نیٹ فلکس: تین منٹ میں سٹریمنگ سروس پر موجود تمام مواد ڈاؤن لوڈ کرنا کیسے ممکن ہے؟

ذرا تصور کریں کہ آپ نیٹ فلکس پر موجود تمام مواد کو ڈاؤن لوڈ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس ایسا کرنے کے لیے اپنے کمپیوٹر پر کافی جگہ ہے۔ آپ کے خیال میں اس میں کتنی دیر لگے گی؟

سنگاپور میں، جہاں گھریلو صارفین کے لیے دنیا کا تیز ترین انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے، کسی صارف کو نیٹ فلیکس کے سارے مواد کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں 4 سال، 4 ماہ اور 24 دن لگیں گے، جو کہ 3،600 ٹیرا بائٹس (ٹی بی) کے قریب ہو گا۔

برازیل کے محقق اور ڈاکٹر ڈینیئل فرنینڈس ماسیڈو کہتے ہیں کہ برازیل جیسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ کنکشن ذرا سادہ ہے وہاں آپ کو 14 سال، 9 ماہ اور 18 دن انتظار کرنا پڑے گا۔

لیکن اگر انجینیئر لڈیا گالڈینو کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے تو یہ کام صرف تین منٹ میں ہو جائے گا!

یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے محققین کے ایک گروپ نے، جس میں گالڈینو بھی شامل ہیں، انٹرنیٹ پر تیز رفتار ڈیٹا کی منتقلی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

انھوں نے ایک تجربے کے دوران 178 ٹیرا بائٹس (ٹی بی) فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا گیا جو کہ جاپان کے 150 ٹی بی پی ایس کے ریکارڈ سے 20 فیصد زیادہ ہے۔

عام سیل فون کی سپیڈ اس ریکارڈ سے لاکھوں گنا کم ہے
،تصویر کا کیپشنعام سیل فون کی سپیڈ اس ریکارڈ سے لاکھوں گنا کم ہے

یہ ان کے اپنے ملک برازیل کے گھریلو کنکشن کی اوسط رفتار سے 26 لاکھ گنا زیادہ ہے جو کہ 67.8 میگا بائٹس (ایم بی) فی سیکنڈ ہوتی ہے۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں گھریلو انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری آئی ہے، لیکن پھر بھی اس طرح کے انتہائی تیز رفتار کنکشنز ابھی عام عوام کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔

اور اگرچہ سیل فون کی فائیو جی ٹیکنالوجی ایک اچھی پیش رفت ہے لیکن یہ رفتار اس کے قریب بھی نہیں ہے۔

ریکارڈ کس طرح بنا؟

بی بی سی برازیل کو انٹرویو دیتے ہوئے گالڈینو نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر معلومات فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے روشنی کی دھڑکنوں سے منتقل کی جاتی ہیں۔

روشنی کی مختلف فریکوینسیز ٹرانسمیشن کے دوران طاقت کم پڑ جاتی جسے جنریشن لاس کہتے ہیں، جس کے لیے آپٹیکل ایمپلیفائرز (ریپیٹرز) درکار ہوتے ہیں، جنھیں کیبل لائینوں میں 40 سے 100 کلومیٹر کے وقفوں پر انسٹال کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’عالمی فائبر آپٹک انفراسٹریکچر انٹرنیٹ پر 95 فیصد سے زیادہ ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔ گذشتہ 15 برسوں میں اس ٹریفک میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘

گالڈینو کہتے ہیں کہ اس کام کو سمجھنے میں آسانی کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک شاہراہ ہے جس کی مختلف لینز ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ایک کسی فریکوئینسی چینل (رنگ) کی نمائندگی کرتی ہے، جو معلومات منتقل کرتی ہے۔ اس کی معلومات (بٹس) کاریں ہیں جو ہر بینڈ میں منتقل ہوتی ہیں۔‘

ہزاروں میل تک پھیلی ہوئی آپٹک فائبر کیبلز پوری دنیا میں انٹرنیٹ پہنچاتی ہیں
،تصویر کا کیپشنہزاروں میل تک پھیلی ہوئی آپٹک فائبر کیبلز پوری دنیا میں انٹرنیٹ پہنچاتی ہیں

’ہم نے اپنی تحقیق میں الگورتھم تیار کیے جنھوں نے ہمیں ہر ایک میں ان کاروں کی زیادہ سے زیادہ فرضی رفتار تک پہنچنے کی اجازت دی۔ اور ہم نے مختلف ریپیٹر ٹیکنالوجی بنائیں جن کی وجہ سے ہم سڑک پر لینز کی تعداد کو دوگنا کر سکے۔‘

سو اس طرح ہم 178 ٹی بی پی ایس کا ریکارڈ بنا سکے۔

انٹرنیٹ کے دل میں

گالڈینو کے کام کا اطلاق انٹرنیٹ کے مرکزی ڈھانچے پر ہوتا ہے، جہاں زیادہ تر ڈیٹا پہنچتا ہے، لہذا قلیل مدت کے لیے وہ گھریلو یا موبائل اپلیکیشن نہیں بنا پائیں گے۔

لیکن یہ دنیا کی تکنیکی ترقی کے لیے اہم ہے۔ برازیل کے انجینیئر کہتے ہیں کہ بیک وقت ہر جگہ موجود رہنے والا، اعلیٰ صلاحیت کا حامل براڈ بینڈ کمیونیکیشنز انفرسٹرکچر معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، کیونکہ بقول ان کے ’ہم ایک ڈیجیٹل معاشرے میں رہتے ہیں۔‘

اس کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کا اثر فائیو جی انٹرنیٹ پر بھی پڑسکتا ہے، جسے عالمی سطح پر قبول کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’فائیو جی موبائل نیٹ ورکس عالمی فائبر آپٹک کیبل انفراسٹرکچر کو نمایاں طور پر متاثر کریں گے، کیونکہ ان کی کارکردگی کے اہداف بنیادی طور پر ان بڑی مقدار میں دستیابی پر منحصر ہیں۔‘

لہذا فائبر آپٹک نیٹ ورکس میں تیز تر ٹرانسمیشن سپیڈ فائیو جی نیٹ ورکس کے لیے ضروری ہے جو ایپلی کیشنز استعمال کرتی ہیں جن میں بڑی مقدار میں ڈیٹا استعمال ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *