وزیراعظم عمران خان کے دورے کے بعد گوادر کی بجلی کیوں غائب ہو گئی؟

بیگم النسا کہتی ہیں کہ ’جب تم بجلی کے بارے میں لکھو تو یہ بھی لکھنا کہ جیسے ہی بجلی جاتی ہے گوادر میں گیس بھی بند ہو جاتی ہے۔ پچھلے 15 برسوں سے یہی کچھ دیکھ رہے ہیں اور اب حالات زیادہ خراب ہو رہے ہیں۔ عمران خان کے دورے کے روز تو پوری تھی بجلی بس اگلی صبح سے بند ہوئی اور کل کہیں جا کے دو گھنٹے آئی لیکن اب پھر غائب ہے۔‘

میں نے پوچھا گزارہ کیسے ہو رہا ہے، کیا سولر ہے یا جنریٹر؟ تو وہ کہنے لگیں ’نہیں ہم میں سے ہر ایک اتنا خرچہ نہیں کر سکتا۔ ہم کمرے سے نکل کر باہر بیٹھتے ہیں بس یہی کر سکتے ہیں۔ ہمارے بچے رات بھر سوتے نہیں ان کے جسموں پر بڑے بڑے پھوڑے نکل آتے ہیں۔ احتجاج کریں تو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا کوئی ہماری بات نہیں سنتا بلکہ ہمیں زیادہ لوڈ شیڈنگ بھگتنا پڑتی ہے۔‘

کچھ ایسی ہی بات سوشل میڈیا پر نیشنل پارٹی کے پنجگور سے ضلعی صدر صالح بلوچ کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں دکھائی دی جن کا کہنا ہے کہ ’عمران خان نے بلوچستان میں تین سال میں دو دورے کیے۔ تربت کا دورہ کیا بارڈر بند۔ گوادر کا دورہ کیا تمام مکران کی بجلی بند۔‘

اس سلسلے میں میری مقامی صحافیوں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اندرون شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم مچھر اور مکھی کی بہتات سے کھانا تک نہیں کھا پاتے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید میں یہ بھی لکھا جا رہا ہے کہ ’وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے طرف سے اہلیاں مکران اور گوادر کو بغیر بجلی کے ترقی مبارک ہو۔‘

وزیراعظم عمران خان پانچ جولائی کو ایک روزہ دورے پر گوادر گئے تھے جہاں انھیں نے گوادر کا فضائی جائزہ بھی لیا۔

اس روز گوادر بھر میں شدید گرمی تھی، پانی کا مسئلہ تو برقرار تھا لیکن پورے گوادر میں اس روز ایک منٹ بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی تھی۔ ہر فیڈر اپنے اپنی علاقے کو سو فیصد بجلی سپلائی کر رہا تھا۔ شام میں وزیراعظم کا دورہ ختم ہوا اور ماہی گیروں پر بھی سمندر پر جانے کی پابندی اٹھ گئی لیکن صبح آٹھ بجے گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں سمیت مکران ڈویژن کی بجلی غائب ہو گئی اور یہ صورتحال مسلسل 36 گھنٹوں تک جاری رہی۔

منگل کی صبح جانے والی بجلی بدھ کی شام چھ بجے لوٹی لیکن فقط دو گھنٹوں کے لیے۔ اب جمعرات کی شام ہو رہی ہے اور گوادر کے مختلف علاقوں میں آٹھ آٹھ گھنٹے تک بجلی جا رہی ہے۔

یہ تو درست ہے کہ جب کسی علاقے میں وی آئی پی دورہ ہوتا ہے تو بجلی مسلسل آتی رہتی ہے لیکن گوادر کی بجلی اتنے گھنٹے غائب کیوں ہوئی؟

بچوں کو لے کر کبھی کمرے میں کبھی چھت پر کبھی کہاں سونا پڑتا ہے

اگر آپ گوادر کے بازار کا رخ کریں تو شاید ہی کسی دکان پر جلتی لائٹ دیکھیں۔ پرچون کی دکان ہو ہوٹل یا پھر بلوچ لباس کے لیے دھاگے کے رنگ کا انتخاب کرنے میں مشغول خواتین انھیں اس تنگ بازار کی گلیوں میں آنے والی قدرتی روشنی پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں رات جلد ہی ہو جاتی ہے۔

ہسپتال کی بات کریں تو وہاں بھی جنریٹر اور سولر سے مدد لی جاتی ہے اور اس کے بِنا ممکن نہیں کہ ڈاکٹرز مریضوں کے الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے کر سکیں۔

ٹویٹ

ڈاکٹر صدف نے مجھے بتایا کہ ’میں اسی علاقے میں پیدا ہوئی یہیں پلی بڑھی ہوں۔ ہمارے بچپن میں تو یہاں پھر بھی حالات اتنے برے نہیں تھے جو اب ہیں۔‘

’ہر تین دن کے بعد کہا جاتا ہے شٹ ڈاؤن ہے، کھمبا گر گیا، کیا واقعی ایسا ہوتا ہے۔ جھومر والے شہر کی یہ حالت ہے ہر ہفتے کے بعد بجلی کبھی پوری رات نہیں کبھی پوار دن نہیں۔ ابھی کچھ عرصے پہلے بخشی محلے کی لائٹ گئی پندرہ دن تک بند رہی، کوئی حال نہیں یہاں۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ پوری رات کے چکر ہیں، بچوں کو لے کر کبھی کمرے میں کبھی چھت پر کبھی کہاں سونا پڑتا ہے۔ ہمارے جو لوگ شہر کے اندر رہ رہے ہیں ان کا کیا حال ہے اس کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔‘

صدف کہتی ہیں کہ ’جب گوادر شہر سی پیک کا جھومر نہیں تھا تو یہاں چھوٹا سا گرڈ سٹیشن تھا، میں چھوٹی تھی اب بھی یاد ہے بجلی رات بھر تو رہتی تھی۔ 24 گھنٹے تک چھوٹا جنریٹر نہیں چل سکتا اس لیے وہ دن کو بند کر دیتے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں ’سخت گرم موسم میں بند ہوا اس علاقے کے لوگوں کو ایسے پھنسی اور پھوڑوں اور خارش میں مبتلا کرتی ہے کہ ہم ان کی تکلیف الفاظ میں نہیں بتا سکتے۔‘

ڈاکٹر صدف کے مطابق دو سال پہلے ان کے علاقے میں ہفتوں تک بجلی نہیں تھی اور ان کی والدہ کو ایران جا کر رہنا پڑا کیونکہ ان کے جسم پر پھوڑے نکل آئے تھے۔

ٹویٹ

گوادر میں بجلی آتی کہاں سے ہے؟

حکومت پاکستان نے گوادر سمیت مکران کے تین اضلاع میں بجلی کی فراہمی کے لیے ایران سے معاہدہ کیا تھا کیونکہ یہ علاقے اب تک نیشنل گرِڈ سے منسلک نہیں ہو پائے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق سنہ 2003 میں ایک معاہدہ ہوا تھا اور 35 میگا واٹ بجلی کی درآمد کو فروری 2012 میں مزید توسیع کر کے 70 میگا واٹ کر دیا گیا۔ پھر مزید ساحلی علاقے میں ترقیاتی کام ہوئے سی پیک اور آبادی کی وجہ سے ضروریات بڑھیں تو مزید معاہدہ ہوا اسے 100 میگا واٹ کر دیا گیا۔

حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ گوادر کے لیے 100 میگا واٹ الگ سے درآمد کرنے کے معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی لیکن ایران پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔

وزیراعظم کے دورے کے بعد بجلی کیوں غائب ہوئی؟

منگل کے روز صبح آٹھ بجے سے ایران سے مکران کے علاقوں کو فراہم کی جانے والی 132KV جکیگور مند ٹرانسمیشن لائن سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا مسئلہ درپیش آیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ مرمت کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ترجمان کے مطابق اس کی وجہ سے مکران کے تینوں اضلاع یعنی تربت، گوادر اور پنجگور کے علاقوں کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تاہم اس دوران کیسکو نے ایران سے بجلی کی بندش پر مکران کے تمام صارفین سے معذرت کی۔

ٹویٹ

اب دن کے اوقات کار میں ایرانی حکام کی جانب سے بجلی کے کوٹے میں کمی کر کے اسے 100 کی بجائے صرف 8 میگا واٹ تک کر دیا گیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مختلف ذرائع سے یہ بھی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ایران دراصل خود بجلی کے شارٹ فال کا سامنا کر رہا ہے وہاں احتجاج ہو رہے ہیں اور ایسے میں وہ پاکستان کی کیا مدد کرے گا۔

مرمت کے نام پرکئی کئی روز بجلی کیوں غائب ہوتی ہے؟

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کا دعویٰ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کئی کئی روز غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ یا شٹ ڈاؤن ہو لیکن وہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم کئی روز ایسی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔

وہاں موجود صحافی کہتے ہیں کہ یہاں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کو افرادی قوت کا بھی مسئلہ ہے، ’سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں لیکن عملے میں 100 افراد بھی شامل نہیں‘۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومتی اہلکار نے مجھے بتایا کہ مکران میں بجلی کی سپلائی میں داخلی مسائل بھی ہیں۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ عملہ کم ہے لیکن وہ اس کا موازنہ کراچی جیسے دو کروڑ آبادی والے شہر سے بھی کرتے ہیں جہاں بجلی کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے دس ہزار کا عملہ بھی موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر سمیت مکران میں جہاں جہاں مند ایریا سے سپلائی ہو رہی ہے وہاں امن کا بھی مسئلہ ہے۔

’آپ وہاں فورس کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔ مند کے لوگ ادائیگی نہیں کرتے اور اسلحہ کے زور پر دباؤ ڈالتے ہیں۔‘

حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ علاقہ بہت گرم ہے، صبح کے وقت مرمت کا کام کرتے ہیں اور ظاہر ہے اس دوران بجلی معطل ہی رہتی ہے۔

گوادر

سولر پلانٹ کا آپشن کیوں نہیں لیا جا رہا؟

پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا اور انھیں شہر کی ترقی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

انھوں نے جہاں چین کے ساتھ پانی صاف کرنے کے منصوبے کے ایم او یو پر دستخط کیے وہیں کوئلے پر مبنی 300 میگا واٹ کے پاور پلانٹ پر بھی بات ہوئی۔

لیکن اس صحرا میں سولر پلانٹ کیوں نہیں لگایا جا سکتا کیا کبھی کسی کے ذہن میں کوئلے کے بجائے سولر انرجی کا خیال نہیں آیا؟

حکومتی ذرائع کے مطابق گوادر میں متعلقہ ادارے نے بجلی کے مسئلے کے دیرپا حل میں شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ابتدائی منصوبہ یعنی ’پی سی ون‘ تیار کر لیا ہے۔ تاہم ابھی اسے گوادر کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمینٹ پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا۔ حکومتی ذرائع پر امید ہیں کہ یہ آئندہ مالی سال کے پروگرام کا حصہ بن جائے گا۔

کوئلے کا پلانٹ کب چلے گا یا سولر لگ پائے گا یا نہیں اس کی حتمی ٹائم لائن فی الوقت کسی کے پاس نہیں۔

اب گوادر میں توانائی کا فوری متبادل کیا ہے؟

وزیراعظم کی اکنامک ایڈوائزی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ کو اگر مکمل طور پر آپریشنل کرنا ہے تو اس کے لیے حکومت کو بجلی کے حصول کے لیے مختلف آپشنز دیکھنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا ’فوری طور پر ہمارے پاس کیا متبادل ہیں یہ دیکھنا ہو گا۔ یہ ضرور کیا جا سکتا ہے ایک پلانٹ روایتی فیول پر ہو ایل این جی یا فرنس آئل پر ہو لیکن ساتھ ساتھ وِنڈ کے پراجکٹ کو بھی لگایا جائے۔‘

لیکن بہتر آپشن یا دوسرے لفظوں میں کامیاب آپشن کیا ہو گا؟ عابد سلہری کے مطابق اس علاقے میں وِنڈ انرجی ایک اچھا آپشن ہو سکتا ہے اور گوادر ہی نہیں بلکہ پورے کوسٹل ریجن کے لیے یہ ضروری ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس صحرائی علاقے میں سولر انرجی کا پلانٹ لگانا ایک بڑی سطح پر شاید کامیاب آپشن نہ ہو۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سولر پینل پر جب ریت اور مٹی جم جاتی ہے تو وہ اتنے کارآمد نہیں رہتے، بظاہر یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے لیکن صحرا کی ریت اور مٹی خاص طور پر وہاں بگولوں کے اثرات سے بچنے کے لیے پانی سے سولر پینلز کی صفائی بہت ضروری ہے۔

اس کی ناکامی کی مثال انھوں نے پنجاب کے علاقے چولستان کے صحرا میں سولر پلانٹ کی دی۔

ڈاکٹر سلہری کہتے ہیں کہ اگر آپ صاف ذریعہ انرجی لیں گے تو وہ ایل این جی ہے اور سب سے مضر کوئلے کا ذریعہ ہے۔

لیکن 130 میگا واٹ کے دو منصوبوں کا کیا ہوا؟ اس پر تفصیلی بات کرتے ہوئے انھوں نے سپیشل اکنامک زون کو کامیاب بنانے کے لیے برسوں پہلے چین سے ہونے والے معاہدوں پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 130، 130 میگا واٹ کے دو پاور جنریشن پلانٹ لگنے تھے لیکن پچھلے کئی برسوں سے ایسا ممکن نہیں ہو پایا۔

’پچھلے آٹھ سال سے نیپرا نے اس کا ٹیرف منظور نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ مکران ریجن ایران سے بجلی لیتا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: