نیا وزیراعظم او ر اصلاحاتی ایجنڈا

(حزیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق، عبدالروف شکوری)

پاکستان کو گورننس کے تمام شعبوں کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات درکارہیں۔ تاہم، سب سے اہم اور فوری سیاسی استحکام ہے، اور پاکستان کے 23 ویں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو درپیش اہم چیلنج یہی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 174 اراکین کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعدوزیر اعظم محمد شبہاز شریف نے حلف اٹھانے سے پہلے متعدد وعدے کیے۔ یہ اقدامات گورننس کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی بجائے محض ہنگامی نوعیت کے تھے۔ اس مضمون میں چند اہم پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو فوری توجہ کے متقاضی ہیں:
پبلک فنانس میں شفافیت لانے اور مالیاتی جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا بہترین طریقہ مرکزی اینٹی کرائم ایجنسی کا قیام ہے جیسا کہ بارہ مئی 2021ء”گلوبل ویلیج سپیس“ میں مضمون ”بدعنوانی کا خاتمہ: چین سے حاصل کردہ سبق“ اس موضوع کو اجاگر کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ٹیکس چوروں سے، اور اپنی صفوں میں ان افراد سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے جو اپنے اعلانیہ وسائل سے بڑھ کر زندگی گزارتے ہیں۔
پارٹیوں کو بھی اندھی شخصیت پرستی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے، خاص طور پر سیاسی کلٹ سے جس میں ایک آدمی پوری پارٹی کو کنٹرول کرتا ہے۔ ایک بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اسے پارٹی کی سربراہی نہیں کرنی چاہیے۔ ابھی تک کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت کے اس بنیادی اصول پر عمل نہیں کر رہی کہ پارٹی کی قیادت کرنے اور ریاستی امورچلانے کو الگ کرنا ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ اس علیحدگی کے ساتھ پارٹی حکومت کا احتساب کرے۔
آئین کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی پارٹی انتخابات نہیں کروا رہی جیسا کہ دنیا کی حقیقی جمہوریت میں ہوتا ہے۔ یہ وہ اہم شعبہ ہے جہاں ہمیں اقتصادی بحالی کی بات کرنے سے پہلے توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ آمریت ہمارے سیاسی کلچر میں نمایاں ہوتی جارہی ہے۔
کسی کو بھی ناگزیر نہیں ہونا چاہئے۔ افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔عوام کی فلاح و بہبود، اداروں کی موثر کارکردگی اور قانون کی حکمرانی کا نفاذ اہم ہے۔ سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت، سب کا احتساب اور آئین کی بالادستی ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ سیاس جماعت کو نہ صرف اداروں کے بیرونی اثر سے بچایا جائے بلکہ دولت رکھنے والوں کو پارٹی کو کنٹرول کرنے سے روکا جائے۔
وقت آگیا ہے جب تمام اداروں کی اصلاح ہو اور پاکستان کی معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے لیے اچھے برے وقت کے قابل اعتماد دوست، چین آٹھ مئی 2021 ء کے بیانیے سے حاصل کردہ روڈ میپ پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ دیکھا جاسکے کہ ہم 70 سالہ طویل دوستانہ تعلقات اور پاک چین اقتصادی راہ داری اور بلیٹ اینڈ روڈ منصوبے کی اہمیت کاجشن مناتے ہوئے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
شکیل احمد رامے کا گیارہ اپریل 2022 ء کو ”دی نیوز“ میں شائع ہونے والا مضمون،”فکسنگ دی اکانومی اینڈ سی پیک“ معیشت اور سی پیک کے مسائل حل کرنے کے لیے بہت سے عملی حل تجویز کرتاہے۔اس کا مندرجہ ذیل پیراگراف قابل ذکر ہے:
”آخرمیں، حکمران اشرافیہ، نئی حکومت اور جماعتوں کو چار شعبوں پر کام کرنا ہوگا، جو کہ سی پیک تعاون کو کامیاب بنانے کے لیے پیشگی شرط ہے۔ سب سے پہلے حکمران اشرافیہ کو گھر کو ٹھیک کرنا،اور سیاسی قیادت کو اشرافیہ کی ذہنیت سے نکلنا ہوگا۔ دوسرا، حکومت کو فوری طور پر سی پیک کی پالیسی وضع کرنی ہوگی اور زرعی پالیسی میں تعاون کرنا ہوگا۔تیسرا، خود کو ”پاک چین بھائی بھائی“ کا چمپئن ظاہر کرنے کے لیے کوئی سیاسی کھیل یا پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے کیوں کہہ چین سیاسی جماعتوں یا افراد کی پروانہیں کرتا، چین کو صرف پاکستان کی ریاست اور پاکستانی عوام کی پرواہے۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بطور خاص یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس محاذ پر اپنی ذات کو نمایاں کرکے پیش کرنے سے گریز کریں۔
پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تمام سیاسی جماعتوں کواگلے انتخابات سے پہلے قومی اصلاحات کا ایجنڈا وضع کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں قومی بحث کے لیے اہم نکات یہ ہو سکتے ہیں:
1۔ نئے صوبے کا قیام عمل میں لانا۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ تخلیق کیا جائے جس کے لیے آئینی ترمیمی بل پہلے ہی قومی اسمبلی میں چوبیس مارچ 2022 ء کو پیش کیا جاچکا ہے۔
2۔ کراچی کو وفاقی علاقے کا درجہ دینا تاکہ یہ درکار فنڈاور بہتری انتظامیہ سے مستفید ہوچکے۔
3۔ قانونی چارہ جوئی کی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے نظام انصاف اور انتظامیہ اور گورننس کے امور میں بنیادی اصلاحات کرنا، اور تمام اداروں کی کارکردگی اور جواب دہی کے عمل کو موثر بنانا۔
4۔ جہالت اور ناخواندگی کے خاتمے کے لیے تعلیمی نظام کی اصلاح اور لوگوں کو کاغذی ڈگریاں اور ڈپلومے تقسیم کرنے کی بجائے ہنر مند بنانا۔ تعلیم کا مرکزی نقطہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہو جو روادار، نظم و ضبط پر عمل پیرا، شائستہ اور باشعور ہو نے ساتھ ساتھ اختراعات اور تکنیکی ترقی سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا کے ساتھ چلنے کے قابل ہو۔
5۔ سینیٹ کے براہ راست انتخابات کا انعقاد اور اسے منی بل پر ووٹ دینے کا اختیار دینا۔
6۔ مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریوں کے لیے مرکز کے کنٹرول سے الگ کرنا۔ تعلیم، صحت، رہائش، مقامی پولیسنگ، اور تمام شہری سہولیات مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کے ذریعے فراہم کی جانی چاہئیں جن کے پاس ان مقاصد کے لیے ٹیکس لگانے کا اختیار ہو۔
7۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر سطح پر حکومتوں میں شفافیت اور جواب دہی کے عمل کو نافذ کرنا تاکہ شہریوں کو قومی یک جہتی کے عمل کو سمجھنے اور اس میں مکمل طور پر حصہ لینے کے قابل بنایا جا سکے۔
8۔ سول سروسز میں اصلاحات لانا، اور سرکاری افسران کے موثر اور بلاامتیاز احتساب کو یقینی بنانا۔
9۔ قانون کے نفاذ کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، تعصب، عدم برداشت اور تشدد کو ختم کرنا اور زندگی اور انسانیت کی اعلیٰ اقدار پر مبنی معاشرے کی سماجی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا۔
10۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ، قومی دولت کی لوٹ مار، قرضوں کی سیاسی معافی اور محصولات کی وصولیوں میں خورد برد کو روکنے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ یقینی بنانا۔
11۔ قرضوں کے جال اور کشکول کو توڑنے کے لیے طویل المدتی اور قلیل مدتی حکمت عملی وضع کرنا، پاکستان کو خود انحصار معیشت بنانا اور تمام شہریوں کے لیے سماجی تحفظ اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا۔
12۔ سرکاری مالیاتی شعبے میں اصلاحات، اور موثر کارکردگی کے سرکاری اخراجات میں شفافیت لانا۔
13۔ فضول، غیر ترقیاتی اخراجات کو کنٹرول کرنا۔
14۔ عوامی مالیات کی تکنیکی، ادارہ جاتی اور تنظیمی جہتوں کی اصلاح کرنا۔
15۔ بدعنوانی سے پاک انتظامی اور عدالتی ڈھانچے اور گڈ گورننس کو یقینی بنانا۔
16۔ وفاقی حکومت صرف انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرے۔ اشیاء اور خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصول صوبوں کا استحقائق ہو۔ تمام وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکس ایک ایجنسی (نیشنل ٹیکس اتھارٹی) کے ذریعے جمع کیے جائیں جو تمام شہریوں کو پنشن اور دیگر سماجی تحفظ کی ادائیگیاں بھی کرے۔
17۔ حد سے زیادہ ٹیکس کی شرحوں کو کم کرنا اور انھیں دنیا، خاص طور پر ایشیا میں ٹیکس کی شرح کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں خاطر خواہ کمی لانا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھاری ٹیکسوں اور دیگر ضوابط کو ختم کرنا جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ٹیکس قوانین اور طریقہ کار کو آسان بنانا۔
پائیڈکے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے”پاکستان 2050 تک ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے“ میں ایک خوشحال پاکستان کے لیے ایک پر امید، مستقبل اور حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ بدقسمتی سے، اس کام کو ابھی تک پالیسی سازوں، قانون سازوں، ماہرین تعلیم، تاجروں اور منتظمین کی طرف سے وہ توجہ نہیں دی گئی ہے جس کا یہ مستحق ہے۔
ہمارے سیاست دان، منتظمین، دانشور اور کاروباری حضرات پاکستان کو درپیش متعدد اور پیچیدہ چیلنجوں کے بارے میں شکایت کرتے رہتے ہیں لیکن مقامی ماہرین کے ذریعہ دستیاب اور قابل عمل حل پر عمل درآمد کرنے کی کوشش شاذ و نادر ہی کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر ہماری اصلاح کریں۔ یہی ہمارا اصل المیہ اور مخمصہ ہے۔
ہمیں عوامی سطح پر اور قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں بحث کے بعد مقامی تحقیق پر مبنی حل کی تعریف اور ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ قائمہ اور خصوصی کمیٹیوں کو مدد کے لیے (اگر ضرورت ہو تو ورچوئل پلیٹ فارم کے ذریعے) ماہرین کو مدعو کرنا چاہیے اور لائیو ٹیلی کاسٹ ہونا چاہیے تاکہ عوام مفید اصلاحات کے لیے قانون سازی کے عمل کو جان سکیں۔