ورلڈبینک کی افغانستان کیلئے 28 کروڑ ڈالر منجمد فنڈز کی منتقلی کی حمایت

ورلڈ بینک نے افغانستان میں انسانی بحران کے خدشات سے نمٹنے کے لیے 28 کروڑ ڈالر منجمد امدادی فنڈز عالمی فلاحی اداروں کو منتقل کرنے کی حمایت کردی۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان معاملات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ عالمی بینک نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے میں افغانستان کی مدد کے لیے منجمد 28 کروڑ ڈالر کی منتقلی کی حمایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی بحالی کے لیے عالمی بینک کی زیر نگرانی قائم فنڈ (آرٹی ایف) کے 31 ڈونرز سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف کو فنڈز کی فراہمی سے قبل اس کی منتقلی کی منظوری دینی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ڈونرز کا اجلاس جمعے کو متوقع ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے ورلڈ بینک کے بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تھا جہاں اے آر ٹی ایف کے 1.5 ارب ڈالر میں سے 50 کروڈ ڈالر کی فلاحی اداروں کو منتقلی کے لیے جائزہ لیا گیا تھا۔

افغانستان کی 3 کروڑ 90 لاکھ آبادی کو سردیوں کے موسم میں غذائی اجناس اور امریکی انخلا کے نتیجے میں طالبان کی جانب سے اگست میں حکومت سنبھالنے کے بعد بڑھتی ہوئی غربت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

افغانستان کے ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امداد سے تعاون ضرور ہوگا لیکن اہم سوالات بدستور موجود رہیں گے، جس میں مالی اداروں پر امریکی پابندیوں کے بغیر فنڈز کی منتقلی سرفہرست ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے بینکوں کو انسانی بنیاد پر فنڈز کی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے حوصلہ افزا خط لکھا ہے کیونکہ اس بات پر تشویش تھی کہ ادویات اور غذائی اجناس جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے حوالے سے بھی امریکی پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خزانہ نے ورلڈ بینک کی افغانستان کی مدد کے حوالے سے فنڈز ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف کو منتقل کرنے کی حمایت پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ورلڈ بینک کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بورڈ نے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور ڈونرز جمعے کو ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ اجلاس میں اے آر ٹی ایف سے فنڈز کی فلاحی اداروں کو منتقلی اور انسانی بنیادوں پر عوام کی براہ راست مدد کے لیے بات چیت کی گئی۔

ورلڈ بینک کے ترجمان نے کہا کہ ڈونرز 3 دسمبر کو فنڈز کی منتقلی کی منظوری دینے کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افغانوں کو بھوک کا سامنا ہوسکتا ہے اور نقدی کے بحران میں معیشت بھی زوال پذیر ہوسکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے ستمبر میں ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ملک کے سیاسی اور معاشی بحران کو قابو نہ کیا گیا تو 97 فیصد افغان آبادی کا خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ ہے۔

error: