وائٹ ہاؤس کے گرم، سرد رویّے

امریکن سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل انتھونی زینی کی کتاب Battle Ready میں کچھ تفصیلات جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ان کے تعلقات کے حوالے سے بھی ہیں۔ اکتوبر 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت کے استعفے (یا رضاکارانہ ریٹائرمنٹ) کے بعد جنرل پرویز مشرف ان کے جانشین قرار پائے۔ تب وہ منگلا کے کور کمانڈر تھے۔ یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔ نیول کالج لاہور میں جنرل جہانگیر کرامت کے خطاب کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز دی۔ ان کی یہ ذاتی رائے میڈیا کی شہ سرخی بن گئی۔ اپوزیشن اس بات کو لے اڑی۔ وزیر اعظم نے جنرل صاحب سے بات کی تو انہوں نے رضاکارانہ استعفے کی ''پیشکش‘‘ کر دی۔ کہا جاتا ہے، اِن کے جانشین کے طور پر جنرل پرویز مشرف کا نام چودھری نثار علی خاں نے تجویز کیا تھا۔
جنرل زینی کے بقول، پاکستان کے نئے آرمی چیف پینٹاگان کیلئے قطعاً اجنبی تھے۔ وہ جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کیلئے پاکستان آئے اور دونوں میں بڑی تیزی اور آسانی سے قربت پیدا ہو گئی۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات میں پائے جانے والی سرد مہری کے باوجود یہ زبر دست ملاقات تھی۔ رخصتی سے قبل دونوں نے طے کیا کہ باہم قریبی رابطہ رکھیں گے جس کیلئے اپنی رہائش کے ٹیلی فون نمبروں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
12اکتوبر کی فوجی کارروائی کے حوالے سے جنرل زینی کی ہمدردیاں جنرل مشرف کے ساتھ تھیں۔ جنرل زینی کے بقول: سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان کشیدگی عروج کو پہنچ رہی تھی، ایسے میں نواز شریف نے جنرل مشرف کی برطرفی کا اعلان کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ فوج نے جوابی کارروائی کی اور وزیر اعظم کو گرفتار کر لیا۔ وائٹ ہاؤس اس پر خوش نہیں تھا (جنرل پرویز مشرف کے ساتھ صدر کلنٹن کے رویے کی کچھ تفصیل گزشتہ کالم میں بیان ہو چکی) چنانچہ جنرل زینی کو جنرل مشرف کی ساتھ رابطے ختم کرنے کا حکم صادر ہوا جس پر عمل کیا گیا، اگرچہ زینی کے خیال میں یہ احمقانہ حکم تھا۔
امریکی ہر دوسرے سال مصر میں ''برائٹ سٹار‘‘ کے نام سے مشترکہ جنگی مشقیں کرتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشقیں ہوتی ہیں۔ جنرل زینی لکھتے ہیں: میں وزیر دفاع ولیم کوہن کے ساتھ یہ جنگی مشقیں دیکھ رہا تھا جب میرے سیٹلائٹ فون پر جنرل مشرف کی کال آئی۔ میں نے کوہن سے پوچھا: مجھے کیا کرنا چاہئے؟ ''کال لے لو لیکن کوئی وعدہ مت کرنا‘‘ کوہن کا جواب تھا۔ مشرف اسے دوستوں کے درمیان پرسنل کال قرار دے رہے تھے۔ وہ مجھے ان حالات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے جو 12 اکتوبرکی کارروائی کا باعث بنے۔ مشرف نے جو استدلال پیش کیا، وہ زوردار تھا ''ہمارے ہاں جمہوریت کا نام تو تھا لیکن یہ فی الواقع موجود نہ تھی۔ میں جعلی جمہوریت کے بجائے اصلی جمہوریت چاہتا ہوں۔ میں اس کے لیے کوشش کروں گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے‘‘۔ مشرف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں ایک اور چیز بھی واضح کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میری نیت اور ارادوں کے بارے میں دوسرے لوگ کیا سوچتے ہیں۔ میرے لیے اہم چیز یہ ہے کہ آپ میری نیت اور ارادوں سے آگاہ ہوں۔
جنرل زینی نے اس عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشرف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیر دفاع ولیم کوہن کو اس گفتگو کی تفصیل بتائی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ امریکہ کے لیے اس وقت پاکستان سے رابطہ رکھنا جتنا اہم ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ ولیم کوہن یہ بات سمجھ رہے تھے لیکن وہ بھی یہ سمجھتے تھے کہ وائٹ ہاؤس اس پر آمادہ نہ ہو گا۔
دسمبر 1999 میں اردن کی انٹیلی جنس نے ایک سازش پکڑی۔ یہ امریکی سیاحوں کے قتل کا منصوبہ تھا۔ اردنی انٹیلی جنس کے زیرِ حراست ان افراد کا تعلق اسامہ بن لادن کی القاعدہ سے تھا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس منصوبے کے لیڈر پاکستان میں تھے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل سکیورٹی سے زینی کو کالز موصول ہوئیں کہ وہ مشرف سے رابطہ کرکے اس معاملے میں مدد کے لیے کہیں۔ زینی لکھتے ہیں: میں نے مشرف سے رابطہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا بلکہ ان کی کمپیوٹر ڈسکس بھی ہماری تحویل میں دے دیں۔ مشرف نے ہم پر کچھ اور احسانات بھی ہیں… ''اب آپ بھی مشرف کے لیے کچھ کریں یا کم از کم مجھے ان سے دوبارہ رابطے بحال کرنے کی اجازت دے دیں‘‘، زینی نے وائٹ ہاؤس سے کہا لیکن وہاں سے جواب ملا، ''ہرگز نہیں‘‘۔ اس کے بعد زینی نے مشرف کو فون کیا اور بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے اس رویّے سے انہیں کتنی مایوسی ہوئی ہے۔ زینی کا کہنا تھا: مجھے معلوم ہے کہ آپ کی اپنی حکومت کے بعض حلقوں اور پاکستانی عوام میں امریکہ کے ساتھ تعاون پسندیدہ کام نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ نے ہمارے لیے جو کام کیا، یہ کتنی جرأت اور ہمت کا کام ہے۔ یہ میرے لیے دُہری ندامت کی بات ہے کہ میں اس کے جواب میں آپ کو کچھ بھی نہیں دے سکتا‘‘۔
بل کلنٹن اپنی دو ٹرمز مکمل کرکے 20 جنوری 2001 کو رخصت ہو گئے۔ اب یہ بش جونیئر کا وائٹ ہاؤس تھا کہ 6ماہ بعد نائن الیون ہو گیا۔ ''دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں پاکستان امریکہ کی شدید ترین ضرورت بن گیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کا منیجنگ ایڈیٹر باب وڈورڈ ان دنوں کے وائٹ ہاؤس کے بہت سے واقعات کا عینی شاہد ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا تعاون کس طرح حاصل کیا اس کی تفصیل ''بش ایٹ وار‘‘ میں موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سچوایشن ہال میں صدر بش کی زیرِ صدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس جاری تھا کہ وزیر خارجہ کولن پاول ہال میں داخل ہوا۔ وفورِ مسرت سے اس کے پاؤں زمیں پر نہیں لگ رہے تھے۔ صدر بش اور سکیورٹی کونسل کے ارکان کے دلوں کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی کہ وزیر خارجہ کیا جواب لایا تھا؟
پاول نے وہ سات نکات پڑھنے شروع کئے جو اس نے وزیر دفاع رمسفیلڈ سے مل کر تیار کئے تھے (1) پاکستان طالبان کو ہر قسم کی امداد ختم اور اپنی سرحد سے القاعدہ کے آپریشن بلا تاخیر ختم کر دے (2) امریکہ کو پاکستان کی فضائی حدود اور زمینی رابطوں کے بلا روک ٹوک استعمال کا حق دیا جائے (3) امریکہ کو یہ حق بھی دیا جائے کہ وہ حسبِ ضرورت پاکستان کے تمام بحری اور فضائی اڈوں کو استعمال کر سکے (4) پاکستان امریکہ کو ہر قسم کی انٹیلی جنس انفارمیشن اور نقل و حرکت کے متعلق معلومات مہیا کرے (5) پاکستان گیارہ ستمبر کے حملوں کی مذمت کرے، دہشت گردوں سے تعاون کے تمام راستے بند کر دے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سدباب کرے (6) طالبان کو پٹرول سمیت ہر قسم کے ایندھن کی فراہمی بند کر دی جائے، طالبان کے کسی بھی سپورٹر کو افغانستان جانے کی اجازت نہ دی جائے، القاعدہ نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں امریکہ کی مدد کی جائے (7) طالبان سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے جائیں۔
پاول نے گفتگو کا اختتام ان لفاظ کے ساتھ کیا: ''صدر مشرف نے یہ سارے مطالبات مان لئے ہیں‘‘ صدر بش کا تبصرہ تھا: ''گویا تم نے جو چاہا، پا لیا‘‘۔
پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا چہیتا بن گیا تھا۔ صدر بش، صدر مشرف کو ''نان نیٹو اتحادی‘‘ قرار دینے لگے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *