نیا سال نجومیوں کی نظر میں

مستقل قارئین کی میری توقع سے کہیں زیادہ بڑی تعداد نے خوش گوارحیرت کا اظہار کیا کہ میں نے ’’ستاروں کی چال‘‘ کے بارے میں بھی لکھنا شروع کردیا ہے۔ میری ’’تحقیق‘‘ کی بدولت وہ یہ جان کرمزید خوش ہوئے کہ آٹھ سو برس کے طویل ترین وقفے کے بعد انسانوں کا مقدر بگاڑنے اور سنوارنے والے دو طاقتور سیارے ‘ زحل اور مریخ‘ 22دسمبر2020 سے دلو نامی برج میں جمع ہوگئے ہیں۔اس برج میں ان کا اتصال عندیہ دیتا ہے کہ خلقِ خدا کی بے پناہ اکثریت اب تک مسلط رہے ریاستی نظام اور ڈھانچوں کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ’’بغاوت‘‘ کو مجبور ہوجائے گی۔ریاستی جبر انہیں دبانے میں ناکام رہے گا۔ بالآخر ’’نئے‘‘نظام اور ڈھانچے متعارف ہوں گے جو حکمران اشرافیہ کے مفادات کی نگہبانی کے بجائے عوامی مشکلات کے ازالے پر توجہ دیں گے۔ ’’اب راج کرے گی خلقِ خدا‘‘ جیسا ماحول بن جائے گا۔

بالآخر 2021شروع ہوچکاہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں اس کا آغاز ہوتے ہی ’’اب کیا ہوگا‘‘ جیسا کوئی کالم لکھتا۔ میں لیکن PDMکے ’’مستقبل‘‘ پر توجہ دیتا رہا۔اس موضوع پر توجہ نے ’’ستاروںکی چال‘‘سے دلچسپی لینے والوں کو ناراض کیا۔وہ تقاضہ کررہے ہیں کہ زحل اور مشتری کے برج دلو میں ملاپ کی بابت مزید لکھتے ہوئے انہیں ’’حوصلہ‘‘ دیا جائے۔

ایمان داری کی بات مگر یہ ہے کہ میں ’’حوصلہ‘‘ دینے کی ہمت وجرأت سے محروم ہوں۔ اخلاقی اعتبارسے بھی ایسی تحریر کو ’’دونمبری‘‘ شمار کرتا ہوں جو ایسے علم یا ہنر کی بنیاد پر لکھی جائے جسے میں ذاتی طورپر سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ متحرک زندگی سے فارغ ہونے کے بعد میرے پاس ضائع کرنے کو ضرورت سے زیادہ وقت میسر تھا۔شغلاََاسے یوٹیوب کے ذریعے نجومیوں کی گفتگو کو یوٹیوب کے ذریعے سننے میں صرف کرنا شروع کردیا۔ 800برس کے طویل وقفے کے بعد برج دلو میں مشتری اور زحل کے ملاپ کے حوالے سے ان کی اکثریت نے جو مناظر دکھائے وہ میرے جی کو بہلانے کا باعث بھی ہوئے۔ اس لئے ان کا ذکر اس کالم میں بھی ہوگیا۔وقتی اطمینان کے بعد مگر ’’آنے والی تھاں‘‘ پر واپس آگیا۔ قارئین کا تقاضہ مگر نظرانداز نہیں کرسکتا۔ان کے حکم کے مطابق ہفتے کے آخری دو د ن مزید ’’تحقیق‘‘ میں گزارے۔

بنیادی طورپر یوٹیوب کے ذریعے ستاروں کی چال پر نگاہ رکھنے والے دو نجومیوں۔Ablas Roland Legrand اور Steve Judd-نے مجھے بہت متاثر کیا۔ان دونوں نے 2020شروع ہونے سے کئی ماہ قبل انتہائی منطقی انداز میں خبردار کیا تھا کہ یہ برس دُنیا بھر میں بے تحاشہ مایوسی اور پریشانی پھیلائے گا۔ روزمرہّ زندگی کے کئی رویے اور انداز جنہیں ہم فطری یا Taken for Grantedلیتے ہیں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔وہ جس ’’تباہی‘‘ کی نشاندہی کررہے تھے بالآخر کرونا کی صورت نمودار ہوگئی۔ اس نے واقعتا روزمرہّ زندگی کے بے تحاشہ رویوں کو حیران کن حد تک بدل دیا ہے۔ دوستوں اور پیاروں کو مثال کے طورپر ہم دیکھتے ہی اب جپھی نہیں ڈالتے۔ ہاتھ ملانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔دفتر جانے کے بجائے گھروں میں محصور ہوئے Zoomجیسی Appsکے ذریعے Meetingsکرتے ہیں۔طلباء اسی سہولت کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔فلم دیکھنے کے لئے سینما گھروں میں جانے کی ضرورت نہیں رہی۔اس ضمن میں Live Streamingسے رجوع کیا جارہا ہے۔ریستورانوں کے اندر داخل ہونے سے خوف آتا ہے۔ ہوم ڈیلیوری پر انحصار بڑھ رہا ہے۔جس کی وجہ سے شاپنگ مالز وغیرہ بھی اپنی افادیت اور رونق کھورہے ہیں۔

میرے پسندیدہ نجومیوں کا مگر اصرار رہا کہ 2021ماضی کی رونقوں کو نئی صورتوں میں بحال کردے گا۔عوام کا حاکم شمار ہوتے برج دلو میں مشتری اور زحل کا ملاپ ان صورتوں کو بلکہ بھرپور توانائی بھی فراہم کرے گا۔قصہ مختصر 2021کو ہر صورت ’’یہ سال اچھا ہے‘‘ بتایا جارہا ہے۔

ان دو نجومیوں کی بات پر تاہم اعتبار کریں تو ممکنہ مسرت کے آغاز سے قبل 2020کی پھیلائی ’’نحوست‘‘ نئے برس کے پہلے مہینے میں دھماکہ خیز تباہی اور ہیجان پھیلانے کے بعد ہی اپنے انجام کو پہنچے گی۔ پریشان کن تباہی اور ہیجان کو ’’یقینی‘‘ بنانے کی خاطر یاد دلایا جارہا ہے کہ 6جنوری 2021کی رات سے ایک اور طاقت ور سیارہ Marsیعنی مریخ برج ثور(Taurus)میں داخل ہوجائے گا۔یونانی داستانوں میں مریخ کو ’’جنگ کا دیوتا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگوں کے دلو ں میں غصے اور نفرت کو بڑھانے کا سبب بھی شمار ہوتا ہے۔ دعویٰ یہ بھی ہے کہ برج حمل کو یہ اپنا فطری گھر سمجھتا ہے۔گزشتہ برس وہ اس برج میں چھ ماہ تک قیام کی بدولت ’’سست پذیر‘‘ ہوگیا تھا۔ 6جنوری سے تاہم وہ برج ثور میں داخل ہوکر انگڑائی لیتے ہوئے ’’بیدار‘‘ ہوجائے گا اور اپنی اصل اوقات دکھانا شروع ہوجائے گا۔برج ثور میں ایک اور طاقت ور سیارہ -یورینس- پہلے ہی سے موجود ہے۔یہ سیارہ ہمیں اپنے خوابوں کی تکمیل پر اُکساتا ہے۔ مریخ لہٰذا ثور میں داخل ہوکر ہمیں مزید انگیخت دے گا۔مصیبت مگر یہ آن پڑی ہے کہ ثور میں بیٹھے مریخ اور یورینس برج دلو میں موجود مشتری اور زحل کو ’’بری نظر‘‘ سے دیکھ رہے ہیں۔

6جنوری 2021کی رات برج ثور میں داخل ہوجانے کے بعد مریخ جب بیدار ہوکر اپنی طاقت دکھانا شروع ہوگا تو برج دلو میں بیٹھے زحل کو آنکھیں دکھائے گا۔زحل کے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ انسانوں سے نظم وضبط کا تقاضہ کرتا ہے۔ وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ قوانین اور معاشرے میں قائم رسوم وقیود کا مکمل احترام ہو۔برج دلو میں لیکن مشتری بھی موجود ہے۔وہ زحل کا ’’باغی‘‘ بیٹا شمار ہوتا ہے۔ نظم وضبط کا تقاضہ کرتا زحل اسے بآسانی قابو میں نہیں لاسکتا۔عوام کا حاکم شمار ہوتے دلو میں اس کی موجودگی بلکہ زحل کو مزید ’’کمزور‘‘ بنادیتی ہے۔مشتری کی ’’باغیانہ‘‘ روش کو غالباََ ’’تقویت‘‘ فراہم کرنے کے لئے برج دلو میں عطارد نامی سیارہ بھی داخل ہوجائے گا۔اسے ’’ابلاغ کا حاکم‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔اس وصف کو نگاہ میں رکھتے ہوئے باور کیاجارہا ہے کہ برج دلو میں داخل ہونے کے بعد عطارد روایتی اور سوشل میڈیا کوسچی یا جھوٹی خبروں کے سیلاب کے ذریعے زحل کو مزید للکارنے پراُکسائے گا۔6جنوری 2021سے لہٰذا عوام اور حکمرانوں کے مابین شدید بدگمانیاں نمودار ہونا شروع ہوجائیں گی۔ ’’شک شبے‘‘ کے اس موسم میں نفرتوں کو بھڑکانے اور ثور میں داخل ہوکر ’’بیدار‘‘ ہونے والا مریخ بدگمانیوں کی بنیاد پر اُٹھے ہیجان کو دو آتشہ بنادے گا۔

20جنوری 2021میں مریخ برج ثور ہی میں پہلے سے موجود یورینس کے بہت قریب آجائے گا۔اس ملاپ کی بدولت کوئی ’’انہونی‘‘ رونما ہوگی جس کا اثر ا ٓئندہ 20برسوں تک جاری رہے گا۔امریکہ میں نائن الیون ہوا تو ان دنوں ستاروں کی تقریباََ ویسی ہی صورتحال تھی۔1980کی دہائی میں سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت ایسے ہی ’زائچے‘‘ کی وجہ سے رونما ہوئی بتائی جارہی ہے۔نجومیوں کی اکثریت اصرار کررہی ہے کہ 20جنوری 2021کے روز یا اس سے چند دن قبل یا بعد نائن الیون یا افغانستان میں روسی افواج کے درآنے جیسا کوئی غیر معمولی واقعہ ہوگا جو تمام عالم کو ہلا کررکھ دے گا۔

6جنوری 2021سے 20جنوری تک کے ایام لہٰذا نہایت ’’کڑے‘‘‘ بتائے جارے ہیں۔کسی بھی برج سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے اس کے اثرات سے بچنا ’’ناممکن‘‘بتایا جارہا ہے۔ نجومیوں کا مشورہ فقط اتنا ہے کہ 6اور 20جنوری 2021کے درمیانی ایام میں نہایت محتاط رہا جائے ۔جو ’’خبر‘‘ آپ کے علم میں آئے اس کے بارے میں فوری ردعمل سے گریز کریں۔انتہائی ’’نیویں نیویں‘‘ رہتے ہوئے جنوری 2021کے اختتام کا انتظار کریں۔’’اچھی خبریں‘‘ اور واقعات آئندہ مہینے کے وسط سے نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔4مارچ 2021کے بعد سے تاہم ’’ستے خیراں‘‘ کا موسم شروع ہوجائے گا۔

علم نجوم کی بابت کامل اتائی ہوتے ہوئے میری ’’تحقیق‘‘ نے جو د ریافت کیا اسے ہو بہو آپ تک پہنچانے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ رزق کی محتاجی کی بنیاد پر روزانہ کالم لکھنے کو مجبور ’’صحافی‘‘ہوتے ہوئے میں 6سے 20جنوری 2021کے درمیانی ایام کیسے گزاروں۔ہفتے میں پانچ دن یہ کالم لکھنا ہوتا ہے۔اسے لکھتے ہوئے خواہ مخواہ کے ’’پنگوں‘‘ سے گریز کیسے کروں؟!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *