وزیر خزانہ نے 14 اہم شعبوں کے معاشی منصوبوں کا پروگرام پیش کردیا

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام سے باہر نہ نکلنے اور اکتوبر میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے عزم کے ساتھ وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک اور مختصر، درمیانی اور طویل مدتی پر مشتمل پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے 14 اہم شعبوں کا پروگرام پیش کردیا۔

 رپورٹ کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کے 8 اراکین اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی باضابطہ نجکاری کے لیے ایک دو روز میں بولی دہندگان کو مدعو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی منصوبہ بندی پر مبنی معاشی پالیسی دو دہائیاں پہلے ختم ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔

شوکت ترین نے بتایا کہ نیا منصوبہ جامع اور پائیدار ترقی کی منزل طے کرے گا، حکمت عملی کے ساتھ ان قابل عمل منصوبوں کی بنیاد پر ہر وزیر وزیر اعظم کے سامنے ماہانہ بنیاد پر پیش رفت پر بریفنگ دے گا۔

حکومت کے تین سال قبل اقتدار میں آنے پر اعلان کردہ معاشی منصوبوں اور وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے وزرا کی کارکردگی پر نظرثانی کے وعدوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ انہیں اعلان کردہ اسی طرح کے منصوبوں کے نتائج کے بارے میں جوابدہ نہیں ہونا چاہیے، حکومت کی جانب سے جب وہ 3 سال قبل اقتدار میں آئی اور وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے بطور وزیر خزانہ اس سمت میں ایک کوشش کی تھی لیکن وہ آگے نہیں بڑھ سکے ’لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہے اور ہم اس پر عمل درآمد کریں گے اور ماہانہ بنیاد پر آپ کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کا اکنامک ریفارمز یونٹ وزیراعظم کو پیش رفت سے آگاہ کرے گا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس پیشہ ورانہ جائزوں میں ماہرین کی مدد فراہم کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جمعرات کو آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی اور اگلے ماہ کے آخر تک آئندہ جائزے پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اور پھر 11-17 اکتوبر کے سالانہ اجلاسوں کے دوران میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت کروں گا‘۔

شوکت ترین نے کہا کہ ستمبر سے 14 شعبوں میں کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی اور وزیراعظم کو ہر ماہ منصوبوں پر عملدرآمد کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے نہ صرف حکمت عملی وضع کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت صرف قلیل مدتی اقدامات پر عمل درآمد کر سکے گی ، جن میں سے کچھ موجودہ سال کے بجٹ میں پہلے ہی شامل ہوچکی ہے لیکن یہ آنے والی حکومتوں کے لیے مرحلہ طے کرے گی۔

شوکت ترین نے واضح کیا کہ کلیدی توجہ نوجوانوں کو معیشت کے پیداواری شعبوں میں شامل کرنے کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای اے سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے ترقی کو آگے بڑھانے والے شعبے زراعت سمیت چھوٹے فارم، مائیکرو انٹرپرائزز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، تعمیر، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ یہ وفاقی، صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے مابین مربوط، مستقل پالیسیوں کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: