وبا اور لاک ڈاؤن: روم نے 17ویں صدی میں لاک ڈاؤن لگا کر وبا کو کیسے شکست دی؟

فابیو چیجی ایک دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ کے مداح، تعمیرات کے بارے میں جذباتی اور فلسفے، مذہبی تعلیم اور قانون کے شعبے کے ڈاکٹر تھے۔ مگر جب وہ پوپ ایلکزینڈر ہفتم بنے تو انھیں ایک ایسی وبا کا سامنا ہوا جس کے بارے میں انھوں نے نہیں پڑھا تھا۔

پھر بھی، جب موقع آیا تو کیتھولک چرچ کے سربراہ گھبرائے نہیں اور جیسے ہی یہ وبا روم پہنچی، انھوں نے سخت ترین لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

اب محققین کا ماننا ہے کہ 17ویں صدی میں ان کے اقدامات کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں بچیں اور شہر میں اموات کی تعداد دیگر متاثرہ علاقوں کے مقابلے میں کہیں کم تھیں۔

وبا، اموات، اور پہلی بندشیں

فابیو چیجی 1559 میں پیدا ہوئے اور 1667 میں وفات پا گئے۔ سب سے غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس وقت وبا کا ذمہ دار بیکیٹریا انسانوں نے دریافت ہی نہیں کیا تھا، ایلکزینڈر یرسن نے اسے 1894 میں دریافت کیا۔

اس وبا سے نہ صرف موجودہ اٹلی کے علاقے متاثر ہوئے بلکہ متعدد لہروں کے بعد ایک اندازے کے مطابق یورپ کی نصف آبادی مٹ گئی تھی۔

St. Peter's Square, the large plaza in front of St. Peter's Basilica in the Vatican City, completely empty due to the coronavirus lockdown.
،تصویر کا کیپشناس وقت بھی چرچ نے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی تھی

سپیئنزا یونیورسٹی آف روم میں تاریخ دان، پروفیسر لوکا ٹوپی کی ایک تحقیق کے مطابق سنہ 1656 سے 1657 میں اس وبا سے اٹلی کے علاقے سارڈینیا کی 55 فیصد، ناپولی کی 50 فیصد، اور جنوآ کی 60 فیصد آبادی ہلاک ہوئی تھی، جس کے برعکس روم میں صرف 8 فیصد لوگ مارے گئے۔

جب تک سلطنتِ ناپولی میں پھیلنے والی وبا کی اطلاع روم پہنچی تھی، اس وقت تک ایلکزینڈر ہفتم کو پوپ بنے ہوئے ایک سال ہو چکا تھا۔

مئی 1656 اور اگست 1657 کے درمیان آنے والی اس وبا سے نمٹنے کے لیے پوپ نے ایسے ہی اقدامات کیے جو کہ آج ہم کورونا وائرس کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جیسے کہ لاک ڈاؤن۔

پوپ نہ صرف مسیحی مذہب کے سربراہ ہوتے تھے بلکہ وہ ویٹیکن کی چھوٹی سی ریاست کے باہر واقع پیپل ریاستوں کے حکمران بھی تھے جو کہ آج کے وسطی اٹلی میں واقع تھیں۔

انھوں نے روم میں مرحلہ وار حفاظتی اقدامات کا آغاز کیا مگر جب آس پاس کے علاقوں میں صورتحال بگڑنے لگی تو روم میں سخت لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

بیس مئی کو سلطنتِ ناپولی کے ساتھ تمام تجارت روک دی گئی۔ ایک ہفتے بعد ناپولی سے کسی بھی مسافر کو روم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ 29 مئی کو ایک پیپل ریاست میں ایک قصبے سیویتاویچے میں ایک کیس سامنے آیا تو سخت قرنطینہ متعارف کروا دیا گیا۔

پروفیسر ٹوپی کہتے ہیں کہ: 'اس کے بعد آنے والے دنوں اور مہینوں میں اس خطے میں دیگر علاقوں کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔'

XVII Century painting of The Vatican
،تصویر کا کیپشنپوپ کے زمانے میں ویٹیکن کے زیر اثر تمام ریاستوں میں لاک ڈاؤن نافذ رہا

ادھر روم میں شہر کے تقریباً تمام دروازے بند کر دیے گیے تھے۔ صرف آٹھ دروازے کھلے رہے جن پر 24 گھنٹے فوجی پہرا دیتے تھے اور جن کی نگرانی ایک امیر شخص اور ایک کارڈینل کرتا تھا۔

15 جون کو روم میں وبا کا پہلا کیس سامنے آیا جو کہ ایک فوجی کا تھا جو ہسپتال میں مارا گیا۔

اس کے ردعمل میں قوانین کو اور سخت کر دیا گیا۔ 20 جون سے شہریوں پر لازم تھا کہ وہ کسی بھی وبا کے کیس کے بارے میں حکام کو مطلع کریں، اور ایک پادری ہر تین دن پر لوگوں کے گھروں کا دورہ کرتے تھے اور تمام بیماروں کا ایک رجسٹر پر اندراج ہوتا تھا۔

اس کے بعد روم میں ایک اور ہلاکت کی خبر آئی۔ اس دفعہ وہ ایک مچھیرا تھا جو روم کے جنوبی حصہ میں رہتا تھا۔

کیتھولک یونیورسٹی آف ساؤ پالو برازیل میں مذہبی امور کے طالب علم ریلسن آراجو کہتے ہیں کہ 'اس کیس میں متاثرہ شخص کے رشتے داروں کو بھی وبا نے متاثر کیا اور ان میں کئی کی ہلاکت بھی ہوئی۔'

مگر پہلا کام یہ تھا کہ اس علاقے کو سیل کر دیا گیا۔

آراجو کہتے ہیں کہ 'جیسے ہی وبا پھیلانا شروع ہوئی تو پوپ نے مزید حفاظتی اقدامات لگانے شروع کر دیے، اور سماجی دوری، جیسے کہ کوئی بھی اجلاس یا مذہبی تقریب منسوخ کر دی گئیں۔'

'سفارتی دورے منسوخ کر دیے گیے اور شہر کے راستوں پر سخت نگرانی لگا دی گئی۔

سڑکوں پر لگنے والے بازار بند کر دیے گئے، بے گھر افراد کو قصبے سے نکال باہر کیا گیا۔ رات کے وقت دریائے تیبر کو کراس کرنا ممنوع کر دیا گیا۔

پوپ نے روزے رکھنے پر بھی پابندی لگا دی تاکہ لوگوں میں بھوک نہ ہو اور کسی بیماری کی صورت میں ان میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اس کا مقابلہ کر سکیں۔ کسی بھی ایسے گھر میں جہاں کوئی کیس سامنے آیا ہو، ایسے گھر کے کسی بھی فرد کے باہر نکلنے پر پابندی تھی۔

آراجو کہتے ہیں کہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شہر کے پادری اس وبا کو پھیلنے کا باعث بن جائیں گے۔ ’اس لیے پوپ ایلکزینڈر نے ڈاکٹروں اور پادریوں کو دو گروپس میں تقسیم کر دیا، ایک جنھوں نے کسی متاثر شخص سے ملاقات کی ہو، اور دوسرے جو بالکل صاف ہوں تاکہ وہ دیگر افراد کی دیکھ بھال کر سکیں۔‘

ڈاکٹروں کو روم سے بھاگنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور جو لوگ قرنطینہ میں تھے ان کے ایک ایک امدادی نیٹ ورک قائم کیا گیا تھا۔

جو لوگ اپنے گھروں سے نکل نہیں سکتے تھے ان کی مالی امداد کی جا رہی تھی اور کچھ لوگوں کو کھڑکیوں کے ذریعے کھانا پہنچایا جا رہا تھا۔

اور اس وبا کے عروج پر بھی جو لوگ حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے تھے، انھیں سزائے موت بھی دی جا سکتی تھی۔

Oil painting of the plague in Italy
،تصویر کا کیپشنوبا کی کئی لہروں نے یورپ میں تباہی مچا دی تھی

فیک نیوز

اس سب کے باوجود، ہر کوئی اس صوتحال کو تسلیم کرنے کے تیار نہیں تھا۔ جیسے آج بہت سے لوگ کورونا وائرس کی وبا پر یقین نہیں رکھتے۔

کچھ لوگوں نے اقدامات کی مخالفت کی اور اس حوالے سے فیک نیوز بھی پھیلائی۔

جورجیئن یونیورسٹی آف روم میں محقق مرٹیچیلی مدیوروس کہتے ہیں کہ 'پوپ پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنی مقبولیت کو بڑھانے کے لیے اس وبا کا ڈھونگ رچایا ہے۔ مگر کچھ لوگ یہ چاہتے تھے کہ پوپ سخت اقدامات نہ لگائیں تاکہ شہریوں میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔ پوپ کے قریبی ترین ساتھیوں کا بھی خیال تھا کہ اگر صورتحال کی اصل حقیقت لوگوں کو معلوم پڑ گئی تو معیشت تباہ ہو جائے گی۔'

آراجو کہتے ہیں کہ 17ویں صدی میں اس وبا سے منکر ہونے والے بھی آج کی طرح کے لوگ تھے۔ 'یہ وہ تاجر تھے جو چاہتے تھے کہ پوپ مزید پابندیاں نہ لگائیں اور صورتحال کو چھپا لیں تاکہ کاروبار چلتا رہے۔'

ایک تاریخ دان وکٹر مسیاٹو کے مطابق ایک ڈاکٹر نے الزام لگایا کہ پوپ کے اقدامات سیاسی بنیادوں پر لیے گئے ہیں جس کی وجہ سے اس ڈاکٹر کو ایک وبائی ہسپتال میں کام کرنے کی سزا ہوئی۔

مگر زیادہ تر اقدامات کو سختی سے لاگو رکھا گیا اور ان کی مدد سے وبا کے پھیلنے کو روکا گیا۔

وبا کا خاتمہ

اس وبا کے آخر میں، 1657 میں، ایلکزینڈر سیون نے خوب جشن منایا اور اسے چرچ کا دوسرا جنم قرار دیتے ہوئے بہت ساری عمارتیں اور پینٹگز بنوائیں۔

Negationist protests in Rome, due to the coronavirus pandemic
،تصویر کا کیپشنایسے لوگ جو حقائق کے برعکس سوچتے ہیں 17ویں صدی میں بھی موجود تھے

ان میں سے سب سے شاندار شاید سینٹ پیٹر سکوئر میں کولوناد ہے جو کہ باروک بنانے والے ماہرِ تعمیرات جیان لورنزو برنینی نے بنایا۔

مرٹیچیلی مدیوروس کہتے ہیں کہ اس وقت پوپس کے پاس اپنی طاقت کی نمائش کرنے کا یہی طریقہ تھا۔ ایلکزینڈر سیون آرٹ کے بہت برے مداح تھے اور برنینی کے دوست بھی تھے۔ ان کے بطور پوپ ابتدائی دنوں میں وبا کا مسئلہ رہا تھا اسی لیے یہ مجسمے اس کے اختتام کی علامت تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ مگر یہ وہ واحد مثال نہیں جب چرچ نے لاک ڈاؤن لگایا ہو۔ اس کی طرح کی اور بھی مثالیں ہیں خاص طور پر 19ویں صدی میں کولیرا کی وبا کے دوران۔

بلکہ اس سے کہیں پہلے 16ویں صدی میں بھی میلان میں وبا کی وجہ سے مکمل پابندیاں لگا دی گئی تھیں۔

مرٹیچیلی مدیوروس کہتے ہیں کہ اس دوران ماس یعنی مسیحی ہفتہ وار عبادت بھی سماجی دوری کے ساتھ منعقد کی جاتی تھی۔ ایک پادری گلے کے کونے پر کھڑا ہو کے ماس کرواتا تھا اور لوگ کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر اس میں شرکت کرتے تھے۔

آج سے 400 سال پہلے سائنس کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔

'16ویں صدی میں یورپ میں بادشاہت کا رجحان تھا جہاں شاہ کے پاس اپنے شہریوں کے اوپر مکمل کنٹرول تھا۔ میساٹو کہتے ہیں کہ مذہبی طاقت اور سیاسی طاقت مکمل طور پر ایک دوسرے سے منسلک تھیں۔

ابھی سائنسی انقلاب نے آنا تھا۔ مگر کسی روحانی ذات پر یقین مکمل طور پر سپریم تھا اور یہی ایمان امن اور افراتفری کے درمیان واحد رکاوٹ تھی۔‘

error: