وزیر اعظم کا صوبائی دارالحکومتوں میں این سی او سی اجلاس منعقد کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے وفاق اور صوبوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس میں بہتر رابطہ کریں اور ہدایت کی کہ نیشنل کمانڈ اور آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس تمام صوبائی دارالحکومتوں میں منعقد ہوں۔

 رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے وائرس کو روکنے کے لیے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ انتظامیہ کا تعاون بڑھے گا اور کورونا وائرس سے متعلقہ انتظامی اقدامات میں مزید بہتری آئے گی'۔

دریں اثنا ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 307 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور 66 اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کورونا وائرس کیسز کی ملک میں مجموعی تعداد 2 لاکھ 39 ہزار 729 ہوگئی ہے اور ہلاکتیں 4 ہزار 954 ہوگئیں۔

اب تک اس وائرس سے کل ایک لاکھ 40 ہزار 965 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو عیدالاضحی کے موقع پر اور محرم کے دوران معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اور تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیر معاشی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز احمد شاہ، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، وزیر اعظم کے معاونین لیفٹیننٹ (ر) جنرل عاصم سلیم باجوہ اور ڈاکٹر شہباز گل، کورونا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سلطان، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور وزیر اعظم آفس کے دیگر سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کیسز کو مزید کم کرنے کے لیے انہیں اپنے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنانا ہوگا۔

وزیر اعظم کو حالیہ صورتحال، علاقائی منظرنامے، اسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے مثبت نتائج، کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور بستر اور عید الاضحی اور محرم کے دوران مہلک بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 شہروں کے 227 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوسرے ممالک کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس طرح کے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد معاشی صورتحال بدتر ہونے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 شہروں کے 227 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوسرے ممالک کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس طرح کے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد صورتحال بدتر ہوگئی اور اموات میں بھی اضافہ ہوا۔

اجلاس نے اس اطمینان کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر سخت لاک ڈاؤن کے عمل کے برخلاف پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی انتہائی کارآمد ثابت ہوئی اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں پر بھی بوجھ بہت حد تک کم ہوگیا ہے۔

انہیں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے کی مخصوص سہولیات والے بستروں کی تعداد 1500 ہوگئی ہے اور اگلے چند دنوں میں یہ 2500 تک پہنچ جائے گی۔