نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں ایک روپے فی یونٹ اضافے کی اجازت دے دی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سابق واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے بجلی کے نرخوں میں 1.114 روپے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس سے تقریباً 17 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

 رپورٹ کے مطابق ستمبر میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے ماہانہ فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی وجہ سے اس اضافے کی اجازت دی گئی اور موجودہ بلنگ ماہ (دسمبر) میں صارفین سے اسے وصول کیا جائے گی۔

ٹیرف میں اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین جو ہر ماہ 50 یونٹ تک استعمال کرتے ہیں، کے علاوہ تمام صارفین پر ہوگا۔ ریگولیٹر نے 29 اکتوبر کو اس موضوع پر عوامی سماعت کی تھی اور فرنس آئل اور ڈیزل پر مبنی مہنگی بجلی پیدا کرنے کے جواز پر سوال اٹھایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ریکارڈ اور اعداد و شمار کے مفصل جائزے کے بعد اپنے فیصلے کا اعلان کریں گے جبکہ ڈسکوز نے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 1.36 روپے اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

پیر کو جاری کردہ اپنے احکامات میں نیپرا نے کہا کہ پہلے کام کرنے والے کچھ موثر پاور پلانٹس کا مکمل استعمال نہیں کیا اور اس کے بجائے مہنگے ایندھن آر ایف او اور ایچ ایس ڈی (ہائی اسپیڈ ڈیزل) پر مبنی پاور پلانٹس سے بجلی تیار کی گئی۔

اس میں ستمبر 2020 کے مہینے میں آر ایف او کی مد میں 9 ارب 49 کروڑ روپے اور ایچ ایس ڈی پر مبنی بجلی گھروں سے 3 ارب 30 کروڑ روپے شامل تھے۔

ریگولیٹر نے نوٹ کیا کہ اگر یہ بجلی دیگر سستے ذرائع جیسے آر ایل این جی (ریگیسیفائڈ لیکوئیفائڈ نیچرل گیس) یا کوئلے سے پیدا ہوتی تو اس کے نتیجے میں مرکزی بجلی کی خریداری کرنے والی ایجنسی (سی پی پی اے) کی دعوہ کی گئی ایندھن کی لاگت میں کمی واقع ہوتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 'ریگولیٹر نیشنل پاور کنٹرول سینٹر / نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این پی سی سی / این ٹی ڈی سی) اور سی پی پی اے کو بار بار ہدایت کررہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مکمل جواز فراہم کرے اور ریگولیٹر کے اطمینان کے لیے اور معاشی میرٹ آرڈر (ای ایم او) سے انحراف کے لیے مکمل تفصیلات جمع کروائے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ اگرچہ این پی سی سی / این ٹی ڈی سی نے آر ایف او اینڈ ایچ ایس ڈی پر چلنے والے پلانٹوں کی تفصیلات اس کی وجوہات کے ساتھ فراہم کیں لیکن ای ایم او انحراف کے مالی اثرات پر قابو پانے کے لیے ریگولیٹر نے اپنے جائزے کا کام انجام دیا۔

اس تشخیص میں ای ایم او کی انحراف کی وجہ سے مجموعی دعوے سے 2 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم کاٹی جاسکتی تھی لہذا ریگولیٹر نے فیصلہ کیا کہ جب تک این پی سی سی / این ٹی ڈی سی اور سی پی پی اے-جی مکمل جواز کے ساتھ مکمل تفصیلات فراہم نہ کریں تب تک فیول ایڈجسٹمنٹ میں مذکورہ رقم کی اجازت نہ دیں۔