وزیراعظم کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی تحریک عدم اعتماد کاسامنا

اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کے بعد اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروادی۔

عدم اعتماد کی تحریک مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی رانا مشہود، سمیع اللہ خان، میاں نصیر اور دیگر نے سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کے پاس جمع کروائی جس پر اپوزیشن اراکین کے دستخط موجود تھے۔

قواعد و ضوابط کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیر اعلی پنجاب اب صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے اور اسپیکر 14 روز کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتمادایوان میں پیش کرنے کے لیے آئین کی دفعہ 154 (3) اور 127 کے تحت اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی بھی ریکوزیشن جمع کرائی گئی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ (ن) کے 122 اراکین اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے 6 اراکین اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پر 74 اراکین صوبائی اسمبلی کے دستخط کا ہونا ضروری ہے۔

ساتھ ہی رانا مشہود نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن پر 100 مسلم لیگ (ن) اور 6 پیپلز پارٹی کے اراکین کے دستخط موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور عثمان بزدار کا جانا ٹھہر چکا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایسے وقت جمع کرائی گئی ہے کہ جب آج (پیر کو) ہی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائی گئی تھی جس پر اسپیکر نے 14 روز کی مدت گزرنے کے 3 روز بعد 25 مارچ کو اجلاس بلایا تھا۔

error: