نیم عریاں تصویر کے بعد ریانا پر ہندو دیوتاؤں کی توہین کا الزام

شمالی امریکا کے کیریبین ملک بارباڈوس سے تعلق رکھنے والی معروف پاپ گلوکارہ 32 سالہ ریانا کی جانب سے 16 فروری کو سوشل میڈیا پر اپنی نیم عریاں تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان پر ہندو دیوی اور دیوتاؤں کی توہین کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والی ریانا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک روز قبل اپنی نیم عریاں تصویر شیئر کی تھی۔

گلوکارہ کو تصویر میں خواتین کے زیر جامہ کے لیے اپنے ہی متعارف کرائے گئے (انڈر گارمنٹس) برانڈ ’سویج ایکس فینٹی‘ کا لباس پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تصویر میں جامنی رنگ کا زیر جامہ اور اسی رنگ کا ہار اور جھمکے بھی پہنے ہوئے ہیں۔‎

دعویٰ کیا گیا کہ ہار کے آخر میں بھگوان گنیش جیسے نقوش کا ڈیزائن ہے—اسکرین شاٹ
دعویٰ کیا گیا کہ ہار کے آخر میں بھگوان گنیش جیسے نقوش کا ڈیزائن ہے—اسکرین شاٹ

تصویر میں انہوں نے جو ہار پہن رکھا ہے، اس کے آخر میں ایک ڈیزائن بنا ہے، جس سے متعلق ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے دیوتا ’بھگوان گنیش‘ کا نقش ہے۔

گلوکارہ کی جانب سے مذکورہ تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان کی ٹوئٹ اور انسٹاگرام پوسٹ پر ہزاروں افراد نے کمنٹس کیے اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان پر اپنے دیوی اور دیوتاؤں کی توہین کا الزام عائد کیا۔

اسی حوالے سے بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے بتایا کہ ریانا کی جانب سے تصویر شیئر کیے جانے کے بعد بھارت میں ٹوئٹر پر گلوکارہ کے خلاف مہم شروع کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ریانا کی تصویر پر زیادہ تر افراد نے کمنٹس کرتے ہوئے ان پر ہندو مذہب کی توہین کرنے کا الزام لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ ہندو مذہب ان کے فیشن کے استعمال کے لیے نہیں۔

ریانا پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام بھی لگایا گیا—اسکرین شاٹ
ریانا پر ہندو مذہب کی توہین کا الزام بھی لگایا گیا—اسکرین شاٹ

متعدد افراد نے گلوکارہ کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ وہ ہندو مذہب کے دیوی اور دیوتاؤں کے نقوش کو فیشن کی خوبصورتی کے لیے استعمال نہ کریں۔

اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ریانا کی جانب سے تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ٹوئٹر پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

زیادہ تر بھارتی افراد نے گلوکارہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں نہ تو ہندوستانی ثقافت سے غرض ہے اور نہ ہی انہیں ہندو مذہب کا کوئی احترام ہے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

کئی افراد نے ان پر ہندو مذہب کے دیوی اور دیوتاؤں کے نقوش سے ملتے جلتے نیکلس کو نیم عریاں تصویر کے ساتھ پہننے پر مذہب کی توہین کا الزام بھی عائد کیا اور بعض افراد نے ٹوئٹر سے مطالبہ کیا کہ گلوکارہ کا اکاؤنٹ ہی بند کردیا جائے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

اس سے قبل رواں ماہ فروری کے آغاز میں بھی ریانا کے خلاف بھارت میں اس وقت ہنگامہ شروع ہوگیا تھا جب انہوں نے کئی ماہ سے احتجاج کرنے والے بھارتی کسانوں کے حق میں ایک ٹوئٹ کی تھی۔

بھارتی کسانوں کے حق میں ٹوئٹ کرنے کے بعد ریانا پر پاکستانی ایجنٹ کا الزام لگایا گیا تھا۔

ریانا پر اپنے زیر جامہ برانڈ کی تشہیر کے دوران دوسرے مذاہب کی توہین کا الزام بھی لگتا رہا ہے اور گزشتہ برس اکتوبر میں ان پر مذہب اسلام کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔

ریانا نے اکتوبر 2020 میں اسلام کی توہین کرنے پر معافی بھی مانگی تھی، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیر جامہ برانڈ کے فیشن ویک کے دوران چلائی گئی میوزک میں حدیث مبارک کے الفاظ کو شامل کیا تھا۔

اس سے قبل 2013 میں انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظبی کی ایک مسجد میں اسلامی لباس میں فوٹو شوٹ بھی کروایا تھا، جس پر انہیں مسجد کا احترام نہ کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔

ریانا کا شمار دنیا کی امیر ترین اور بااثر ترین گلوکاراؤں و شوبز شخصیات میں ہوتا ہے، عام طور پر ان کے نام کی وجہ سے بعض لوگ انہیں غلطی سے مسلمان بھی سمجھ لیتے ہیں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

ریانا شمالی امریکا کے جزیرہ نما ملک بارباڈوس میں مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے بچپن میں کافی غربت دیکھی تاہم جوانی میں انہوں نے گلوکاری و ماڈلنگ میں نام کمایا اور اس وقت وہ دنیا کی امیر ترین گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے 2017 میں خواتین کے زیر جامہ (انڈر گارمنٹ) کے برانڈ سویج ایکس فینٹی اور میک اپ برانڈ فینٹی بیوٹی کو متعارف کرایا تھا، جس کے بعد ان کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ریانا کا شمار دنیا کی امیر ترین گلوکاراؤں میں ہوتا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
ریانا کا شمار دنیا کی امیر ترین گلوکاراؤں میں ہوتا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: