وائرس سے ہلاک افراد کو خراج عقیدت، چین میں 3 منٹ کی خاموشی

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شہریوں اور طبی عملے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پورے ملک میں 3 منٹ تک خاموشی اختیار کی گئی۔

خبررساں ادارے اےایف پی کے مطابق پورے چین میں صبح 10 بجے تمام شہریوں نے اپنے امور روک کر وائرس سے ہلاک افراد کی یاد میں خاموشی اختیار کی۔

علاوہ ازیں کاروں، ٹرین، بحری جہازوں اور ایئر ریڈ نے سائرن بجا ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا۔

سڑکوں پر موجود شہری نے خاموشی اختیار کی اور سائرن اور ہارن بجائے گئے۔

تونگجی ہسپتال کی مرکزی بلڈنگ کے سامنے طبی عملے نے اپنے سرخم کیے۔

چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق چین کے صدر اور دیگر حکومتی حکام نے بیجنگ کی سرکاری بلڈنگ کے سامنے کھڑے ہوکر وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے ہاتھوں میں سفید پھول تھے۔

دوسری جانب تیانمان اسکوائر میں چین کے قومی پرچم کو نیم سرنگوں کردیا گیا جہاں غیرمعمولی سیکیورٹی کے انتظامات تھے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہسپتال کی نرنس نے کہا کہ ’مجھے ہلاک ہونے والے اپنے ڈاکٹر دوستوں اور مریضوں کا گہرا دکھ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ انہیں جنت میں بہتر مقام ملے گا‘۔

ایک دکان دار نے کہا کہ چین کے طبی عملے میں غیرمعمولی خدمات پیش کی، دراصل وہ ہیرو ہیں اور ہم بطور شہری ان کے لیے یہ دن ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اس وقت جہاں دنیا کے متعدد ممالک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے لاک ڈاؤن کو ختم کیا جار ہا ہے۔

چینی شہر ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2002 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

حکام نے جہاں لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی ہے، وہیں حکام نے ووہان میں عوامی مقامات کو بھی کھولنا شروع کردیا جب کہ ٹرانسپورٹ چلانے کی بھی اجازت دے دی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *