نیپالی کوہ پیماؤں کا کم ترین وقت میں 'کےٹو' سر کرنے کا عالمی ریکارڈ

2 نیپالی کوہ پیماؤں نے (8 ہزار 611 میٹراونچی) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ کو 15 گھنٹے سے بھی کم وقت میں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

 رپورٹ کے مطابق تیسرنگ شیرپا نے بیس کیمپ سے 12 گھنٹے 20 منٹ میں چوٹی سر کی جب کہ منگما ڈیوڈ شیرپا نے 14 گھنٹے 22 منٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

تسیرنگ شیرپا نے بدھ کی شام 4 بج کر 30 منٹ پر چوٹی کی جانب اپنا سفر شروع کیا اور جمعرات کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر انہوں نے چوٹی کو سر کرلیا، انہوں نے چوٹی کی جانب سفر شروع کرنے اور بیس کیمپ تک واپس آنے کا کارنامہ مجموعی طور پر 20 گھنٹے اور 18 منٹ میں سر انجام دیا۔

امیجن نیپال مہم جو ٹیم کے رہنما منگما جی شیرپا نے سیٹلائٹ کے ذریعے ڈان کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کوہ پیما نے 12 گھنٹے میں قدرت کے شاہکار پہاڑ ‘کے ٹو’ کو سر کیا ہے۔

امیجن نیپال کی ٹیم سے تعلق رکھنے والے تسیرنگ شیرپا نے 9 اپریل کو 8 ہزار 167 میٹر بلند چوٹی دھولاگیری ، 7 مئی کو 8 ہزار 586 میٹر بلند چوٹی کنچن جنگا، 16 مئی کو 8 ہزا 848 میٹردنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا، انہوں نے تیسری مرتبہ ‘کے ٹو’سر کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

منگما شیرپا نے مزید بتایا کہ ٹیم کے 3 دیگر کوہ پیماؤں پاسنگ نامگل، پیمبا شیرپا اور جیت بہادر شیرپا نے بھی جمعرات کی صبح ‘کے ٹو’ کو سر کیا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں لیجنڈری کوہ پیما نرمل پرجا نے لکھا کہ میرے بھائی منگما ڈیوڈ شیرپا کو 5ویں بار 'خوفناک پہاڑ' کو سر کرنے پر بہت بہت مبارکباد، وہ ایسا کرنے والے دنیا کے واحد انسان ہیں، انہوں نے بیس کیمپ سے ‘کے ٹو’ کو سر کے دوران میں صرف 14 گھنٹے اور 22 منٹ کا وقت صرف کیا۔

اس علاوہ، سمٹ قراقرم کے سخاوت حسین نے ڈان کو بتایا کہ 2 خواتین کوہ پیماؤں نے بھی ‘کے ٹو’ کو سر کیا، خواتین میں تائیوان سے تعلق رکھنے والی فش ٹرائی اور نیپال سے تعلق روکھنے والی داوا نوپو شامل تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سمٹ قراقرم کے 8کوہ پیماؤں نے، جن میں تائیوان، ناروے اور نیپال کی خواتین کوہ پیماؤں نے جمعرات کی صبح براڈ پیک (8 ہزار51 میٹر بلند) کو سر کیا۔

اس کے علاوہ، تائیوان ، ناروے اور نیپال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں نے بھی چوٹی کو سر جب کہ سمٹ قراقرم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، تائیوان سے تعلق رکھنے والی تسینگ کو ارھ نے سپلیمنٹری آکسیجن کے بغیر پہاڑ کو سر کیا۔

جمعرات کے روز ایک 12 رکنی ایس ایس ٹی ایکسپیڈیشن ٹیم نے بھی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔

کوہ پیماؤں کی اس ٹیم میں یوکرین ، برطانیہ، میکسیکو، نیپال اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے مہم جو شامل تھے۔

مزید برآں، ایس ایس ٹی ایکسپیڈیشن ٹیم کے 3 کوہ پیماؤں نے، نے جمعرات کو گاشربرم-2 (8ہزار348 میٹر بلند) چوٹی کو سر کیا۔

مجموعی طور پر 19 کوہ پیماؤں نے ‘کے ٹو’، 8 نے براڈ پیک اور 3 نے گاشربرم-2 پہاڑیوں کو سر کیا۔

error: