نیہا راجپوت اور شہباز تاثیر رشتہ ازدواج میں منسلک

ماڈل نیہا راجپوت نے سابق گورنر پنجاب مقتول سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

دونوں کا نکاح 24 ستمبر بروز جمعے کو ہوا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

شادی کی تقریب میں شہباز تاثیر نے سفید کرتا پاجامہ کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہنا جبکہ نیہا راجپوت نے گرے رنگ کا دیدہ زیب عروسی زیب تن کیا۔

ان کی شادی کی تقریب میں اہلخانہ، قریبی دوست اور رشتے دار شریک ہوئے۔

نیہا راجپوت اور سلمان تاثیر کی شادی کے حوالے سے گزشتہ ایک ہفتے سے چہ مگوئیاں تھی اور گزشتہ روز انہوں نے اپنی مایوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرکے ان کی تصدیق کی تھی۔

نیہا راجپوت اور شہباز تاثیر کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات تھے اور رواں برس مئی میں دونوں کو میڈیا کے سامنے بھی سرعام ملتے دیکھا گیا اور اسی وقت سے ہی ان کی شادی کی چہ مگوئیاں شروع ہوئی تھیں۔

نیہا راجپوت نے 2016 میں اداکاری کا آغاز کیا، اس سے قبل وہ ماڈلنگ کرتی تھیں، ان کی پرورش یورپی ملک یوکرین میں ہوئی ہے، کیوں کہ ان کی والدہ کا تعلق وہیں سے ہے۔

نیہا راجپوت کے والد کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے پاکستان منتقل ہونے کے بعد وہیں سے ماڈلنگ و اداکاری کا آغاز کیا۔

شہباز تاثیر کی یہ دوسری شادی ہے، اس سے قبل انہوں نے فیشن ڈیزائنر ماہین غنی سے 2010 میں شادی کی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔

شہباز تاثیر کی سابق اہلیہ ماہین غنی نے دسمبر 2019 کے آخر میں ایک ٹوئٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی تھی اور اپنی متعدد ٹوئٹس میں انہوں نے گھریلو ناچاقی پر بھی کھل کر بات کی تھی۔

انہوں نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں تشدد، ناروا سلوک اور شادی کے آخری سالوں کو بدترین بھی قرار دیا تھا لیکن انہوں نے شوہر کا نام لکھ کر ان پر براہ راست تشدد اور استحصال کا الزام نہیں لگایا تھا۔

شہباز تاثیر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے ہیں، جنہیں جنوری 2011 میں قتل کیا گیا تھا، والد کے قتل کے 7 ماہ بعد انہیں اگست 2011 میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اغوا کیا گیا تھا۔

شہباز تاثیر تقریباً 5 سال تک مغویوں پاس افغانستان میں رہے تھے، جس کے بعد مارچ 2016 میں انہیں بازیاب کروایا گیا تھا۔

شہباز تاثیر نے اپنی دوسری شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی تصویر یا ویڈیو شیئر نہیں کی۔

شہباز تاثیر نے پہلی شادی ماہین غنی سے 2010 میں کی تھی اور ان کی طلاق 2019 میں ہوئی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *