واٹس ایپ ہیڈکوارٹرز: واٹس ایپ کی نئی حفاظتی پالیسی پر خدشات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح بھی

واٹس ایپ کی نئی حفاظتی پالیسی تبدیل ہوتے ہی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں سے صارفین کی جانب سے شدید ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ کئی واٹس ایپ صارفین نے اس پالیسی کو دیکھے اور پڑھے بغیر منظور بھی کر لیا ہے لیکن زیادہ تر صارفین میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں ان کا ڈیٹا، جس میں گھر والوں اور دوست احباب کے درمیان ہونے والے میسیجز، کالز، تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں، کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔

بات سیریس ہو اور اس میں مزاح کا پہلو نہ ڈھونڈ لیا جائے، پاکستان میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے!

بہت سے پاکستانی صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اپنے تحفظات کا اظہار مزاحیہ انداز میں میمز کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ یہاں اس بار کو بھی مدد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے پہلے اس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ نئی حفاظتی پالیسی کے تحت واٹس ایپ اپنے صارفین کے درمیان ہونے والی نجی گفتگو یا میسجز تک رسائی حاصل نہیں کرے گا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نجی نوعیت کا کوئی ڈیٹا نہ تو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے کسی اور کمپنی سے شیئر کیا جاتا ہے۔

اب بات ہو جائے مزاح کی۔

اس حوالے سے ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں سے ایک ٹرینڈ ’واٹس ایپ ہیڈ کواٹرز‘ کا بھی ہے۔ جس کے تحت کی جانے والی ٹویٹس میں لوگوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر واٹس ایپ تک ہماری چیٹ کی رسائی ہو گئی اور اگر واٹس ایپ کے دفتر یعنی ہیڈ کواٹر میں کام کرنے والے ملازمین ہماری واٹس ایپ میں ہونے والی روز مرہ کی گفتگو کے بارے میں سُنیں اور پڑھیں تو وہ کس انداز ردعمل دیں گے۔

اقرا خان نے واٹس ایپ کی نئی پالیسی کو بیان کرنے کے لیے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جب ہم واٹس ایپ چیٹ میں یہ لکھتے ہیں کہ ’ایک بات بتاؤں کسی کو بتانا نہیں‘ یعنی ہم تو یہ کہتے تھے کہ کسی کو بتانا مت‘ لیکن وہ تمام باتیں تو واٹس ایپ ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے لوگ پڑھ رہے ہوں گے۔

نور اسلام نے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے روتے ہوئے ایک شخص کو واٹس ایپ ہیڈ کواٹرز میں بیٹھا ملازم دیکھا کر لکھا کہ ’عائشہ کی دوست بات کر رہی ہوں، اُس نے سرف کھا لیا ہے۔‘ یہاں انھوں نے مزاحیہ انداز میں ان دو پیار کرنے والوں کا تذکرہ کیا ہے جو ایک دوسرے کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اس نوعیت کے میسجز کرتے ہیں اور اگر وہ میسجز واٹس ایپ آفس میں بیٹھا کوئی ملازم پڑھے تو وہ کیا ردعمل دے گا۔

واٹس ایپ

شہزاد عباس نے بھی آفس میں زمین پر لیٹے چند ملازمین کی تصویر شیئر کر کے لکھا کہ ’جب میری امی اور خالہ آپس میں بات کرتی ہیں تو واٹس ایپ ملازم کا یہ حال ہوتا ہو گا۔‘ یعنی وہ اتنی لمبی بات کرتی ہیں کہ واٹس ایپ ہیڈ کواٹرز میں بیٹھے ملازمین بھی تھک کر سو جاتے ہوں گے۔

جہاں سوشل میڈیا صارفين اپنی پرائیویسی اور نئی پالیسی کے حوالے سے مزاحیہ انداز میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں وہاں ہی کچھ صارفین کی جانب سے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے جو اس تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

واٹس ایپ

ٹوئٹر صارف ساجد خان نے ہمارے ایک معاشرتی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ ’سڑک کنارے رفع حاجت کرنے والی قوم کو آج اپنی واٹس ایپ پرائیویسی کی فکر ہونے لگی ہے‘

جبکہ دوسري جانب بہت سے صارفین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واٹس ایپ سے اپنا موبائل ڈیٹا شیئر کرنے سے خوفزدہ لوگ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ قیامت کے روز جب سب کے سامنے ہماری زندی کا ہر لمحہ اور گناہوں کا ڈیٹا شئیر ہو گا تو وہ کیا کریں گے۔

واٹس ایپ

جہاں سوشل میڈیا پر واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے وہیں واٹس ایپ کی متبادل ایپلیکشنز کے بارے میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بات کی جا رہی ہے۔

صارفین تمام چیٹنگ ایپز کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون سی ایپلیکیشن واٹس ایپ کی طرح کام کرتی ہے۔ بہت سے صارفین یہ بتا رہے ہیں کہ وہ پہلے ہی ’ٹیلی گرام‘ اور ’سگنل‘ پر شفٹ ہو چکے ہیں۔

نئی حفاظتی پالیسی کیا ہے؟

نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ اپنے صارفین کو مجبور کر رہا ہے کہ اگر وہ مستقبل میں ایپ کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں نئی حفاظتی پالیسوں کو قبول کرنا ہو گا۔

اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

واٹس ایپ اب آپ کے بارے میں جمع کردہ معلومات کو فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر کمپنیوں سے شیئر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس ڈیٹا میں صارف کا فون نمبر جس پر واٹس ایپ رجسٹر کیا گیا ہے شامل ہونے کے علاوہ آئی پی ایڈریس ( انٹرنیٹ کنیکشن استعمال کرنے کا مقام) موبائل فون یا لیپ ٹاپ سے متعلق معلومات، بشمول اس کا ماڈل اور کمپنی، واٹس ایپ ایپلیکیشن کب اور کتنے وقت کے لیے استعمال کی گئی، سٹیٹس، گروپس، رقم کی ادائیگیاں یا کاروباری خصوصیات، پروفائل فوٹو سمیت چند تکنیکی چیزیں بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس کی ماہر نگہت داد کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی ان صارفین کو متاثر کر سکتی ہے جو واٹس ایپ کے علاوہ کسی اور سوشل ایپلیکیشن جیسے فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کا میٹا ڈیٹا بھی ان کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا جو اب تک صرف واٹس ایپ کے پاس تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہاں اگر آپ دیگر سوشل پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہیں تو ان صارفین کے لیے پریشانی کی بات نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *