نو مینز لینڈ

آخری لمحات میں پیدا ہونے والی چند رکاوٹوں کے باوجود 18 ویں آئینی ترمیم کو 105 تبدیل شدہ آئینی شقوں کے ساتھ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے 2/3اکثریت کے ساتھ منظوری کیلئے پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ معمولی پیش رفت نہیں کیونکہ یہ مختلف سیاسی جماعتوں کے تاریخی اتفاق رائے کی علامت ہے جو اس سے قبل 73 ء میں آئین کی منظوری کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔
کچھ تحفظات کا باوجود صدر زرداری مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مختلف مفادات کی حامل سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کا عمل شروع کیا۔ صدر زرداری کیلئے آسان نہیں تھا کہ اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتے، اسی طرح تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر عائد بندش کا خاتمہ کرکے نواز شریف کیلئے رستہ کھول دیتے، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے انتخاب اور تقرری کے چیف جسٹس کے اختیارات میں مزید اضافہ کرتے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نواز شریف مڈ ٹرم انتخابات کیلئے دباؤ بڑھا دیں گے جبکہ ججوں نے اپنے نیزے پہلے ہی صدر زرداری پر تان رکھے ہیں کہ وہ عہدہ صدارت چھوڑ دیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو آئینی امور پر اتفاق رائے عدالتوں میں، میڈیا پر اور گلیوں میں کھلی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کی کوشش میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اس لئے قابل غور ہیں کہ وہ مستقبل کے ممکنہ حالات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
آخری موقع پر نواز شریف نے مجوزہ آئینی ترامیم کی محض اسلئے مخالفت کی تاکہ وہ چیف جسٹس کے ہاتھ مضبوط کر سکیں۔ جب ان کے اعتراضات ترمیمی بل میں شامل ہوگئے تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں 18 ویں ترمیم کا بل پیش ہونے سے قبل صدر زرداری کے خطاب میں شرکت سے نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دانستہ گریز کیا۔ نواز شریف واحد سیاسی شخصیت نہیں جنہوں نے اپنے مستقبل کے سیاسی عزائم کا اشارہ دیا بلکہ ایم کیو ایم کے گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی بیماری کو جواز بنا کر خطاب میں شرکت نہ کی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سٹریٹجک اتحادی، وفاقی اور صوبے میں پی پی پی کی پارٹنر ایم کیو ایم نے ایک سال قبل بھی زرداری کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جب انہوں نے این آر او کی پارلیمنٹ سے توثیق کی حکومتی کوشش کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اسی کے نتیجے میں صدر زرداری کے خلاف مقدمات ایک مرتبہ پھر کھول دیئے گئے۔ گزشتہ ہفتے اٹارنی جنرل انور منصور جو ایم کیو ایم کے حامی اور ماضی میں ایم کیو ایم کی سفارش پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ بنائے گئے، مشکل وقت میں اچانک زرداری کا ساتھ چھوڑ دیا اور چیف جسٹس کی طرف داری شروع کر دی۔
حکومت اور عدلیہ واضح طور ایک خطرناک محاذ آرائی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نیب کو حکم دے چکی ہے کہ وزارت قانون کی مہر اور دستخطوں کے ساتھ سوئس حکام کو درخواست بھجوائے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ری اوپن کرے۔ دوسری طرف وزیر قانون بابر اعوان کہہ چکے ہیں کہ ایسا صرف ان کی لاش پر ہی ممکن ہے۔ سپریم کورٹ مشرف دور کے اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم سے وضاحت چاہتی ہے کہ کس قانون کے تحت انہوں نے 2008 ء میں سوئس حکومت کو منی لانڈرنگ کے مقدمات بند کرنے کی درخواست بھیجی۔ ملک عبدالقیوم ملک چھو ڑ کر جا چکے ہیں۔ سیکرٹری قانون سپریم کورٹ کے نوٹس میں یہ بات لا چکے ہیں کہ ایسے کسی قانون یا حکم کا کوئی ریکارڈ نہیں جس کے بل بوتے پر نواز شریف دور کے اٹارنی جنرل چودھری فاروق نے 97 ء میں سوئس حکام کو بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کی کرپشن کی تحقیقات کیلئے درخواست بھیجی۔ سپریم کورٹ کے نوٹس میں یہ حقائق لانے والے سیکرٹری قانون کو ہسپتال کا رخ کرنا پڑا۔ پی پی پی واضح اعلان کر چکی ہے کہ محترمہ بینظیر کی قبر کے ٹرائل کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔ ان کی طرف سے سپریم کورٹ پر جانبداری اور ایک ہی شخصیت کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔
جلد ہی پی پی پی اہم وزراء سپریم کورٹ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں گے۔ اگر انہیں توہین عدالت کے الزام میں سزائیں ہوئیں تو حکومت ان کی سزا معاف کر دے گی۔ یہ واحد اختیار ابھی تک صدر زرداری کے پاس ہے۔ معمولی فہم و فراست رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ صدر کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے۔ اس آئینی رکاوٹ کو پار کرنے کیلئے سپریم کورٹ کو اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر کچھ نئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس دوران نواز شریف لوگوں کے معاشی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکز بنا سکتے ہیں جیسے کہ مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، صنعتی اداروں کی بندش اور بڑھتی غربت وغیرہ، تاکہ حکومت کو ہٹایا جا سکے۔ صدر زرداری کے دو عہدوں پارٹی شریک چیئر مین اور صدر مملکت کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت میں تیزی آ سکتی ہے۔ اس پر فیصلے کو اگر سپریم کورٹ برقرار رکھتی ہے تو صدارت زرداری کے ہاتھ سے نکل جائے گی، ساتھ ہی آئینی استثنیٰ بھی ختم ہو جائے گا، یا پھر وہ شریک چیئر مین کا عہدہ اپنے پاس رکھیں گے جو ان کی سیاسی طاقت کا محور ہے۔ ماہ جون میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط عوام میں اشتعال پیدا کر سکتی ہیں جس سے حکومت کی تبدیلی کیلئے عوامی تحریک میں تیزی آ سکتی ہے۔
ان حالات میں نواز شریف کے آپشن بڑے واضح ہو جائیں گے۔ وہ زرداری کے اتحادیوں ایم کیو ایم اور اے این پی کے ساتھ اتحاد کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ مخلوط حکومت بنا سکیں۔ تاہم وہ مڈ ٹرم الیکشن کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر فوج اور عدلیہ جسے نواز شریف کی آمرانہ سوچ کا تلخ تجربہ ہو چکا ہے، ان کے عزائم میں رکاوٹ بن کر قومی حکومت کے قیام کیلئے دباؤ ڈال سکتے ہیں جس میں انہیں ق لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی اور پی پی پی مائنس زرداری کی مدد حاصل ہو گی۔
اگر زرداری کیلئے رستے تنگ ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نواز شریف کیلئے رستے کھل رہے ہیں۔ دراصل یہ المیہ پاکستان میں جاری اسی غیر فعال سیاسی نظام کی وجہ سے ہے جس نے ماضی میں حکومتی امور اور سول ملٹری روابط میں کئی بحران پیدا کئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: