واٹس ایپ جلد تصاویر اور ویڈیوز دیکھ لیے جانے کے بعد ڈیلیٹ ہونے کے فیچر کو متعارف کروا رہا ہے

سوشل میڈیا اور موبائل میسیجنگ کی 'ایپ' واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہولت کے لیے ایک نئے فیچر کا اضافہ کرنے والا ہے جس میں اب واٹس ایپ پر شیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز دیکھے لیے جانے کے بعد خود بخود غائب ہو جائیں گی۔

تصاویر اور ویڈیو وصول کرنے والوں کی طرف یہ مواد ایک مرتبہ دیکھ لیے جانے کے بعد فون کی میموری پر محفوظ ہوئے بغیر 'ڈیلیٹ' ہو جائے گا۔ واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی نجی معلومات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے یہ سہولت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستان

بچوں کہ حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خود بخود ’ڈیلیٹ‘ یعنی مٹ جانے والے پیغامات سے بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کو اپنے گھناؤنی سرگرمیوں کو چھپانے میں مدد ملے گی۔

بچوں پر مظالم کے خلاف کام کرنے والے خیراتی ادارے نیشنل سوسائٹی فار پریونشن آف کروئلٹی ٹو چلڈرن کا واٹس ایپ چلانے والی کمپنی فیس بک سے 'اینکرپٹڈ' پیغامات پر تنازع چل رہا ہے۔

اینکرپٹڈ پیغامات کا مطلب ہے یہ پیغامات بھیجنے والے اور وصول کرنے والے ہی دیکھ سکتے ہیں اور ان کو دوران مواصلات نہیں دیکھا اور پڑھا جا سکتا۔

بچوں کے تحفظ کے خیراتی ادارے کے آن لائن سیفٹی آفیسر ایلی سن ٹرو کا کہنا ہے کہ ’اس سہولت کے شروع ہونے سے بچے زیادہ غیر محفوظ ہو جائیں گے کیونکہ بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کے پاس ایک اور حربہ آ جائے گا جس سے انھیں اپنی مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے میں مزید مدد ملے گی، جبکہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں 'اینڈ ٹو اینڈ' یا شروع سے آخر تک اینکرپشن کی وجہ سے دقت پیش آ رہی ہے۔

واٹس ایپ اس نئے فیچر کی اپنے صارفین کے لیے یہ کہہ کر مارکیٹنگ کر رہا ہے کہ یہ آپ کی ایسی تصاویر جنھیں آپ رکھنا نہیں چاہتے اس کے لیے استعمال ہو سکتا ہے مثلا کپڑوں کی خریداری کے وقت بنائی گئی تصاویر کہ نیا لباس آپ پر کیسا لگ رہا ہے یا کسی کو اپنے پاس ورڈ بھیجنے کے لیے لی گئی تصویر۔

واٹس ایپ

اس کا کہنا ہے کہ 'آپ ہر وہ مواد جو شیئر کرتے ہیں اس کا مستقل ڈیجیل ریکارڈ رکھنا نہیں چاہیں گے۔بہت سے موبائل فونوں پر اگر کوئی تصویر بنائی جائے تو یہ اس کے کیمرہ رول پر جگہ لے لیتی ہے۔‘

اگلے ہفتے سے یہ سہولت ہر واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارف کے لیے مہیا کی جا رہی ہے۔ صارفین کو پتا چل جائے گا کہ یہ پیغام صرف ایک مرتبہ ہی دیکھا جا سکے گا کیونکہ اس کا ’پری ویو‘ ایک حرف آئی کے بڑے آئکان کے پیچھے چھپا ہو گا۔

دوسری ایپس جیسا کہ 'سنیپ چیٹ' کی طرز پر مٹ جانے والے پیغامات کے علاوہ صارف کے لیے یہ بھی ممکن ہو گا کہ جب وہ ایسے پیغام کو دیکھنے لیے کھولے تو اس کا سکرین شاٹ لے لیں یا آن سکرین ریکارڈنگ کر لے یا کسی دوسرے کیمرے سے فلم کر لیں۔

اس فیچر کے استعمال کی چند حدود ہیں

واٹس ایپ

واٹس ایپ نومبر سے غائب ہو جانے والے پیغامات کی سہولت فراہم کرے گا۔ پیغام بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں کے اکاؤنٹ سے پیغام سات دنوں میں مٹ جائے گا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر برطانوی حکومت کے لیے قانونی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

برطانیہ کا قانون یہ کہتا ہے کہ اہم امور پر بحث اور فیصلوں کو تاریخی حوالوں کے لیے ریکارڈ پر رکھا جائے۔ بہت سے حکومتی اہلکاروں کے بارے میں علم ہے کہ وہ واٹس ایپ اور اس سے ملتے جلتے ایپ سگنل کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے وکلاء کی ایک کمپنی نے سیاسی رہنماؤں پر طنز کیا کہ 'یہ ٹیکسٹ کے ذریعے حکومت چل رہی ہے۔‘

کابینہ کے دفتر سے کہا گیا کہ انھوں نے مناسب اقدامات کر لیے ہیں تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری خط و کتابت کو قانون کے مطابق محفوظ رکھا جا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: