وزارتِ صحت کان کھول کر سن لے!

اہلِ مغرب اپنی سائنسی ترقی پر بہت ناز کرتے ہیں بلکہ اس ضمن میں ان کا غرور اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ وہ ہماری قوم میں موجود جوہرِ قابل کو درخوراعتناہی نہیں سمجھتے، وہ اگر ہمارے میڈیکل سائنس کے بزرجمہروں کے کمالات سے آگاہی چاہتے تو ہمارے اخبارات میں شائع ہونے والے ان اشتہارات سے ضرور استفادہ کرتے جن کے مطابق ہرناقابلِ علاج مرض کا علاج ان کے پاس ہے بلکہ ہمارے ان حکماء اور ’’ڈاکٹروں‘‘ کے کمالات کی دھوم بقول ان کے ساری دنیا میں ہے لیکن انہیں کوئی نہیں مانتا تو مغرب کے وہ میڈیکل سائنٹسٹ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کی ساری عمر مختلف امراض کی وجوہ اور ان کا علاج تلاش کرنے میں گزرتی ہے گویا صورت’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے،باغ تو سارا جانے ہے‘‘والی ہے۔

ابھی چند روز پہلے اخبارات کی ورق گردانی کرتے ہوئے میری نظر ایک باکمال شخصیت کے دعوے پر پڑی جس نے کوویڈ 19، ہیپاٹائٹس اے، بی، سی سب کا حتمی علاج دریافت کرلیا ہے اور اس نے قوم کو یہ خوشخبری بھی سنائی ہے کہ یہ مرض اگر آخری اسٹیج پر ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف چند پڑیاں مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گی۔ اسی طرح شوگر کے مریضوں کے لئے بھی اخبار میں خوشخبری ہی خوشخبری تھی۔ اہل مغرب تو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس موذی مرض کو صرف کنٹرول کرنے ہی میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ہمارے معالج اس کے مکمل خاتمے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس اور شوگر کا خاتمہ تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، انہوں نے تو ایڈز کی دوا بھی ایجاد کرلی تھی حالانکہ مغربی تحقیقاتی ادارے اس موذی مرض کے علاج کیلئے سالانہ اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں بلکہ آج بھی اس حوالے سے سرگرم ہیں اور تو اور ہر قسم کے کینسر کا علاج بھی ہمارے ان ’’ڈاکٹروں‘‘ کی پوٹلیوں میں موجود ہے، ادھر وہ ایک پڑی مریض کو دیتے ہیں اور ادھر کینسر مریض کے جسم سے افراتفری کی حالت میں نکلتا ہے اور ’’دڑکی‘‘ لگا دیتا ہے۔

میں جن معالجوں کا ذکر کررہا ہوں ان کے حوالے سے زیادہ قابلِ قدر بات یہ ہے کہ ان کی اسکول کالج کی تعلیم آٹھویں جماعت سے لے کر زیاد ہ سے زیادہ دسویں جماعت تک ہے اوران میں سے اگرکسی نے خدانخواستہ بی اے کیا ہوا تووہ اردو، اسلامیات کے ساتھ ہے، یا ان کے پاس وہ سندیں ہیں جن کے لئے کسی ’’مکتب‘‘ کا زیادہ محتاج نہیں ہونا پڑتا بلکہ اس کے لیے ’’فیضان نظر‘‘ کافی ہوتا ہے اور یوں اگر دیکھا جائے تو یہ باکمال لوگ زیادہ عزت اور تکریم کے مستحق ہیں کہ ایک طرف برس ہا برس تک تعلیم و تحقیق سے گزرنے والے وہ مغربی میڈیکل سائنٹسٹ جو بائی پاس کے دوران دل نکال کر میز پر رکھ دیتے ہیں، جو ناکارہ گردے نکال کر ان کی جگہ کسی دوسرے کے گردے رکھ دیتے ہیں، جو لیور ٹرانسپلانٹیشن کرتے ہیں اورجنہوں نے مصنوعی گھٹنے اور اسی طرح کی بہت سی دوسری ایجادات کر ڈالی ہیں، مگر جب ان کا مقابلہ ہمارے ان تلمیذالرحمٰن معالجوں سےہوتا ہے جو موذی امراض کو ایک جنتر منتر سے جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتے ہیں تو اہل مغرب کی اوقات سامنے آجاتی ہے۔ افسوس احساسِ کمتری کے سبب ہم اپنے اس جوہرِ قابل کی قدر نہیں کرتے، یہ لوگ اگر مغرب میں ہوتے تو اندر ہوتے، میرا مطلب ہے کہ ’’ان‘‘ ہوتے۔

متذکرہ معالجوں کے علاوہ کچھ اور معالج طب نبویؐ کے نام پر بھی مریضوں کی خدمت میں مشغول ہیں، یہ حضورؐ سے منسوب کچھ حدیثوں کا حوالہ دے کر بلڈپریشر کے مریضوں کو کلونجی اور شوگر کے مریضوں کو شہد ملی ادویات کھلا کران کی بیماری کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ میں نے ایک ایسے معالج سے ایک دفعہ پوچھا کہ اگر مریض کو طب نبویؐ کے کسی نسخے سے آرام نہ آئے یا اس کی بیماری میں اضافہ ہو جائے تو وہ اس کی ذمہ داری کس پر ڈالے گا، مگر اس معالج کے ایمان کی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ اس کا کہنا تھا ایسا ہو ہی نہیں سکتا تاہم میرے ایک دوست کاکہنا ہے کہ یہ ایمان کی مضبوطی نہیں، ایمان کی کمزوری ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو ایکسپلائٹ کر کے اور حضورؐ کے اسم مبارک کو استعمال کرکے مریضوں سے پیسے بٹورے جائیں۔ تاہم میں اپنے دوست کی بات سے متفق نہیں ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ ہمارے فخر روزگار معالجوں کے خلاف یہودی پروپیگنڈا ہے، اللّٰہ تعالیٰ ایسے دشمنانِ دین و وطن سے ہمیں محفوظ رکھے!

قارئین کرام، ابھی میں نے اپنے روحانی معالجوں کا ذکر نہیں کیا جن کے کالے یا سفید علم کی نحوست یا برکت سے دشمن کا منہ کالا ہوتا ہے۔ سنگدل محبوب قدموں میں لوٹنے لگتا ہے۔ کاروبار میں برکت پڑتی ہے اور حریف کا کاروبار تباہ ہوتا ہے، ابھی مجھے ان عاملوں کا ذکر بھی کرنا تھا جن کے قبضے میں سینکڑوں جن ہیں اور جن کی مدد سے اور تو اور امریکہ کی توپوں میں بھی کیڑے ڈالے جاسکتے ہیں، مگر یہ ساری باتیں پھر کبھی سہی۔ فی الحال تو آخر میں، میں نے اپنے محکمہ صحت کو مبارک باد دینی ہے کہ ان کے تعاون سے ہمارے متذکرہ معالج کھل کھیل رہے ہیں اور انہیں مکمل سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی ادویات ان سے جانچ پڑتال کرائے بغیر مارکیٹ میں لاسکتے ہیں۔ اگر ہمارے ان قابلِ فخر معالجوں پر خدانخواستہ اس قسم کی پابندیاں مستقبل قریب میں عائد کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ’’اہل ایمان‘‘ یہ برداشت نہیں کریں گے، محکمہ صحت والے کان کھول کر سن لیں۔

error: