وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری: بلاول بھٹو زرداری کو وزارتِ خارجہ میں کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

پاکستان کے نو عمر وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو پاکستانی خارجہ پالیسی بنانے اور چلانے کی ذمہ داری ایک ایسے وقت میں ملی ہے جب ان کی وزارت کو بیرونی اور اندرونی طور پر سخت مشکل چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایک طرف روس اور مغربی ملکوں کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے اور دوسری طرف انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا سرا کسی طرح پکڑائی دیتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اندرونی طور پر عمران خان اپنے امریکہ مخالف بیانیے کو عوامی رخ دے رہے ہیں۔ ان کی جانب سے حکومت گرانے کی سازش کے ثبوت کے طور پر جس سفارتی مراسلے کا ذکر کیا گیا، اس میں عمران خان کے مطابق امریکہ ان کے دورہ روس سے نالاں تھا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہِ روس کے دوران ہی روسی افواج نے یوکرین پر حملے کا آغاز کیا تھا۔

عمران خان کی تقاریر میں بار بار بلاول بھٹو کے نانا اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی آزاد خارجہ پالیسی کا ذکر بھی کیا گیا۔ دلچسپ بات ہے کہ جس طرح عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار امریکہ کی بیرونی سازش کو قرار دیا، اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنی حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک کو بیرونی طاقتوں کی سازش قرار دیتے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو بطور وزیر خارجہ

ذوالفقار علی بھٹو

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے صدر ایوب کے دور میں وزیر خارجہ بنے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرد مہری اور مسئلہِ کشمیر، امریکہ، چین اور روس سے تعلقات بنا کر رکھنے کی کوشش جس سے پاکستان کو معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکیں اور چین سے مقابلے کے لیے امریکہ کی انڈیا کی پشت پناہی۔۔۔ وہی خارجہ محاذ کے چیلنجز جن کا پاکستان کو آج سامنا ہے، اس وقت بھی پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا امتحان تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر خارجہ بننے سے قبل اور 1960 کی دہائی شروع ہونے سے پہلے پاکستان امریکہ کا قریبی اتحادی تھا جس کو سوویت یونین کے خلاف جاسوسی کے لیے ملک میں ایک اڈہ بھی دیا گیا تھا۔ بھٹو نے اس پالیسی کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک جانب روس سے تعلقات کی بنیاد رکھی گئی تو دوسری طرف چین کے ساتھ سرحدی معاملات نمٹائے گئے۔

اپنی کتاب زلفی بھٹو آف پاکستان میں سٹینلی ولپرٹ لکھتے ہیں کہ 'صدر ایوب کی کابینہ میں صرف بھٹو ہی تھے جن کے پاس یہ وژن تھا کہ عالمی غیر جانب داری کو بطور سیاسی فلسفے کے سمجھ سکتے' اور 'انھوں نے وزیر خارجہ بننے سے قبل 1960 میں بطور وزیر کامرس کابینہ میں تجویز دی تھی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان چین اور روس کی جانب توجہ دے، اور اقوام متحدہ میں پیپلز ریپبلک آف چائنہ کے داخلے پر ووٹ کے ساتھ ساتھ معاشی ایجنڈا پر مزاکرات کا آغاز کرے۔'

سٹینلی ولپرٹ لکھتے ہیں کہ کابینہ کے اس اجلاس کے ایک ماہ بعد بھٹو نے پاکستان کے پہلے سرکاری وفد کے ساتھ سوویت یونین کا دورہ کیا اور پہلے معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو 120 ملین روبل کا قرض ملا اور سوویت یونین نے پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے اپنے ماہرین کی ٹیم بھی بھیجی۔ 1963 میں بھٹو نے چین اور انڈیا کے درمیان جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد چین کے ساتھ بھی سرحدی معاہدہ کیا جس نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی۔

سٹینلی ولپرٹ لکھتے ہیں کہ یہ بھٹو ہی تھے جنھوں نے کشمیر کے مسئلے کو بھی سفارتی طور پر زندہ کیا اور قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا کہ 'ہمارے کئی دوست ہیں۔۔۔ اور اگر انڈیا پاکستان کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو یہ ممالک اسے اپنے خلاف قدم تصور کریں گے۔'

پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اور اسٹیبلشمنٹ

ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا اختتام ہوا تو کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی نے ایک بار پھر امریکہ نواز رخ کر لیا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی فوج کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق کو امریکہ کی بھرپور آشیر باد حاصل ہوئی۔

چند دہائیوں بعد جنرل پرویز مشرف کو بھی افغانستان کی ہی وجہ سے امریکہ کی مدد حاصل ہوئی جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر عمران خان آج کل تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عمر فاروق

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سرد مہری تو 2011 میں سلالہ حملے کے وقت عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے چین سے نہایت قریبی تعلقات رکھتے ہوئے امریکہ سے تعلقات کو مکمل طور پر کبھی بھی ختم نہیں ہونے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی جانب سے عمران خان سے رابطہ نہ کرنا ایک تنازع رہا۔

دوسری جانب پاکستان نے روس سے بھی پرانی سرد مہری ختم کرنے اور نئے سرے سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسی خارجہ پالیسی کو اپنایا جس کے مطابق غیر جانب دار رہتے ہوئے، کسی ایک کیمپ کا حصہ بنے بغیر، تمام طاقتوں سے ملک کے دفاعی اور معاشی مفاد میں خارجہ پالیسی کو ایک انتہائی پُر پیچ راستے پر چلانے کی کوشش کی گئی۔

یہ پالیسی کیا ہے؟ خارجہ امور کی ایک طاقتور شراکت دار، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی اس کے خدو خال بیان کر چکی ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف (بری فوج کے سربراہ) جنرل قمر جاوید باجوہ نے یکم اپریل 2022 کو پاکستان کے 'نیشنل سیکیورٹی ڈویژن' کے زیرانتظام 'اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ' کے باضابطہ فورم سے عوامی خطاب کرتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیے کہ خارجہ پالیسی کا فریم ورک حکومت پاکستان تیار کرے۔

اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان محض ایک روز قبل ہی اسی فورم پر خطاب کے دوران تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنی حکومت ختم کرنے کی سازش کا امریکہ پر الزام لگا چکے تھے لیکن اس بات کا جنرل باجوہ کی تقریر پر کوئی اثر نہیں تھا جس میں آرمی چیف نے امریکہ کو دیرینہ سٹرٹیجک شراکت دار (پارٹنر) قرار دیا اور روس یوکرین جنگ پر کہا کہ ’روس کے تمام تر جائز سکیورٹی تحفظات کے باوجود ایک چھوٹے ملک پر حملے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔‘

جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ امن بات چیت کے خیال کا خیرمقدم کیا اور عندیہ دیا کہ دنیا میں سرد جنگ طرز کی ابھرتی مخاصمت میں پاکستان اب دوبارہ کبھی بھی کسی 'کیمپ پولیٹیکس' (دھڑے کی سیاست) کا حصہ نہیں بنے گا۔

اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان خارجہ پالیسی کا سوال

جنرل باجوہ

بظاہر سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے آخری چند ایام میں خارجہ پالیسی پر جنرل باجوہ اور عمران خان کے اختلاف واضح دکھائی دیے۔ یہ اختلاف خاص طور پر اُس وقت مزید نمایاں ہوکر سامنے آیا جب جنرل باجوہ نے یکم اپریل کو اپنی تقریر میں امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق عمران خان کے خیالات کی تردید کی۔

ایسا بھی پہلی بار نہیں ہوا کہ ایک فوجی سربراہ نے انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ 14 اپریل 2018 کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے عام روش سے ہٹتے ہوئے انڈیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آﺅٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری یہ مخلصانہ سوچ ہے کہ بنیادی مسئلہِ کشمیر سمیت پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کے پرامن حل کا راستہ جامع اور بامعنی مذاکرات سے ہوکر گزرتا ہے۔‘

اُس وقت ملک کی سیاسی صورتحال یہ تھی کہ انتخابات کا دن قریب آرہا تھا اور بھاری بھرکم سیاسی شخصیات ملک کا سیاسی کنٹرول سنبھالنے کے لیے اپنا اپنا زور دکھانے میں مصروف تھیں۔ نوازشریف تازہ تازہ اقتدار سے باہر کردیے گئے تھے اور واضح اشارے تھے کہ عمران خان کے لیے اقتدار کی راہیں صاف کی جارہی ہیں۔

اپریل 2018 میں جنرل باجوہ کی تقریر اسلام آباد میں سیاسی مبصرین کے لیے کچھ حیران کُن ثابت ہوئی تھی۔ اس حقیقت کو پیش نظر کہ یہ ایک بھرپور پالیسی بیان ہے جس میں حریف انڈیا کو امن مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔

یہ بیان سول حکومت کی طرف سے آنا چاہیے تھا لیکن چند لوگ ہی جانتے تھے کہ جنرل باجوہ دو ہفتے قبل ہی ماسکو کا دورہ کرکے واپس آئے تھے۔ اُن میں سے بھی چند ہی کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان روسی فیڈریشن سے جدید ترین ٹی 90 جنگی ٹینک اور دیگر قسم کا جدید روسی اسلحہ خریدنے کے لیے بات چیت کررہا ہے۔

امریکہ، چین اور روس کے درمیان پھنسی خارجہ پالیسی

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف

جنرل باجوہ کے پیش رو، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، نے اکتوبر2015 میں روسی فیڈریشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اسلحے کی تجارت اور اسلحہ سازی میں تعاون کی اجازت دی گئی تھی۔

اپنے دورہِ ماسکو کے دوران جنرل باجوہ نے اپنے روسی ہم منصب سے روسی فوجی ساز و سامان کی خریداری سے متعلق سیاسی امور پر مذاکرات کیے۔ پاکستان کو روسی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو فوجی سازوسامان کی فروخت پر قائل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، اس میں خاص طور پر یہ دقت بھی درپیش تھی کہ ماسکو کے اقتدار کے ایوانوں میں انڈیا پاکستان کے خلاف بڑی بھرپور لابی کرنے میں مصروف عمل تھا۔

اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں جنرل باجوہ کی تقریر نے ملک کے اندر خارجہ پالیسی کے حلقوں میں خاصی تنقید کو جنم دیا۔ ایک سینیئر سفارت کار نے 'آف دی ریکارڈ' انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ جنرل باجوہ کی تقریر نے یہ تاثر دیا کہ ’اگر واشنگٹن کی طرف سے چند مثبت اشارے ملنے شروع ہو جائیں‘ تو پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔

رازداری کی شرط پر ایک سفارت کار نے بتایا کہ ’کیمپ پالیٹیکس کا حصہ نہ بننے کی گفتگو سے بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کو منفی اشارے گئے ہیں۔۔۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ہم واشنگٹن سے کہہ رہے ہوں کہ ہمیں واشنگٹن سے بس کچھ مثبت اشاروں کی ضرورت ہے اور ہم بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو کم کرنے پر آمادہ ہیں۔‘

سینیئر سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں جو کہا ہے وہ اسلام آباد میں ہماری خارجہ پالیسی تیار کرنے والے حلقوں میں ہونے والی بحث کا حصہ ہے ۔۔ لیکن آپ ان امور کے بارے میں عوام میں کھلے عام بات نہیں کرتے بلکہ بند دروازوں کے پیچھے اس پر بحث ہوتی ہے۔‘

بہت سے تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ یکم اپریل کی جنرل باجوہ کی تقریر کے ملک کے سفارتی سیاسی منظر کے لیے واضح مضمرات تھے۔

جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں واشنگٹن کا سٹرٹیجک شراکت دار کے طور پر ذکر کیا جسے پاکستانی خارجہ پالیسی کی تیاری کے حلقوں کے عمومی طور پر شائستہ ماحول میں مثبت طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ ایک ریٹائر پاکستانی سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو دیکھیں کہ کس قدر سرد مہری کا شکار ہیں اور جنرل باجودہ واشنگٹن کو ہمارا سٹرٹیجک پارٹنر بیان کررہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو خارجہ پالیسی پر اپنا اثر کس حد تک دکھا پائیں گے؟

بلاول بھٹو

تاج حیدر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی قریب سے دیکھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بلاول بھٹو کا ایک امیج ہے جو ایک ایسے رہنما کا ہے جو جمہوریت کی بات کرتا ہے، امن کی بات کرتا ہے، اقلیتوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔‘

’یہ وہی ویلیوز ہیں جو پاکستان کی آزادی کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے دی تھیں اور اس وقت دنیا نے پاکستان کی حمایت انہی نظریات کی وجہ سے کی اور خارجہ پالیسی بھی نظریات سے چلتی ہیں، چالاکی سے نہیں۔‘

’بلاول کی دنیا میں عزت ہے کیوں کہ وہ ایک شہید خاندان سے ہے۔ اس وقت دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی دنیا بھر میں ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ بلاول ایسا لیڈر ہے جس نے دونوں کی مخالفت کی، اور وہ بھی اپنی زندگی کو داو پر لگا کر۔ اس کا یہ امیج ہی بین الاقوامی سٹیج پر بہت بڑا ہے۔‘

تجزیہ کار امتیاز گل اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بلاول بھٹو کی واحد قابلیت یہ ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے بیٹے ہیں ورنہ اس عہدے کے لیے ان کے پاس کوئی تجربہ نہیں۔‘

’ان کا سفارت کاری میں کوئی تجربہ نہیں، انھوں نے کوئی کورسز نہیں کیے۔ تو یہ بہت حیران کن بات ہے۔‘

امتیاز گل کا کہنا تھا کہ ’بلاول بھٹو کی بطور وزیر خارجہ تعیناتی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی ایشیا اور پاکستان میں اب تک سیاسی خاندان کے وارث ہی کیوں حکومتیں کرتے آئے ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نویس ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ ’یہ درست ہے کہ بلاول کو وزارت چلانے کا کوئی عملی تجربہ نہیں لیکن وزیرِ مملکت حناربانی کھر کی ہمراہی میں انہیں وہ تجربہ معاونت کی صورت دستیاب ہوگا جو تن تنہا یہ وزارت پہلے چلا چکی ہیں۔‘

ضیغم خان کے نزدیک بلاول بھٹو دو وجوہات کی بنا پر موجودہ حکومت کے لیے ایک سرمایہ یا اثاثہ ثابت ہوں گے۔

ان کے نزدیک ’پہلی بات تو یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے مغربی درسگاہوں سے سیاسیات اور سفارت کاری کے فن میں تعلیم پائی ہے۔ لہٰذا کم از کم علمی حد تک ہی سہی لیکن وہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان میں وہ کشش موجود ہے جو انھوں نے اپنی والدہ سے وراثت میں پائی ہے۔۔۔ ذہن میں رکھیں کہ مغرب انھیں (بے نظیر بھٹو) دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ایک شہید کے طور پر دیکھتا ہے۔۔۔ لہٰذا مغربی دارالحکومتوں میں بلاول کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘

ضیغم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں اپنے نانا کے بعد بلاول بھٹو وہ دوسرے سیاسی ’ہیوی ویٹ‘ ہوں گے جو وزارت خارجہ کا منصب سنبھال رہے ہیں۔ روایتی طور پر بھٹو خاندان چین، خلیجی ممالک اور مسلم دنیا کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے لیے مشہور ہے تاہم بے نظیر بھٹو کی مغربی دارالحکومتوں میں گہری ودیرینہ پذیرائی موجود ہے۔

بلاول کے لیے شاید اپنے نانا اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سفارتی کامیابیوں سے تو بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے بھٹو ایک فوجی سربراہ کی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے، جب کہ بلاول ایک ایسی حکومت کا حصہ ہیں جس کے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں تو ایسے میں کیا بلاول سفارتی محاذ پر کچھ کر دکھا پائیں گے یا نہیں؟ اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے طے کردہ بنیادی سفارتی پالیسی کے خدو خال ان کا راستہ آسان بنائیں گے یا مشکل؟

سابق سینیئر سفارت کار عبدالباسط کا موقف ہے کہ خارجہ پالیسی کی تیاری کے عمل میں وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ’میرے خیال میں (اتحادی حکومت کے) نئے وزیرخارجہ کے طور پر بلاول بھٹو میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اتفاق رائے پیدا کرنے والی شخصیت کا کردار ادا کریں۔‘

error: