وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ

ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی ایسی گرم بازاری ہے گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ رفتگاں کی فہرست ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ابھی ایک مانوس آواز سے محرومی، ایک دیرینہ رفیق سے فراق اور ایک قدیمی آشنا چہرے کے صدمے سے سنبھل نہیں پاتے کہ ایک اور سنائونی آ لیتی ہے۔

پت جھڑ تو ابھی شروع ہوا ہے، ہمارے لئے تو یہ پورا برس ہی خزاں کی ویرانی سے منسوب ہو گیا۔ موت محض ایک ہندسہ نہیں ہوتی، ہر جانے والے کے ساتھ ایک پوری دنیا پر پردہ گر جاتا ہے، کتاب ادھوری رہ جاتی ہے، ساز کے تار کسی حادثے جیسی قطعیت کے ساتھ چٹختے ہیں اور نغمہ اَن دیکھے خلا میں کھو جاتا ہے۔ سیاست، مذہب اور تمدن کے ستون ہیں کہ ایک ایک کر کے بغیر آواز کیے منہدم ہو رہے ہیں۔ دوسروں کی کیا کہوں۔

میرے لئے کراچی سے آصف فرخی، بہاولپور سے رانا اعجاز احمد، ملتان سے حیدر عباس گردیزی، لاہور سے استاذی محمد خالد، قاضی جاوید اور اب اسلام آباد سے اشفاق سلیم مرزا۔ یہ شہر گویا اپنا معنی کھو بیٹھے۔ کس قدر پات گرے ہیں اب کے۔ پہلے کون سا ہم نظام الملک طوسی کے باغ میں عمر خیام سے ہم پیالہ ہو رہے تھے، یہ تھا کہ یارانِ ہم نفس کہیں مل بیٹھتے تھے تو جینے کا بہانہ میسر آ جاتا تھا۔ فلک ناہنجار کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔

عجیب اتفاق ہے کہ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی کے آخری برسوں میں بھی کچھ ایسی ہی افتاد ٹوٹی تھی۔ ہسپانوی فلو میں موت کی ارزانی نے پہلی عالمی جنگ کی قیامت بھلا دی تھی۔ اِن دو دہائیوں کی اٹھا پٹخ سے روس کا انقلاب برآمد ہوا، اٹلی اور جرمنی میں فسطائیت کا ظہور ہوا، اکتوبر 1929ءکی کساد بازاری نے معیشت کا فلسفہ ہی بدل ڈالا۔ دنیا کا نقشہ ان دنوں بھی ایسی ہی رستاخیز سے دوچار ہے۔

ابنائے وطن کی آشفتگی کا رنگ مگر مختلف ہے۔ ہمارے کیسہ میں پیسہ اور نہ کاسہ سر میں علم۔ ہمیں معاملہ فہمی سے غرض اور نہ بندوبست اقلیم میں درک۔ رواں ماہ کی 15تاریخ کو ایشیا پیسفک کے 15ممالک نے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک تشکیل دے لیا۔ دنیا کی 30فیصد تجارت اب اس علاقائی معاشی اتحاد کی گرفت میں ہو گی۔ ادھر امریکا والے نئے صدر اور اس کی انتظامیہ کے خد و خال کے اندازے لگا رہے ہیں۔ ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی اور برادر اسلامی ملک (حرمین شریفین والے) نے بھارت کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے اپنے کرنسی نوٹ پر خطہ کشمیر نیز گلگت بلتستان کو پاکستان سے منفک کر دیا۔

محترمہ شیریں مزاری وفاقی کابینہ کی چنیدہ اعلیٰ تعلیم یافتہ رکن ہیں۔ اپنے رفقائے کار کے غوغائے بے معنی کے بہکاوے میں آ کر ایک ایسا بیان داغ دیا جس کے ردعمل میں حالیہ تاریخ کی سخت ترین سفارتی سرزنش ہمارے حصے میں آئی۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات ہنوز تار عنکبوت سے معلق ہیں۔ جی ایس پی پلس کی مراعات سالانہ نظر ثانی کی محتاج ہیں۔ فرانس کو سالانہ برآمدات کا تخمینہ آدھے ارب ڈالر کے قریب ہے اور پاکستان کے سوا لاکھ شہری قانونی طور پر فرانس میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری علم اور تجربے کی حامل ہیں۔ کیا اب ہم ایسے قلم گھسیٹ صحافی انہیں بتائیں کہ مغرب کے کسی ملک نے بطور مذہب اسلام کی مخالفت کی پالیسی نہیں اپنائی البتہ مذہب کو سیاسی بیانیے کے طور پر اختیار کیا جائے گا تو سیکولر مغرب اس کی مخالفت کرے گا۔ دہشت گردوں کا تصور مذہب اقوام متحدہ کے قوانین اور خود ہمارے ملکی دستور کی شق 20سے متصادم ہے۔ ہماری سیاسی قیادت مقامی جذبات کی للو پتو میں اس قدر آگے نکل گئی ہے کہ قوم کے اہم ترین خارجی مفادات مجروح ہو رہے ہیں۔ اسلاموفوبیا کے بارے میں وزیراعظم کے ارشادات اسی لئے عالمی پذیرائی سے محروم ہیں کہ ان کا موقف قانونی اور اخلاقی طور پر استوار نہیں۔ جذبات نگاری ہی کرنا ہے تو وطن عزیز میں بھاڑے کے صحافیوں اور دانشوروں کی کمی نہیں۔

وزیر اعظم کیوں زحمت فرماتے ہیں۔

برادرم سہیل وڑائچ نے دلِ گداز پایا ہے۔ گزشتہ کالم میں اِس درد مندی سے ’کوئی ہے، کوئی ہے‘ کی دہائی دی کہ والٹر ڈی لا میئر کی نظم Listenersیاد آ گئی۔

No head from the leaf-fringed sill

Leaned over and looked into his grey eyes,

Where he stood perplexed and still.

درویش کو برادرِ مکرم تک رسائی کم کم ملتی ہے لیکن کوئی صاحبِ دل برادرم سہیل کو مطلع کر دے کہ جہاں جمہوری مفاہمت کو ’مک مکائو‘ قرار دیا جائے، جہاں گٹھ جوڑ کو ’ایک پیج‘ کا نام دیا جائے، جہاں ہر سیاسی مخالف کو چور اور غدار پکارا جائے، جہاں ریاستی سربراہ حکومت اور قومی اسمبلی، ہر دو مقام پر داخلے کے لئے عقبی دروازے کو ترجیح دیتے ہوں، جہاں ذاتی انا ریاستی کے اعلیٰ منصب داروں کو قومی اہمیت کے اجلاسوں میں شرکت سے روک دے، جہاں سیاسی عمل سے احترام اٹھ جائے، جہاں جمہوری جہد کی میراث کو موروث کا تحقیر آمیز خطاب دیا جائے، جہاں قومی مفاد کے اجارہ دار میعاد ختم ہونے کے بعد نشان چھوڑے بغیر غائب ہو جائیں، جہاں عوام کے مفاد پر انتقام غالب آ جائے، اس زمیں پر ایسے صاحبان فراست کی فصل کو پالا مار جاتا ہے جو قوم پر مشکل وقت دیکھ کر اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھنے کی استعداد رکھتے ہوں۔ انہیں حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور نوابزادہ نصراللہ خان کا انجام یاد آ جاتا ہے۔ دور نہیں جائیے، 2اگست 2017ءکو کوئٹہ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے محترم رضا ربانی نے ایک وسیع تر مکالمے کی تجویز دی تھی۔ اس پر ان کی اپنی جماعت کے سربراہ آصف علی زرداری نے انہیں ’آزاد دانشور‘ قرار دیا۔ ٹھیک چھ ماہ بعد فروری 2018ءمیں مسلم لیگ (ن) نے رضا ربانی کو سینیٹ کی سربراہی کا متفقہ امیدوار بنانے کی پیشکش کی تو آصف علی زرداری کو اونگھ آ گئی۔

سر بچے یا نہ بچے، طرہ دستار گیا

شاہ کج فہم کو شوق دو سَری مار گیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *