وزیراعظم عمران خان کا سری لنکن پارلیمنٹ سے طے شدہ خطاب منسوخ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے اگلے دورہ سری لنکا کے دوران وہاں کے پارلیمنٹ سے طے شدہ خطاب کو منسوخ کردیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے 22 فروری سے 2 روزہ دورے پر کولومبو روانہ ہونا ہے۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے سری لنکن صدر گوٹابایا راجاپاکسا اور وزیراعظم مہیندا راجاپاکسا سے ملاقات اور سرمایہ کاروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کے علاوہ 24 فروری کو سری لنکن پارلیمنٹ سے خطاب بھی کرنا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ عمران خان کے دورے کے دوران پارلیمنٹ سے تقریر کو حکومت پاکستان کی درخواست پر شامل کیا گیا تھا، تاہم سری لنکن میڈیا کے مطابق بعد ازاں اسے منسوخ کردیا گیا۔تحریر جاری ہے‎

سری لنکا سے آنے والی میڈیا رپورٹس میں عمران خان کے خطاب کو منسوخ کرنے کی مختلف وجوہات بیان کی گئیں۔

سری لنکا کے روزنامہ ایکسپریس نے سیکریٹری خارجہ جایاناتھ کولومبیج کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ اسپیکر مہیندا یاپا ابے وردینا کی جانب سے کووڈ 19 کی وجہ سے منسوخی کی درخواست کی گئی تھی۔

تاہم کچھ اخبار نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سری لنکن حکومت میں کچھ عناصر تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ تقریر ہو کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اس طرح کرنا بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کرسکتا ہے جو پہلے ہی کولومبو پورٹ میں ایسٹ کنٹینر ٹرمنل پر معاہدے کی منسوخی کے بعد تناؤ کا شکار ہیں۔

یہ توقع تھی کہ عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے جو دہلی کو ناراض کرسکتا تھا، اسی طرح ایکسپریس اخبار کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم کو یہ موقع دینا عمران خان کو نریندر مودی کی برابری دینے کے مترادف ہوسکتا تھا۔

تاہم ایک اور قیاس آرائی یہ پائی جارہی کہ سری لنکا کی حکومت کو عمران خان کے سری لنکا میں مسلمانوں کے حقوق سے متعلق بات کرنے پر تشویش تھی، جنہیں بدھ مت کی اکثریت کے ہاتھوں زیادتیوں، بڑھتے مسلمان مخالف جذبات اور جانبدارانہ حکومتی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید یہ کہ سری لنکن حکومت نے کووڈ 19 سے مرنے والوں کے لیے میتیں جلانے کا قانون لازمی کیا تھا جو ملک میں مسلمانوں پر لاگو ہوتا تھا۔

تاہم اس معاملے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد رواں ماہ کے اوائل میں حکومت نے مسلمانوں کو اس سے استثنیٰ دیتے ہوئے انہیں میت کی تدفین کی اجازت دے دی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی سری لنکن حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ہم سری لنکن پارلیمان میں وزیراعظم مہیندا راجاپاکسا کی اس یقین دہانی کہ مسلمانوں کو کوروناء سے انتقال کر جانے والوں کی تدفین کی اجازت ہوگی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں اس تمام صورتحال پر دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *