نومولود کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے!

اس واقعے کو سات دن گزر چکے ہیں، ایک اخبارمیں اِس واقعے کی خبر صفحہ اول پر سنگل کالمی شائع ہوئی، ایک معاصرمیں تین کالمی جبکہ ایک انگریزی اخبار میں اِس سے متعلق تصویر اور سنگل کالمی خبر صفحہ اول پر شائع ہوئی۔

اب تک میں نے اِس واقعے پر صرف تین کالم دیکھے ہیں، دو اردو میں اور ایک انگریزی میں، شاید اکا دکا کہیں اور بھی شائع ہوئے ہوں مگر میری نظر سے نہیں گزرے، کسی بڑے اردو اخبار نے اس خبر پر اداریہ لکھنے کا تکلف نہیں کیا اور کسی قابل ذکر لیڈر نے زبانی کلامی مذمت کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، کچھ صحافیوں نے البتہ ٹویٹر پر اِس خبر پر افسوس کا اظہار ضرور کیا۔ اب ’رائٹرز‘ کی زبانی خبر بھی سن لیں۔

یہ کابل کے ایک اسپتال کا منظر ہے، یہاں زینب نام کی خاتون داخل ہے، زینب کو آج اللہ نے کئی سال بعد بیٹا عطا کیا ہے، اُس کی خوشی دیدنی ہے، اپنے بیٹے کا نام اُس نے ’امید‘ رکھا ہے، زچہ و بچہ دونوں صحتمند ہیں، اگلے ایک گھنٹے میں انہیں اسپتال سے گھر بھیج دیا جائے گا مگر اچانک تین مسلح افراد اسپتال کے میٹرنٹی وارڈ میں داخل ہوتے ہیں، انہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی ہیں، وہ وارڈ میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دیتے ہیں، زینب اپنے بچے کو بچانے دوڑتی ہے۔

اُس بچے کو جس کے لیے اُس نے سات برس تک کوشش کی، نو مہینے پیٹ میں رکھا، پیدا ہونے کے بعد چار گھنٹے تک اُس کے ساتھ رہی، مگر اُس کی ’امید‘ دم توڑ جاتی ہے، بچہ اُن دہشت گردوں کی فائرنگ سے بچ نہیں پاتا اور مرجاتا ہے (جاں بحق یا شہید کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، چار گھنٹے کے بچے کی ایسی موت پر کیا کہا جائے گا مجھے نہیں معلوم)۔ فائرنگ کے بعد جب دہشت گرد رخصت ہوتے ہیں تو لاشیں گنی جاتی ہیں۔

پتا چلتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد چوبیس ہے جن میں سولہ عورتیں اور دو نومولود شامل ہیں جبکہ چھ نومولود ایسے ہیں جو بچ تو گئے مگر اُن کی مائیں جاں بحق ہو گئیں۔ اسی دن افغانستان کے ننگرہار صوبے میں ایک جنازے پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں بتیس افراد مارے گئے۔

رائٹرز ہی کے مطابق طالبان نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی البتہ داعش کے ایک گروپ نے جنازے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اِس واقعے پر کیا لکھوں، کہاں سے الفاظ لاؤں، کون سے پیرائے میں دکھ کا اظہار کروں، کس کی مذمت کروں، کس کا نوحہ پڑھوں، کس بات کا ماتم کروں، اسے ظلم اور دہشت گردی کے کون سے خانے میں فٹ کروں، اسے مغرب کی کس پالیسی کا ’ردعمل‘ کہہ کر جان چھڑاؤں، کہاں سے اِس کی تاویل تلاش کروں، اسے کیسے نارمل سمجھ لوں! ہم نے بھی گزشتہ دہائی میں ایسی ہی خوں ریزی دیکھی، کیا اسپتال اور کیا اسکول، کیا بازار اور کیا دربار، دہشت گردوں نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی جہاں انہوں نے دھماکے نہ کیے ہوں، مگر اِس واقعے کی تو افغانستان اور پاکستان دونوں میں مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔

2013ء کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب کوئٹہ میں طالبات کی ایک بس کو بم دھماکے سے اڑایا گیا جس میں چودہ طالبات جاں بحق ہوئیں، زخمیوں کو جب اسپتال لایا گیا تو وہاں پر بھی حملہ کرکے مزید گیارہ لوگوں کو مار دیا گیا۔ 2016ء میں دوبارہ کوئٹہ ہی کے ایک اسپتال میں حملہ کرکے ستّر افراد کو ماراگیا تھا جن میں وکلا اور صحافی بھی شامل تھے۔

یہ واقعات جب ہو رہے تھے تو میں سوچتا تھا کہ اِس سے زیادہ بربریت شاید ممکن نہیں، لیکن ہر مرتبہ میرا اندازہ غلط ثابت ہوتا، بالآخر جب آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا تو مجھے لگا شاید یہ ظلم کی آخری حد ہے، اسکول کے بچوں کو مارنے سے زیادہ سفاکانہ فعل ممکن نہیں، لیکن میرا یہ اندازہ بھی غلط تھا، ظلم کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ چند دن پہلے میں نے اخبار میں خبر پڑھی کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کر دیا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے پرچہ درج کر لیا۔

اِس خبر کو پڑھ کر دل میں خیال آیا کہ اِس سے زیادہ سفاک شخص شاید دنیا میں کہیں موجود نہیں ہوگا جو اپنی جیتی جاگتی بیٹی کو قبر میں ڈال کر اسے زندہ دفنا دے، بیٹی چیخی چلائی ہوگی، تڑپی ہوگی، باپ کو خدا رسول کے واسطے دیے ہوں گے۔

اُس کی منتیں کی ہوں گی مگر اُس سنگدل باپ پر کوئی اثر نہیں ہوا مگر میرا یہ خیال پھر غلط نکلا، دہشت گردوں نے زچہ بچہ وارڈ میں گھس کر قتل عام کرکے ثابت کر دیا کہ جو سفاکی نومولود کے جسم میں گولیاں پیوست کرنے اور اسے خون میں نہلانے میں ہے وہ کسی جوان لڑکی کو زندہ دفنانے میں نہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ واقعہ ظلم کی آخری حد ہو اور اب کی بار میرا اندازہ غلط ثابت نہ ہو!

میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اِس واقعے کا دکھ ہم نے پاکستان میں کیوں محسوس نہیں کیا، آخر افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے، برادر اسلامی ملک ہے، جتنا فاصلہ لاہور سے راولپنڈی کا ہے اتنا ہی فاصلہ پشاور سے کابل کا ہے، مرنے والے بھی بے گناہ مسلمان تھے۔

اس سوال کا جواب قدرے پیچیدہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے، خاص طور سے نائن الیون کے بعد امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان پر حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے خطے میں ایک خاص قسم کی انتہا پسندی کو جنم دیا ہے، اِس انتہا پسندی کی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہیں اور اِس نے ایک ایسی سوچ پروان چڑھائی ہے جس میں ’طاغوت‘ کے خلاف جنگ میں ہر قسم کے حربے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔

شمس الدین حسن شگری کی کتاب ’مذہبی انتہا پسندی‘ اِس ضمن میں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، اِس کتاب میں اُن تمام بحثوں اور دلائل کا احاطہ کیا گیا ہے جو عموماً انتہا پسند تنظیمیں اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کرتی ہیں، ایک مختصر سی تاریخ ہے جو اِس کتاب میں شگری صاحب نے سمو دی ہے۔

سو جو لوگ اِس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی شخص اتنا سفاک کیسے ہو سکتا ہے کہ اسپتال کے میٹرنٹی وارڈ میں گھس کر نومولود بچوں اور حاملہ عورتوں کا قتل عام کر دے، اسے چاہیے کہ یہ کتاب پڑھ لے، شاید کوئی تشفی ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *