واٹس ایپ پالیسی: پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن بل، میسجنگ ایپ لانے کی تیاری

واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی اپنے اطلاق سے قبل ہی دنیا بھر میں متنازع بن چکی ہے اور 4 جنوری سے صارفین کو اسے قبول کرنے کے لیے نوٹی فکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

اس پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہورہا ہے اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے۔

صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔‎

واٹس ایپ کی اس پالیسی پر لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے اور مختلف افواہیں بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں، جبکہ اس کی حریف ایپس جیسے سگنل اور ٹیلیگرام کو ڈاؤن لوڈ کرنے والے افراد کی تعداد میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسی پالیسی کے باعث چند روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی سے متعلق کہا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے سخت قانون لانے پر غور کر رہی ہے۔

اور اب اس حوالے سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے آفیشل ٹوئٹر پر جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے کہا ہے کہ 'ہم سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ کی اپ ڈیٹ پالیسی کے حوالے سے پاکستانی صارفین میں پائی جانے والی تشویش سے بخوبی آگاہ ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو مرتب کررہے ہیں۔

امین الحق نے کہا ہے کہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی تیاری، سرکاری ملازمین کے لیے چیٹنگ ایپلی کیشن پر کام اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے رابطوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

علیحدہ ٹوئٹ میں وفاقی وزیر کا بیان جاری کیا گیا کہ واٹس ایپ کی متنازع پرائیویسی پالیسی اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ واٹس ایپ انتظامیہ کے وضاحتی بیان کے مطابق پرائیویسی پالیسی کا اطلاق انفرادی نہیں بلکہ 'بزنس کنزیومر پر ہوگا۔

امین الحق کے مطابق 2014 میں جب فیس بک نے واٹس ایپ کو خریدا تو یہی کہا گیا کہ پرائیویسی سے متعلق پالیسی تبدیل نہیں کی جائے گی جس کے بعد 2016 میں واٹس ایپ نے صارفین کو دوسری کمپنیوں کو اپنی معلومات استعمال اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار دیا تھا۔

وفاقی وزیر کے مطابق واٹس ایپ نے اپنے اس بیان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی پرائیویسی پالیسی اپ ڈیٹ نہ کرنے کی صورت میں صارفین کی جانب سے قبول نہ کرنے کی صورت میں اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ صارف سے یہ حق نہیں چھینا جاسکتا کہ وہ اپنا ڈیٹا کسی کو شیئر کرنے کی اجازت دے یا نہ دے، اس پر کوئی کمپنی اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اس پرائیویسی پالیسی سے صارفین کے حقوق بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *