نیوزی لینڈ کے بعد برطانیہ اور رمیز راجہ کا ریکارڈ بیان

نیوزی لینڈ نے جس ناقابل یقین انداز میں اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان سے واپس بلوایا وہ دیگر ہم وطنوں کی طرح میرا بھی خون کھولانے کا باعث ہوا۔طیش کے عالم سے باہر نکلنے کے بعد تاہم تھوڑا غور کرنے کو مجبور ہوا۔ جو خیالات ذہن میں آئے ان کا اس کالم میں اظہار بھی کردیا۔اپنی گفتگو اس التجا کے ساتھ ختم کی کہ نیوزی لینڈ کے فیصلے کو بچگانہ ٹھہرانے کے لئے لازمی ہے کہ ہم برطانیہ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کا پاکستان آنا یقینی بنائیں۔برطانیہ کو مگر ہم قائل نہیں کر پائے ہیں۔پیر کے روز اس کے کرکٹ بورڈ نے انتہائی نپے تلے الفاظ میں ہمارے ہاں آنے سے انکار کردیا۔

انگریزی زبان کی گہرائی مجھ لہوری کی گرفت میں اکثر نہیں آتی۔ کئی دہائیوں تک ہمارے حاکم رہے گورے برجستہ اور برملا گفتگو کے عادی نہیں۔کوئی سطر لکھنے سے قبل سوبار سوچتے ہیں۔برطانوی کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان نہ بھیجنے کا اعلان ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا ہے۔میں نے اسے تین سے زیادہ مرتبہ پڑھا۔ کلیدی پیغام یہ ملا کہ برطانیہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نمودار ہوتی دیکھ رہا ہے۔ اس کی جانب سے آیا تحریری پیغام فقط کرکٹ کے کھیل پر ہی اثرانداز نہیں ہوگا۔غیر ملکی سرمایہ کار بھی اس کی وجہ سے بددل ہوں گے۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے گفتگو کے بعد عمران خان صاحب برطانوی وزیر اعظم سے فوری رابطے کی راہ نکالتے۔وہ کرکٹ کے شہرئہ آفاق کھلاڑی رہے ہیں۔ان کی پہلی شادی برطانیہ کی اشرافیہ کے ایک مشہور خاندان میں ہوئی تھی۔ مجھے کامل یقین ہے کہ انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کے کئی مؤثر اراکین سے ان کی دوستی رہی ہوگی۔اپنے دیرینہ تعلقات کو انہیں یہ کھوج لگانے کے لئے ہر صورت استعمال کرنا چاہیے تھا کہ ’’پانچ آنکھیں‘‘ نامی تنظیم کے اراکین کن اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان میں دہشت گردی کے احیا کے خوف میں مبتلا ہورہے ہیں۔ان کے بتائے خدشات ہمارے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے روبرو رکھے جاتے۔

میں ذاتی طورپر امریکہ اور برطانیہ کی انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر تصور کئے خدشات کو حرفِ آخر نہیں سمجھتا۔ اس ضمن میں اپنے ذہن میں موجود واقعات بیان کرنا شروع ہوگیا تو اس کالم کی مزید کئی قسطیں لکھنا ہوں گی۔بات کو مختصر کرنے کے لئے حال ہی میں ہوا ایک واقعہ یاد کرلیتے ہیں۔

طالبان کی افغانستان میں فاتحانہ واپسی کے بعد کابل ایئرپورٹ کے گرد خوفزدہ افغان شہریوں کے ہجوم جمع شروع ہوگئے۔وہ اپنا ملک چھوڑنے کو بے چین تھے۔ایسے ہی ایک ہجوم پر خودکش حملہ ہوا جس کی وجہ سے چند امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔امریکہ نے اس حملے کے ذمہ دار افراد کو ڈھونڈ لینے کا دعویٰ کیا۔ڈرون طیاروں کے ذریعے پھینکے میزائلوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوا۔

کابل کے ایک محلے میں لیکن جس گاڑی اور گھر پر حملہ ہوا ان میں موجود افراد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سات معصوم بچے بھی اس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ اپنے ملک کو فراہم ہوئی بے بنیاد اطلاع کو بے نقاب امریکہ ہی کے ایک مؤثر اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے صفحہ اوّل پر چھاپی ایک خبر کے ذریعے کیا۔نیویارک ٹائمز کی تحقیق کو غداری ٹھہرانے کے بجائے امریکی فوج کا سربراہ بالآخر غلطی تسلیم کرنے اور اس کی بابت ندامت کے اظہار کو مجبور ہوا۔برطانیہ کے وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم سفارت کارانہ زبان میں یہ سوال اٹھاسکتے تھے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے احیا کے امکانات کو روشن بتانے والی اطلاعات کہیں ویسی تو نہیں جو کابل کے دس بے گناہ باسیوں کی ہلاکت کا سبب ہوئیں۔مجوزہ پیش قدمی سے مگر گریز کو ترجیح دی گئی اور برطانیہ نے بھی نیوزی لینڈ کی طرح اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا۔

مان لیتے ہیں کہ افغانستان سے ذلت آمیز واپسی کی خفت مٹانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر بدنام کرنا چاہ رہے ہیں۔کرکٹ کا کھیل مگر برطانیہ ہی میں ایجاد ہوا تھا اور یہ فقط ان ممالک میں مقبول ہوا جہاں برطانوی سامراج نے کئی برسوں تک راج کیا۔یورپ اور امریکہ اس کھیل کو مضحکہ خیز عجوبہ شمار کرتے ہیں۔وقت کا زیاں سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں ایسے میچ بھی ہوتے ہیں جن میں پانچ دنوں کے بعد بھی ہارجیت کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔

کرکٹ کو گرم جوشی اور ڈرامائی رونق فراہم کرنے کے لئے پہلے ون ڈے اور بعدازاں T-20متعارف ہوئے ۔T-20والا فارمیٹ ٹی وی پر رونق لگاتے نسخوں کے عین مطابق ہے۔اس کے تحت ہوئے میچ بے پناہ تماشائی گھروں میں بیٹھ کر براہ راست دیکھتے ہیں۔ناظرین کی متاثر کن تعداد اشتہاری کمپنیوں کو خطیر سرمایہ کاری کو مجبور کرتی ہے۔

کرکٹ کے مشہور پاکستانی کھلاڑیوں کو دنیا بھر میں پھیلے ان کے مداحین میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔عمران خان صاحب کی اساطیری شہرت کی کلیدی وجہ بھی یہ کھیل ہی تھا۔پاکستان کو بین الاقوامی کرکٹ سے پرے رکھنا اس کھیل سے وابستہ دھندے کے اجارہ داروں کے لئے ہر حوالے سے گھاٹے کا سودا ہے۔برطانیہ نے بھی خالصتاََ معاشی وجوہات کی بنا پر اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے سے قبل سوبار سوچاہوگا۔ ہمیں ان وجوہات کا ٹھنڈے ذہن سے کھوج لگانا ہوگا۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی سازش ڈھونڈ کر اس کی بابت واویلا ہمارے طیش کا اظہار تو ہوسکتا ہے مگر مسئلہ کا ٹھوس حل فراہم نہیں کرتا۔

کرکٹ کے کھیل سے میں قطعی نابلد ہوں۔سفارت کاری کا مگر سنجیدہ طالب علم ہوں۔پراپیگنڈہ کی مبادیات سے بھی بطور صحافی تھوڑی آگہی کا حامل ہوں۔رمیز راجہ صاحب سے میری ہرگز شناسائی نہیں۔دیانت داری سے مگر یہ محسوس کرتا ہوں کہ برطانوی بورڈ کی پریس ریلیز کے جواب میں ا نہیں غصہ بھرا پیغام کیمرے کے روبرو ریکارڈ نہیں کروانا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سفارت کاری کے ہنر سے مالامال افراد سے درخواست کرتا کہ وہ برطانوی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہوئے بیان کا تحریری جواب تیار کریں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے زبانی مگر ریکارڈ شدہ پیغام کے بجائے وہ تحریری جواب میڈیا کے حوالے کردیا جاتا۔

مجھے خبر نہیں کہ طالبان کرکٹ کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔وہ اگر اس کھیل کو گوارہ کرتے ہیں تو افغانستان اور پاکستان کے مابین کرکٹ مقابلوں کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔کابل،قندھار اور جلال آباد میں پاکستانی کھلاڑی افغان کرکٹ ٹیم کے ساتھ T-20والا میچ کھیل رہے ہوں تو انہیں دیکھنے ہزاروں تماشائی آسکتے ہیں۔ایسے میچ کی بھرپور ٹی وی کوریج دنیا کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ فقط پاکستان ہی نہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل جنگوں کی زد میں رہا افغانستان بھی طالبان کی اس ملک میں واپسی کے بعد متاثر کن حد تک پرامن ملک بن رہا ہے۔پاکستان کو بدنام کرنے کی مبینہ یا حقیقی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں تخلیقی راستے ڈھونڈنا ہوں گے۔طیش سے بھرے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پیغامات اس ضمن میں کسی کام نہیں آئیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *