وزیر اعظم عمران: ’آرمی چیف کا نام لینے پر فوج میں غصہ پایا جاتا ہے‘ آرمی چیف جہوریت پسند ہیں وہ یہ سب برداشت کر رہے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے جلسوں میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید کا نام لینے پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

’جنرل باجوہ ایک سلجھے ہوئے آدمی ہیں۔ ان کے اندر ٹھہراؤ ہے۔ اس لیے وہ برداشت کر رہے ہیں۔ کوئی اور فوج میں ہوتا تو بڑا ردعمل آنا تھا۔ غصہ تو اس وقت فوج کے اندر بہت ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ برداشت کر رہے ہیں، کیوں کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔'

یہ باتیں وزیر اعظم عمران خان نے نجی ٹی وی سماء کو انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے جلسوں میں لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں اور وہ 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی ذمہ داری آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید پر عائد کرتے ہیں۔ وہ دونوں اعلیٰ عہدیداروں پر عمران خان کی حکومت کی پشت پناہی کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔

پی ڈی ایم نے وزیر اعظم عمران کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی ہے۔

’مذاکرات کے لیے تیار ہوں‘

وزیر اعظم عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ 'ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اپوزیشن کو اس میں دلچسپی نہیں ہے۔ یہ فوج کے اوپر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹا دو۔ یہ ان کی ڈیموکریٹک موومنٹ ہے۔ ان کے مطابق ’پاکستان کی فوج میرے اوپر نہیں بیٹھی، میرے نیچے ہے۔'

’فوج اور ایجسنیوں کو ان (اپوزیشن رہنماؤں) کے بارے میں سب پتا چل جاتا ہے۔ ان کو میرا سب کو پتا ہے، میری کوئی چیز چھپانے کی نہیں ہے، اس لیے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔‘

’پی ڈی ایم ایک ہفتہ بھی دھرنا دے تو استعفے کے بارے میں سوچنا شروع کر دوںگا‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ کردیں تو پتہ چل جائے گا کہ استعفیٰ ان کون دینا پڑے گا یا مجھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ یہ وہاں ایک ہفتہ بھی گزار دیں تو میں استعفیٰ کے بارے میں سوچنا شروع کر دوں گا۔'

پی ڈی ایم کے بارے میں یہ کہوں گا کہ ’یہ جو بھی کریں گے نقصان ان کا ہونا ہے‘۔

عمران خان نے پی ڈی ایم کے آخری منعقدہ جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لاہور جلسہ ایک فلاپ شو تھا۔‘

ان کے مطابق ’میں پاکستان میں جلسوں کا ماہر ہوں۔ جتنے بھی لوگ تھے یہ ایک فلاپ شو تھا۔‘ عمران خان کا کہنا ہے کہ اِدھر اُدھر سے لوگ لے کر آئے ہیں۔ لاہور کے اندر سے لوگ نکلے ہی نہیں ہیں، جلسے کے اندر ایک جنون ہوتا ہے، جہاں تک اس جلسے کی بات ہے۔۔۔ تو خیر میں نے یہ دیکھا ہی نہیں ہے۔‘

عمران

’پی ڈی ایم جماعتوں کی اکثریت استعفے نہیں دے گی‘

پی ڈی ایم کی طرف سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’کل نہیں آج استعفے دیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان کی (پی ڈی ایم) جماعتوں کی اکثریت استعفے نہیں دی گی۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’یہ استعفے دیں تو میں کہتا ہوں کہ اس سے پاکستان کے لیے بہتری ہو گی۔ ان استعفوں سے یہ ہمارا فائدہ کرائیں گے۔‘

مریم نواز اور بلاول بھٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’ان دونوں بچوں کے والدین سیاستدان تھے۔۔ یہ ایسا ہی ہے کہ میرا بیٹا کرکٹ میں کپتان بن جائے۔ انھوں نے جدوجہد کی ہی نہیں ہے‘۔

’نواز شریف کا باہر چلا جانا ایک دکھ بھری داستان‘

نواز شریف کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا کہ اب میں کہا کہوں یہ ایک دکھ بھری داستان ہے۔۔ اب میں کیا کہوں مجھے کہا گیا کہ وہ بہت بیماری ہیں۔ ان کا سیاسی بیگیج اسحاق ڈار اور نواز شریف کے دونوں بیٹے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'اب میں آپ کو کیا بتاؤں، یہ ایک دکھ بھری کہانی ہے۔ ہم چاہ رہے ہیں اس کو ڈی پورٹ کروائیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'پہلے تو مشرف کے دور میں این آر او لے کر چلا گیا تھا، پھر جُھوٹ بولتا رہا کہ کوئی ڈیل نہیں کی۔ آخر سعودی شہزادے نے آکر بتایا کہ معاہدہ ہوا ہے۔ اس بار نواز شریف نے ایسی ادکاری کی ہے کہ بالی ووڈ میں آسکر مل جائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ نواز شریف کو واپس لے کر آئیں مگر کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کتنی دیر لگے گی۔

’جب چاہیں انتخابات کرا سکتے ہیں‘

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ حکومت کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے سینیٹ انتخابات کرا سکتے ہیں۔

اوپن بیلٹ کے ذریعے تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق ہمارے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر بھی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ عمران خان کے مطابق اس طرح انتخابات کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو معلوم ہو گا کہ کون کس کے لیے ووٹ دے رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے مطابق اس طرح پیسے کے زور سے لوگ اوپر نہیں آئیں گے اور قابل لوگ سینیٹر بن سکیں گے۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

error: