والدہ صاحبہ …

ٹی وی چینلز پر بیگم شمیم اختر صاحبہ کے انتقال کی خبر آچکی تھی لیکن پشاور رنگ روڈ پر پی ڈی ایم کا جلسہ جاری تھا‘ پشاور کی تاریخ کے بہت بڑے جلسوں میں ایک ۔ ٹی وی سکرینوں پر اندھوں کو بھی دور دور تک لوگ ہی لوگ نظر آرہے تھے۔ سر کاری اعدادوشمار کے مطابق پشاور کو ملک میں کورونا کی نئی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دو تین شہروں میں شمار کیا جا رہا تھا‘ دہشت گردی کا الرٹ اس کے علاوہ تھا۔ موسم بھی خاصا سرد تھا‘ اس کے باوجود لوگ جوق در جوق چلے آئے تھے۔
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہار ے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
مریم نواز بھی سٹیج پر موجود تھیں ۔ ادھر ملک کے اندر اور باہر لاکھوں کروڑوں آنکھیں اور کان سکرینوں پر لگے ہوئے تھے۔ مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف اور شہبا ز شریف کی والدہ کے انتقال کی خبر کو کافی دیر ہو گئی تھی لیکن یوں لگتا تھا سٹیج پر کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔بلاول مائیک پرتھے کہ مریم کو اس المیہ کی اطلاع ہوئی۔ تاخیر کا بعد میں معلوم ہو ا''سکیورٹی وجوہات‘‘ کی بنا پر علاقے میں موبائل سروس معطل تھی۔میاں افتخار حسین مائک پر آئے ''مریم نواز ایک اہم بات کہنا چاہتی ہیں‘‘۔ اس دوران مریم نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ یہ اس کی زندگی کی مختصر ترین ''تقریر‘‘ تھی۔ اپنی دادی کے انتقال کی خبر کے ساتھ یہ گزارش کی کہ حاضرین مرحومہ کے لیے مغفرت اور میاں صاحب کی صحت اور زندگی کے لیے دعا فرمائیںاورپھر وہ جلسہ گاہ سے رخصت ہو گئیں۔ بچپن سے اب تک دادی کی محبت اور شفقت کے کتنے ہی مناظر یادداشت کے افق پر ابھرے ہوں گے اور اس واقعہ کو تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا‘ یہی سوا دو سال پہلے 2018ء میں‘ جب وہ جیل میں تھیں۔ میاں صاحب بھی جیل میں تھے لیکن دونوں الگ الگ بیرک میں ‘ایک طرح کی قید تنہائی کہ یہاںکوئی اور قیدی نہیں تھا۔باپ بیٹی کی ملاقات جمعرات کو ہوتی‘ اسیروں سے ملاقات کا دن ۔ ملک بھرسے آئے ہوئے ملاقاتیوں سے ملاقات کے لیے باپ بیٹی دونوں کو ایک ہی کمرے میں پہنچا دیا جاتا۔اس روز بیگم صاحبہ بیٹے اور پوتی سے ملاقات کے لیے آئی تھیں لیکن یہ عجیب ملاقات تھی۔ وہ اپنے ساتھ اپنا سامان بھی لائی تھیں ۔ ان کا اصرار تھا کہ وہ بھی یہیں رہیں گی۔ قیدی بیٹا ماں کو کیا کہتا؟ مریم نے ہمت کی ۔ انہیں دادی کو یہ بات سمجھانے میں بہت دیر لگی کہ یہ جیل ہے ‘ یہاں صرف قیدی رہ سکتے ہیں ۔
ماں ‘ ماں ہوتی ہے۔ شاعروں نے اس پر سو سو طرح سے مضمون باندھے۔ ماں پر اقبالؔ کی طویل نظم کا ایک شعر
خاکِ مرقد پہ تیری لے کے یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
اور وہ جوعباس تابش نے کہا تھا ؎
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
بیگم شمیم اختر صبر اور شکر کا پیکر تھیں‘ اللہ کی نعمتوں اور آسائشوں پر شکر اور آزمائش میں صبر ۔ بڑا بیٹا تین بار وزیر اعظم بنا (وہ دو بار وزیر اعلیٰ بھی رہا تھا) اس سے چھوٹا بھی تین بار ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا لیکن بیگم صاحبہ اسی طرح سراپا عجز و انکسار تھیں ۔ ہم جدہ میں تھے تو دفتر سے فراغت کے بعد سرور پیلس چلے آتے ‘بیگم کلثوم نواز صاحبہ سے تو دوسرے چوتھے ملاقات ہو جاتی لیکن بڑی بیگم صاحبہ سے مہینوں بعد کہیں سامنا ہو تا تو سلام کے ساتھ ان سے پیار لینے کے لیے سر بھی جھکا دیتا۔ باقی لوگوں کا بھی یہی معمول ہوتا۔ بیگم صاحبہ پنجابی میں ڈھیروں دعائیں دیتیں۔
شامی صاحب بتایا کرتے ہیں‘12اکتوبر کے بعد جب نواز شریف‘ شہباز شریف اور حسین نواز گرفتار تھے اور جاتی امرا سکیورٹی والوں کے سخت حصار میں تھا‘ ایک دن وہ مولانا عبد الرحمن اشرفی کے ساتھ جاتی امرا پہنچے اور وہاں میاں محمد شریف صاحب سے ملاقات میں کامیاب ہو گئے۔ بڑے میاں صاحب حوصلے میں تھے‘ ان کا کہنا تھا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات بڑے ہوتے ہیں تو آزمائشیں بھی بڑی ہوتی ہیں‘‘ اور یہی سوچ بڑی بیگم صاحبہ کی بھی تھی۔ نیم متوسط گھرانے میں آنکھ کھولنے والی لڑکی فولاد سازی کا کام کرنے والے خاندان کی بہو بنی‘ جو اس دور میں کروڑ پتی تھا ‘ جب لکھ پتی ہونا بھی بڑی بات تھی۔ دولت و ثروت کی یہ کہانی اس دور کی ہے جب نواز ‘ شہباز ابھی سکول اور کالج کے طالب علم تھے۔ پھر یہ سب کچھ ایک روپیہ معاوضے کے بغیر قومی تحویل میں لے لیا گیا(ڈھاکہ کی اتفاق مل‘ بنگلہ دیش کی نذر ہو گئی تھی)۔ قدرت پھر مہر بان ہوئی۔ میاں شریف کی سر براہی میں اتفاق فیملی کا شمار ایک بار پھر ملک کے ممتاز صنعت کاروں میں ہونے لگا۔ وہ شوگر ملوں کے پلانٹ تک بنانے لگے تھے۔ میاں شریف نے دبئی میں بھی سٹیل مل لگالی تھی(اس میں نوجوان شہباز شریف اور ان کے کزن طارق شفیع کی شبانہ روز محنت کا بھی دخل تھا)۔ جلا وطنی کے دنوں میں جدہ میں سٹیل مل لگائی جس کے انتظامی امور حسین کے ذمے تھے۔ ادھر لندن میں حسن پراپرٹی کا کاروبار کرنے لگا تھا‘لیکن دھوپ چھاؤں کا کھیل جاری رہا۔ بڑی بیگم صاحبہ کی قسمت میں صدمے بہت لکھے تھے۔ بیٹوں کی سیاست نے انہیں دکھ بھی بہت دیے تھے۔ محترمہ کے دوسرے دور میں مقدمات ‘ اڈیالہ میں شہباز اور حمزہ کی حراست‘ اسی دور میں بڑے میاں صاحب بھی توہین آمیز گرفتاری سے نہ بچ سکے۔ پھر مشرف دور کے مصائب و آلام اور طویل جلا وطنی۔ اس دوران بڑے میاں صاحب کا انتقال اس عالم میں ہوا کہ جلا وطن خاندان کا کوئی فرد میت کے ساتھ پاکستان نہ آسکا۔ جلا وطنی سے واپس آئے تو سب سے چھوٹے بیٹے عباس کی اچانک موت ۔ بیٹے کی تیسری وزارتِ عظمی کا المناک انجام‘ اس دوران بڑی بہو(بیگم کلثوم نواز صاحبہ) کا لندن میں انتقال‘ جب بیٹا اور پوتی جیل میں تھے۔ شہباز شریف اور اس کے اہل خانہ کے لیے آزمائشیں الگ۔
سبھی نیک بخت بچے اپنے والدین کے فرمانبردار ہوتے ہیں لیکن میاں شریف اور بیگم شمیم اختر اس لحاظ سے زیادہ ہی خوش قسمت واقع ہوئے تھے۔ بڑے میاں صاحب اور بیگم صاحبہ ویل چیئر پر آ گئے تو نواز شریف اسے دھکیلنے کی سعادت خود حاصل کرتے۔ حرم میں ہزاروں لوگ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔ جاتی امرا میں میاں صاحب گھر سے نکلتے تو تو دائیں ہاتھ پہلا گھر عباس شریف کا پڑتا۔ عباس شریف کے انتقال کے بعد والدہ صاحبہ بیشتر وقت وہیں گزارتیں۔ نواز شریف یہاں رکتے اور والدہ کی قدم بوسی اور دعاؤں کے ساتھ روانہ ہوتے ۔ گزشتہ نومبر میں نواز شریف علاج کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے تو ماں کے لیے بیٹے کی جدائی ناقابلِ برداشت ہو گئی ۔ پیچھے پیچھے وہ بھی لندن پہنچ گئیں۔گزشتہ روز ان کی اگلے جہان روانگی کی خبر آگئی ۔ بیگم کلثوم نواز صاحبہ پر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کی کتاب ''مادرِ جمہوریت‘‘ میں میاں صاحب کے تاثرات کا عنوان ہے: '' میں بہت تنہا ہو گیا ہوں ‘‘۔ اب والدہ صاحبہ بھی رخصت ہوئیں تو میاں صاحب کے گرد تنہائیوں کے سائے مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *