہی نہیں بلکہ عدالت کا فرض ہے کہ وہ اسے چینلز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی ہٹانے کے احکامات جاری کرے۔

پاکستان میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ’عدالت کا حکم تھا کہ یہ فوٹیج کہیں نشر نہیں ہونی چاہیے تو ایسے میں کیسے یہ ویڈیوز نشر کی گئیں‘ کیونکہ اب ’سوشل میڈیا پر آنے کے بعد انھیں ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فوٹیج کو جاری کرنے کا مقصد لوگوں کے مؤقف میں تبدیلی لانا یا اسے متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں اخلاقی اور قانونی دونوں پہلو سامنے آتے ہیں اور ایسے واقعات کو ’ہمارے معاشرے میں تماشے کے طور پر دیکھا جاتا ہے‘۔

سوشل میڈیا صارفینکاردعمل

ٹوئٹر پر ’جسٹس فار نور‘ کے نام سے یہ مؤقف سامنے لایا جا رہا ہے کہ اس فوٹیج کو مزید شیئر نہ کیا جائے بلکہ جو بھی دیکھے وہ اسے ڈیلیٹ کر دے کیونکہ اس سے متاثرہ خاندان کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے۔

کیو این شاہ نے لکھا ہے کہ ’میں تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ جس کے سامنے بھی یہ ویڈیو آئے وہ اسے رپورٹ کرے اور میں خود صبح سے یہی کر رہی ہوں۔‘

خیبر پختونخوا کے رکن صوبائی اسمبلی بلاول آفریدی نے لکھا ہے کہ ’وہ شخص جو عورت کی عزت نہیں کرتا، وہ عزت کے قابل نہیں ہے۔‘

اسی طرح ٹوئٹر پر ایک اکاؤنٹ جسٹس فار نور- سی سی ٹی وی کے نام سے بھی موجود ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ اس ویڈیو فوٹیج کے لیک ہونے کی مذمت کر رہے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ نور مقدم کے آخری لمحات پر مشتمل اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا جائے۔

ماہین گیلانی نے تو اس ویڈیو کو نشر کرنے والے چینلز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

error: