والد کی یاد میں!

میرے والد چودھری فیض سرور سلطان کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے 34برس ہو گئے، ان کے بغیر کئی سرد و گرم دیکھے، ہر موقع پر وہ بہت یاد آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی یاد محو ہونے کی بجائے گہری ہوتی جا رہی ہے بلکہ اب تو ہر اس شخص سے فوراً ہی درد کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو اپنے مرحوم والد کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔

برادر عزیز ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اپنے والد اور جماعت اسلامی کے سینئر رہنما مولانا گلزار احمد مظاہری کے حالاتِ زندگی اور جیل کے واقعات پر کتاب ’’مولانا گلزار احمد مظاہری، زندگانی، جیل کہانی‘‘ لکھی تو ایسے لگا کہ انہوں نے صرف اپنے والد کی کہانی نہیں لکھی، ایک پورے عہد کی داستان لکھ دی ہے۔

انہوں نے صرف اپنے والد کے لئے عقیدت اور محبت کے پھول نہیں پروئے بلکہ انہوں نے تمام بیٹوں کی اپنے والد کے لئے محبت کو قلم میں سمو دیا ہے۔ انہوں نے صرف اپنے والد کی پدرانہ محبت کے واقعات قلم بند نہیں کئے بلکہ سارے والدوں کی اپنے بیٹوں کے لئے شفقت بیان کر دی ہے۔

مولانا مظاہری جماعت اسلامی کے سینئر رہنما تھے۔ خدمت، خلوص اور خطابت ان کے اوصافِ حمیدہ میں شامل تھے۔ جماعت اسلامی کے نظم نے انہیں حکم دیا تو وہ سرگودھا شہر کی رونقیں چھوڑ کر میانوالی کے بےآب و گیاہ علاقوں میں اپنی جماعت کا کام کرنے پہنچ گئے۔

آج کے دور میں جہاں ہر طرف مفاداتی سیاست کا دور دورہ ہے، یہ سوچنا بھی محال ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنا جما جمایا کاروبار چھوڑ کر پارٹی کے حکم پر قربان ہو گیا اور اس وقت تک وہ خدمت بجا لاتا رہا جب تک کہ اس سیاسی سپاہی کو واپس اسی محاذ پر آنے کا حکم نہ دیا گیا جہاں سے وہ چلا تھا۔ مولانا مظاہری کی خطابت کا شہرہ سن رکھا تھا، کتاب نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

میرے والد مرحوم شورش کاشمیری کی خطابت کے بہت معترف تھے۔ ایک بار شورش سرگودھا آئے، والد صاحب سامعین میں شامل تھے، رات گئے واپس آئے تو شورش کی خطابت کا ذکر اور تعریف بار بار کرتے رہے۔ شورش نے اہلِ سرگودھا کے لئے 25کے قریب ایک ہی ردیف اور قافیے کے الفاظ کا جو استعمال کیا، والد صاحب بالخصوص اسے یاد کرتے رہے۔ مولانا گلزار احمد مظاہری بھی خطیبوں کے اس قافلے کے ہمسفر تھے، اس لئے جب بھی بڑے خطیبوں کا ذکر ہوگا ان کا نام بھی اس فہرست میں نمایاں طور پر شامل ہو گا۔

مولانا گلزار مظاہری اور ان کے صاحبزادوں حسین احمد پراچہ اور فرید احمد پراچہ سے میرا ایک رشتہ شہرِ پیار سرگودھا کے حوالے سے بھی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور پروفیسر غلام جیلانی اصغر کے شہر سرگودھا میں بطور طالب علم گورنمنٹ کالج سرگودھا، مجھے تعلیم حاصل کرنے کا شرف بھی ملا۔ غلام جیلانی اصغر، پروفیسر خورشید رضوی اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے زیر سایہ مجلسِ اقبال کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے سالِ اقبال کی تقریبات منانے کا موقع ملا۔

اردو مجلس کا جنرل سیکرٹری بھی تھا، اسلئے شاعروں، ادیبوں کی محفلوں کی میزبانی کا موقع بھی ملتا رہا۔ لکھنے لکھانے کی تربیت اور آداب بھی اسی زمانے میں سیکھے، میں طالب علم تو ایف ایس سی پری میڈیکل کا تھا مگر میرا سارا وقت ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں ہی گزرتا۔

شہر سرگودھا اس علاقے کا تجارتی، ثقافتی اور سماجی مرکز ہے۔ نیزہ بازی کے مقابلے ہوں، جوتے اور کپڑے خریدنے ہوں یا پھر کسی بڑے سیاسی جلسے میں جانا ہو، سرگودھا ہی ان کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ میں ابھی کالج نہیں پہنچا تھا تو تب سرگودھا کے چشمے، پکوڑے اور اچکن سینے والے درزیوں سے واقف ہو چکا تھا۔ میرے والد استاد تھے اور ضلع سرگودھا اور خوشاب کے اساتذہ کی سیاست میں سرگرم رہتے تھے۔

سالہا سال پنجاب ٹیچرز یونین ضلع سرگودھا اور پھر ضلع خوشاب کے صدر رہے۔ مولانا مظاہری سیاست کے قومی دھارے کے رکن تھے اسی لئے وہ قومی سیاست کے جھٹکے بھی برداشت کرتے رہے، اسی حوالے سے جیل بھی گئے اور پھر جیل میں بیٹھ کر ڈائری لکھی جو واقعی خاصے کی چیز ہے۔

مولانا مظاہری کو جیل کے نظام کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے انتہائی خوبصورتی اور دانشمندی سے جیل کے نظام کے بارے میں ایک دل سوز تحریر لکھی۔ کہتے ہیں ’’انسان کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب اس کے اخلاق کا بگاڑ ہے، اخلاقی لحاظ سے کمزور آدمی ہی مجرم ہوتا ہے لیکن یہ عجیب تماشا ہے کہ بھوکے کو ہم روٹی دیتے ہیں، پیاسے کو پانی دیتے ہیں، ننگے کو کپڑا دیتے ہیں لیکن اخلاقی دیوالیے کو اخلاقی خوراک دینے کی بجائے اسے زنجیر و سلاسل دیتے ہیں‘‘۔

ان چند فقروں میں انہوں نے جیل، گرفتاری اور تشدد کے سارے فلسفے کو رد کرکے ایک نئے اصلاحی نظام کی بنیاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

کہتے ہیں اچھی کتاب، اچھی کہانی، اچھا ڈرامہ یا اچھا ناول وہ ہوتا ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری کو احساس ہو کہ یہ کہانی اس کی اپنی کہانی ہے۔ گلزار مظاہری کے بارے میں کتاب ایسے پیرائے میں لکھی گئی ہے کہ یہ 60اور 70کی دہائی کے ہر سیاسی کارکن کی کہانی ہے۔

یہ ہر اس مڈل کلاس والد کی کہانی ہے جو اپنے بچوں کو شرافت اور سچے اصولوں کے ساتھ ساتھ بہترین تعلیم سے آراستہ کرنے کی جستجو کرتا ہے۔ یہ کہانی ہر اس سچے پاکستانی کی جدوجہد اور سوچ کی کہانی ہے جو ملک کو بدعنوانی اور ناانصافی سے پاک کرنا چاہتا ہے۔

یہ ہر اس مسلمان کی کہانی بن گئی ہے جو درد دل کے ساتھ اپنے ارد گرد کی کثافتوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اگرچہ کتاب کو دلچسپ انداز اور صحافیانہ طرز تحریر میں لکھا ہے،تاہم کہیں طوالت کا احساس نہیں اور نہ ہی کتاب کو پدر نامہ اور خاندان نامہ بنا کر انہوں نے اسےمذہبی سوانح عمری کا رنگ دیا ہے۔

یہ ایک چلتے پھرتے زندہ انسان کی کہانی ہے جس کے روزمرہ معمولات مہمانداری، آنا جانا اور اٹھنا بیٹھنا سب اس کتاب کہانی میں شامل ہے۔ ایک زمانے میں دائیں اور بائیں بازو کی جنگ جاری تھی۔ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے حامی فکری طور پر برسر پیکار رہتے تھے، وقت گزر گیا ہے تو اب احساس ہوتا ہے کہ اس وقت کے نظریاتی لوگ بڑے مخلص ہوا کرتے تھے اور وہ ذاتی اغراض اور فائدوں سے اوپر اٹھ کر اپنے نظریات کی آبیاری کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دیا کرتے تھے۔

گلزار احمد مظاہری بڑے لیڈر تھے، سیاست کے قومی دھارے میں متحرک تھے مگر ان ہی کے ہم عصر میرے والد غیرسیاسی مگر مسلم لیگ اور بالخصوص ممتاز دولتانہ کی سیاست کے دلدادہ تھے، ممتاز دولتانہ کی ذہانت اور دانش مندی کے قصے سنایا کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار پورے سرگودھا ڈویژن میں اساتذہ ہڑتال پر چلے گئے۔ اس زمانے میں والد صاحب دن رات اساتذہ کے حقوق کے لئے وقف کئے ہوئے تھے۔ مجھے اپنے بچپن کے وہ واقعات آج تک یاد ہیں جب میں ہاتھ میں لوٹا، کندھے پر تولیہ رکھے مہمانوں کے ہاتھ دھلواتا تھا، والد صاحب کا حکم تھا کہ ہر بوڑھے شخص کو جھک کر اور گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر سلام و آداب کہنا ہے۔ مڈل کلاس کے اکثر گھرانوں میں مہمانداری کا یہی رواج تھا۔

مولانا مظاہری، مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح چائے کے خود بھی شوقین تھے اور چائے پلا کر خوش ہوتے تھے۔

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے یہ کتاب لکھ کر نہ صرف اپنے والد مولانا گلزار احمد مظاہری کو تاریخ میں محفوظ کر لیا ہے بلکہ ان کے زمانے، آثار اور احوال کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ کاش سارے بیٹے حسین احمد پراچہ کی طرح اپنے والدین کی ایسی ہی صحیح اور روشن تصویر بنانے کے اہل ہوتے۔ پراچہ برادران کی اس کاوش پر لازماً تحسین کی جانی چاہئے۔

error: