نہ ہم بدلے نہ تم بدلے

کابل شہر میں دھماکہ ہوتا ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والے پکار اٹھتے ہیں ’اللہ اکبر‘۔ مجھے یقین ہے کہ حملہ کرنے والوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا ہو گا۔

سینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے ہمارے پاکستانی بھائی اور بہنیں پکار اٹھتے ہیں ’سبحان اللہ‘۔ کچھ طالبان کے جذبہ جہاد پر اور کچھ ان کے حوصلے پر جو طالبان کے ہاتھوں اپنے بچے مروا کر بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں۔

جیسے جیسے طالبان پہاڑوں سے اُتر کر شہروں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور گلیوں میں لاشیں گِرا رہے ہیں، ہمارے سیاسی، مذہبی، عسکری اور موسمی دفاعی تجزیہ نگاروں کا جوش و جذبہ قابل دید ہے۔ ’چشم ماروشن‘، ’دل ماشاد‘، ’جی آیا نوں‘، ’تم آئے بہار آئی‘ قسم کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔

ہم نے 20 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کابل کے وارث طالبان ہیں اب وہ کابل پر چڑھائی کر کے کشتوں کے پشتے لگائیں گے۔ مومن مومن سے لڑے گا فتح طالبان کی ہو گی۔

ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر اس جہاد میں ایک اِخلاقی فتح حاصل کریں گے۔ صوفوں پر بیٹھے بیٹھے اس جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور ثواب کمائیں گے۔

اگر اتنا خون نہ بہہ چکا ہوتا تو ہم شاید کہہ سکتے تھے کہ ہماری طالبان کے ساتھ ایک اتنی پرانی لو سٹوری چل رہی ہے جس میں سات خون بھی معاف ہوتے ہیں۔

طالبان

لیکن ہمارے اس پیار کے شوق میں سرکار خود کہتی ہے کہ 70 ہزار جانیں جا چکی ہیں جن میں فوجی سکول میں پڑھنے والے بچے بھی شامل ہیں اور برقعہ پوش عورتیں بھی، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔

بڑی قوتوں کو بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے، دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے والے ہمارے مومن اور لبرل اس بات پر متفق ہیں کہ ہم نے بڑی قربانی دی ہے۔

آج تک اس قربانی کا مقصد ہمیں کوئی نہیں سمجھا پایا۔ اور اب یہ وقت آن پڑا ہے کہ نہ تو ہمیں طالبان سے لڑنے کے لیے کوئی دیہاڑی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی طالبان کو سادہ لباس والے، ذہین اور معصوم کہنے پر شاہ محمود قریشی کو کوئی امن کا میڈل ملنے والا ہے۔

ادھر ہمارے کچھ ریٹائرڈ جنرل حضرات اور میرے حاضر سروس صحافی بھائی طالبان کی واپسی پر بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ جس طرح ہماری عسکری قیادت نے پارلیمان کے دروازے بند کر کے ہمارے منتخب نمائندوں کو آنے والے خطروں کے بارے میں ہوشیار باش کیا ہے کاش اسی طرح ایسی ہی ایک کلاس جشن منانے والے سابقہ جرنیلوں کے لیے ہو جائے اور انھیں ہاتھ باندھ کر سمجھایا جائے کہ طالبان کو بھنگڑے ڈالنے والے پسند نہیں ہیں، چاہے یہ بھنگڑے ان کی حمایت میں ہی ڈالے جا رہے ہوں اور چاہے ڈالنے والے ہمارے قابل احترام ریٹائرڈ جنرل ہی کیوں نہ ہوں۔

طالبان کے سجن، دشمن، ہم اور آپ سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خون خرابہ امریکہ کا پھیلایا ہوا ہے۔ امریکہ کی ناکامیوں اور نالائقیوں کا ملبہ پہلے افغانوں پر اور پھر لامحالہ ہم پر گِرے گا۔

تو کیا یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمیں امریکی صدر کی مِس کال کا انتظار کرنا چاہیے یا کسی بند کمرے میں بیٹھ کر آرمی پبلک سکول کے سبز بلیزر والے شہیدوں کی تصویریں دیکھنی چاہییں، اور سوچنا چاہیے کہ اب کیا کرنا ہے۔

آرمی پبلک سکول

ہم نے اے پی ایس کے ایک قاتل کو فرار ہونے کا موقع دیا، چلیں مان لیتے ہیں کہ احسان اللہ احسان قاتل نہیں صرف قاتلوں کا ترجمان تھا اور اس طرح کی گندی جنگوں میں کبھی کبھی اپنے دشمن کو کمزور کرنے کے لیے اسے ساتھ چلانا پڑتا ہے، اپنے قاتل کو اپنا اثاثہ مان کر چلنا پڑتا ہے۔

لیکن وہ دن آیا چاہتا ہے کہ جب ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا طالبان ہمارا اثاثہ ہیں یا ہم طالبان کا اثاثہ بن چکے ہیں اور جب وہ پہاڑوں سے اُتر کر ہمیں بہتر مومن بنانے کے لیے ہماری مسجدوں اور سکولوں کا رخ کریں گے تو اللہ اکبر کا پہلا نعرہ وہ لگائیں گے یا ہم۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *