وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی صف بندی: ماضی میں تحریک عدم اعتماد کب، کیسے اور کس کے خلاف پیش ہوئی؟

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ملک کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی وجہ مہنگائی اور معاشی بدانتطامی بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے باہمی روابط اور ملاقاتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ان رابطوں میں حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

یہ تحریک کب اور کیسے پیش کی جائے گی، اس بارے میں ابھی حزب اختلاف نے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔ تاہم اس تحریک کے ناکام ہونے سے متعلق خود عمران خان کے وزرا نے پیشگوئی کردی ہے۔

اس تحریک عدم اعتماد کے کامیابی یا ناکامی کے اسباب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کب اور کتنی بار کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا؟

سنہ 1989: وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد

پاکستان میں سنہ 1973 کے آئین میں جب تحریک عدم اعتماد کا طریقہ وضح کیا گیا تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دوتہائی اکثریت حاصل تھی تو کبھی یہ تحریک کسی نے پیش کرنے کا سوچا بھی نہیں۔ مگر آگے چل کر جب ملک میں ایک بار پھر جمہوری سفر شروع ہوا تو تحریک عدم اعتماد جیسی فضا بھی اس کا مقدر بن گئی۔

بے نظیر بھٹو

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب سنہ 1986 میں ملک واپس آئیں تو پنجاب کے شہر لاہور میں ان کا جو استقبال ہوا اسے آج بھی فقیدالمثال کہا جاتا ہے۔

لاہور کی سڑکوں پر ہر طرف عوام ہی عوام تھے۔ سنہ 1988 میں جب ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے تو اس کے بعد نئے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے مارشل نافذ کرنے یا کوئی اور نظام حکومت متعارف کرانے کے بجائے عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔

ان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور یوں بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں۔ ان انتخابات کے بعد نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔

سینیئر صحافی نصرت جاوید کے مطابق یہ وہ عرصہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت صرف چکلالہ اور فیض آباد کے چوک میں ختم ہوجاتی ہے۔

تاہم قصہ یہیں تمام نہیں ہوتا۔

ابھی حکومت کو بنے دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو گئیں۔ نصرت جاوید کے مطابق اپوزیشن اپنے اراکین مری لے گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ آفتاب شیرپاؤ اپنے اراکین کو سوات لے گئے تاکہ کوئی وفاداری تبدیل نہ کرسکے۔

بے نظیر بھٹو

بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا پس منظر کیا تھا؟

بے نظیر حکومت کے پہلے دور میں بدعنوانی کو ملکی حالات کی خرابی کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا۔ صدر مملکت اسحاق خان، جو سابق بیوروکریٹ تھے اور انھوں نے دوبار اسمبلیاں تحلیل کر کے حکومت کے خاتمے کا اعلان بھی کیا، نے روئیداد خان کی سربراہی میں ایک سیل بھی قائم کر دیا تھا، جسے حکومتی عہدیداروں کی طرف سے کی جانے والی بدعنوانی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں ہی ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف بھی بدعنوانی اور اغوا جیسے الزامات بھی میڈیا کی زینت بن چکے تھے۔

اینکرپرسن اور سینیئر صحافی حامد میر کے مطابق یہ ایک ایسا وقت تھا جب آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل انتخابات سے قبل ہی بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف خاصے متحرک تھے اور وہ بھی اس عدم اعتماد کے بھرپور حامی تھے اور انھوں نے اسلامی جمہوری اتحاد ’آئی جے آئی‘ کے نام سے اپوزیشن کو متحد کر دیا، جبکہ خان عبدالولی خان جیسے نامور اپوزیشن رہنما بھی وزیر اعظم کے خلاف متحرک تھے۔

نصرت جاوید کے مطابق فوج کے اندر بہت سے لوگوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو نے قدم جما لیے تو پھر وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گی جنھوں نے ان کے باپ اور ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دی اور اذیتیں پہنچائیں۔ تاہم راتوں رات آئی جے آئی بھی بنا دی گئی۔

ان کے مطابق نتائج پھر بھی توقعات کے برعکس آئے۔ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں مگر انھیں پنجاب کی حکومت نہیں دی گئی۔

تحریک عدم اعتماد
،تصویر کا کیپشنامریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی خبر کا عکس

سنہ 1989 میں بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام کیوں ہوئی؟

تمام تر کوششوں کے باوجود حزب اختلاف کی بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی۔ یہ ناکامی بین الاقوامی اخبارات کی بھی شہ سرخیوں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔

صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق بے نظیر بھٹو کے ساتھ ثابت قدم لوگ تھے جنھیں توڑا نہیں جا سکتا تھا۔

نصرت جاوید اس دلیل کے حمایتی ہیں۔ ان کے مطابق جیسے ہی عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تو پیپلز پارٹی کا ایک رکن تلاوت قرآن کے بعد فوری طور پر کھڑا ہو گیا اور انھوں نے کہا کہ انھیں زبردستی کچھ لوگ مری لے گئے تھے مگر وہ اپنی لیڈر اور اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس تحریک کے خلاف ہیں۔

نصرت جاوید کے مطابق یہ اپوزیشن کے لیے پہلا دھچکا تھا۔ ان کے مطابق جب اس تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو حکومت کے حق میں چار ووٹ اضافی ہی نکلے۔

حامد میر کے مطابق اس تحریک کی کامیابی کی صورت میں قائد حزب اختلاف غلام مصطفیٰ جتوئی نے وزیر اعظم بننا تھا جبکہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف نہیں چاہتے تھے کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم بنے۔

نصرت جاوید کے مطابق چوہدری انور عزیز جو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے نے اس قرارداد کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو چار ووٹ اضافی ہی ملے۔

حامد میر کے مطابق بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں آئی ایس آئی اور آئی بی میں بھی سخت مقابلے کی فضا تھی۔

ایسے حالات میں جب آئی ایس آئی حکومت کے خلاف کھڑی نظر آ رہی تھی تو آئی بی بھی وزیراعظم تک بروقت اور صیحح اطلاعات پہنچا رہی تھی۔

کیا حزب اختلاف کی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی؟

عمران خان

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی سب کے سامنے ہوتی ہے، اس میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی طرح خفیہ ووٹنگ نہیں ہوتی۔

جب تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے تو تین دن سے پہلے اس پر ووٹنگ نہیں ہوسکتی اور سات دن سے زیادہ اس پر ووٹنگ میں تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے۔

نصرت جاوید کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش کرنا آسان ہے جبکہ اس کا منظور ہونا بہت مشکل ہے۔ ان کے خیال میں بے نظیر کے پہلے دور حکومت سے عمران خان کہیں زیادہ مضبوط ہیں کیونکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی مضبوط حکومتیں قائم ہیں۔

نسیم زہرہ کے مطابق آج کے حالات میں ایک بات 100 فیصد حتمی ہے کہ جب تک فوجی قیادت کا کردار اس تحریک میں وزیر اعظم کے خلاف نہیں ہو گا تو تب تک یہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔

ن لیگ

تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے نسیم زہرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایک اپنا رعب اور دبدبہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں بے نظیر بھٹو کا ساتھ دینے والے خود بہت مضبوط تھے اور اب دیکھنا ہو گا کہ تحریک انصاف کے اراکین بھی اس قدر استقامت دکھاتے ہیں۔

حامد میر کے مطابق صورتحال ایک ہفتے تک واضح ہوجائے گی مگر ابھی اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی کی تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کے اراکین کو نااہلی کے خوف سے نکالنے کے لیے عین ممکن ہے کہ اپوزیشن پہلے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں تاکہ وہ ان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس نہ بھیج سکیں۔

خیال رہے کہ اگر کوئی حکومتی رکن وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے تو ایسی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی اس رکن کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 ویں ترمیم کی روشنی میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

حامد میر کے مطابق ابھی حکومت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ پہلے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے یا مرکز سے اس کا آغاز کیا جائے۔

حامد میر کے خیال میں اس تحریک کا بیرومیٹر ایم کیوایم ہے۔ ان کے خیال میں اس وقت ایم کیو ایم سنجیدہ نظر آتی ہے اور اگر ایم کیو ایم نے ساتھ دیا تو پھر ق لیگ بھی اس تحریک کی حمایت کرے گی۔

پی ڈی ایم

نصرت جاوید اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق بے نظیر بھٹو کے پہلے دورحکومت میں ایم کیو ایم کراچی میں بہت مضبوط تھی اور وہ حکومت کی اتحادی بھی بن گئی۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم نے تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دیا تھا۔

اگرچہ اس وقت اپوزیشن کے رہنما یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں ایم کیو ایم کے علاوہ بھی متعدد حکومتی اراکین کی بھی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حامد میر کے خیال میں ایسے اراکین کی تعداد بظاہر تین سے چار ہی بنتی ہے جو اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

نصرت جاوید کے مطابق جب تک حکومت کے 20 سے 30 لوگ ٹوٹ کر اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیتے تو یہ تحریک محض وقت کا ضیاع ثابت ہوگی۔

حامد میر کے مطابق ابھی نواز شریف باہر سے سب ہدایات دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں نواز شریف پہلے اس خیال کے حامی نہیں تھے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے کیونکہ وہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنا دینا چاہتے تھے۔ مگر یہ اہم ہے کہ اب وہ بھی اس تحریک کے حامی ہو گئے ہیں۔

حامد میر کے خیال میں اپوزیشن کو ایسا لگتا ہے کہ اب عمران خان کے سر سے سٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ گیا ہے اور اب اتنخابات سے متعلق بھی اپوزیشن میں کوئی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی مرضی سے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے قانونی سازی منظور ہوئی ہے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی آئی ایم ایف کی وجہ سے بڑھی تو پھر یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر عمران خان کو رخصت بھی کر دیا تو کیا کوئی جماعت برسراقتدار آ کر آئی ایم ایف سے ڈیل منسوخ کرنے کی ہمت کرے گی؟

ان کے مطابق اپوزیشن رہنما اس سوال پر کوئی واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔

error: