وفاقی بجٹ 2022-2023: پاکستان میں حکومت کو بجٹ بنانے میں کون سے چیلنج درپیش ہیں؟

پاکستان میں اپریل کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو اقتصادی محاذ پر اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی و جاری کھاتوں کا خسارہ، تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر شامل ہیں اور انھی وجوہات کی بنا پر ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایک جانب حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے ذریعے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب نئی حکومت کو پہلے دو مہینوں میں بجٹ پیش کرنے کے بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

پاکستان میں جون کے مہینے میں بجٹ پیش کرنے کی روایت ہے اور نئے مالی سال کا آغاز جولائی سے ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ کی تیاری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کا مالیاتی خسارہ بلند ترین سطح پر ہے اور معاشی ماہرین کے مطابق اس سال بجٹ خسارہ 3400 ارب روپے کی بجائے 30 جون 2022 تک 5000 ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور اس بڑے خسارے کے ساتھ اگلے سال کا بجٹ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

حکومت کو بڑے بجٹ خسارے کے ساتھ جب بجٹ بنانا پڑے گا تو اس کا اثر پاکستان کے ترقیاتی اخراجات، دفاعی اخراجات اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی پروگرام پر پڑے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ابھی تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچے، جس کی وجہ سے پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط ابھی تک جاری نہیں ہو سکی۔

پاکستان معیشت

بجٹ بنانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج

حکومت کو بجٹ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا خسارہ ہے جو اس مالی سال کے آخر تک 5000 ارب روپے کی حد تک جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کو خسارے کو کم کرنے کے ساتھ ملک کی معاشی شرح نمو کو بھی بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہیں تاکہ ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکیں اور اس کے ساتھ پیداواری عمل کے ذریعے عام آدمی کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔

ماہرِ معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ جو مالی خسارہ سامنے آ رہا ہے اس کے بعد جو پیسے باقی بچتے ہیں اس سے قرضے کی ادائیگی اور قسطوں کی ادائیگی کے بعد کچھ بھی نہیں بچتا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 7000 ارب روپے تک کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اس کا مطلب ہے 2000 ارب اور اس کچھ زائد پیسے باقی بچتے ہیں۔

دوسری جانب قرضوں اور اُن پر سود کی ادائیگی 300 ارب کرنی پڑتی ہے۔ اب اس کے بعد ترقیاتی بجٹ، دفاعی اخراجات اور سروس کا انفراسٹرکچر چلانے کے لیے درکار رقم موجود نہیں ہو گی جس کے لیے حکومت کو ایک بار پھر بیرونی اور مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والے قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں معاشی اُمور کے سینیئر صحافی شہباز رانا کے مطابق حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے بجٹ کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو پھر حکومت کے لیے اگلا بجٹ بنانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے بیرونی فنڈنگ نہیں ملے گی جو اس وقت ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں محقق شاہد محمود نے بھی اس سلسلے میں یہی بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ مالیاتی خسارے کا ہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سال ملک کی آمدن چھ کھرب روپے کی متوقع ہے اور خسارہ پانچ کھرب سے بھی زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

’اب ایسے عدم توازن کے ساتھ نیا بجٹ حکومت کے لیے بہت مشکل کام ہو گا۔‘

آئی ایم ایف

مہنگائی کا چیلنج

پاکستان میں مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح چودہ فیصد کے لگ بھگ ریکارڈ کی گئی۔ حکومت کی جانب سے تیل مصنوعات کی قیمتوں میں تیس روپے فی لیٹر اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مئی کے مہینے میں اضافہ ہوا۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح 16 سے 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔

موجودہ حکومت کے لیے مہنگائی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسے بجٹ کی تیاری میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ مہنگائی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ حکومت نے پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی تو دی تو لیکن اس نے اس کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا جس کا منفی اثر یہ ہوا کہ اس نے ملک کے مالیاتی خسارے کو بڑھا دیا۔

انھوں نے کہا فیول سبسڈی کا خاتمہ ایک مشکل فیصلہ ہے تاہم اس کے ساتھ دنیا بھر میں اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کا اثر پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال پر بھی پڑا اور اس نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح کو بڑھایا۔

شہباز رانا نے مہنگائی کو حکومت کے لیے دوسرا بڑا چیلنج قرار دیا کیونکہ بجٹ بنانے کے لیے حکومت کو پیسے درکار ہیں اور ان پیسوں کا ذریعہ بین الاقوامی ادارے ہیں۔

شہباز رانا نے کہا کہ حکومت کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوتا ہے تو اس کے لیے کچھ چیزوں کی جیسے بجلی و تیل کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی جس کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا اور عام افراد کے لیے مسائل بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔

ڈاکٹر پاشا نے کہا ہے حکومت کی جانب سے تیس روپے فی لیٹر قیمت بڑھانے کے بعد جلد ہی تیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں اور زیادہ اضافہ ہو گا۔

شہباز رانا نے کہا کہ آئی ایم ایف ٹیکس محصولات کا ہدف 7255 ارب کرنے کا کہہ رہا ہے جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنا پڑے گا اور اضافی ٹیکس لگانا پڑیں گے۔

پاکستان معیشت

’اب یہ اضافی ٹیکس کن افراد اور کاروباری شعبوں پر لگے گا، یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مختلف لابیوں کا اثر و رسوخ حکومتوں پر رہا ہے اور پاکستان مسلم لیگ نون پر کاروباری اور تاجر برادری کا اثر بہت زیادہ ہے۔ اب حکومت اضافی ٹیکسوں کے مسئلے سے کیسے نمٹے گی کہ وہ بجٹ بھی تیار کر لے اور آئی ایم ایف کی شرائط کے ساتھ ٹیکسوں کا اضافی بوجھ نہ ڈالے۔‘

شاہد محمود نے بھی مہنگائی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا کیونکہ اس سے عام افراد متاثر ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا تاہم حکومت کے پاس مہنگائی سے نمٹنے کا کوئی قلیل مدتی پلان نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے پاس فسکل سپیس یعنی مالی طور پر اتنی استعداد اور گنجائش نہیں کہ وہ لوگوں کو سہولت فراہم کر سکے۔

تجارتی و جاری کھاتوں کے بڑھتے ہوئے خسارے کا چیلنج

پاکستان کو اس وقت بڑھتے ہوئے تجارتی اور جاری کھاتوں کے خسارے کا سامنا ہے اور اس کی وجہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بہت دباؤ ہے اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے جو بلند ترین سطح دو سو روپے کی حد تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ پہلے دس ماہ میں لگ بھگ چالیس ارب ڈالر ہے جب کہ پہلے نو ماہ میں جاری کھاتوں کا خسارہ تیرہ ارب ڈالر سے زائد ہے۔

معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ملک کے لیے بیرونی محاذ پر بے پناہ مسائل پیدا ہوں گے۔

انھوں نے کہا اس وقت بھی نئی حکومت کو یہی مسئلہ درپیش ہے جس کے لیے حکومت کو کوئی مربوط پالیسی اور سٹرکچرل ریفارمز کرنا پڑیں گی۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ یہ خسارے بلاشبہ بہت بڑے چیلنج کی صورت میں حکومت کو درپیش ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان کو ان شعبوں میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے فنانسنگ مل جائے گی کیونکہ دنیا ایک ایسے ملک کو ان حالات میں نہیں چھوڑ سکتی کہ جو ایٹمی قوت ہو اور دیوالیہ ہو جائے۔

پاکستان معیشت

ترقیاتی بجٹ و دفاعی اخراجات کا چیلنج

پاکستان کو جہاں دوسرے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں حکومت کے لیے خسارے کے بجٹ کے ساتھ ترقیاتی بجٹ اور دفاعی اخراجات کے لیے پیسے نکالنا ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج اس سلسلے میں اخراجات پر قابو پانا ہو گا۔ اس وقت موجودہ حکومت مخلوط حکومت ہے اور اتحادی چاہیں گے کہ ان کے تجویز کردہ منصوبوں کے لیے زیادہ ترقیاتی فنڈ رکھے جائیں تاہم دوسری جانب آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ اخراجات پر قابو پانے کے لیے دباؤ ہوگا۔

شاہد محمود نے کہا اس سال بھی ایک کھرب روپے ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے تھے تاہم جو فنڈز ریلیز کیے گئے ہیں وہ چار سو ارب سے کچھ زائد ہیں جس کا مطلب ہے کہ خسارہ ہے اور زیادہ پیسے نہیں دیے جا سکتے۔

ڈاکٹر فرخ نے کہا پانچ ہزار ارب سے زائد کا خسارہ سامنے آ رہا ہے اور اگلے سال ملکی آمدن اور اخراجات کے بعد جو پیسے بچتے ہیں ان سے قرضوں کی ادائیگی کی جا سکے گی اور ترقیاتی بجٹ اور دفاعی اخراجات پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے جن کے لیے پھر ادھار لینا پڑے گا۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا اس سلسلے میں حکومت کو غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا ہو گی جس میں حکومت کے اداروں میں رائٹ سائزنگ اور جو سرکاری ادارے خسارے میں جا رہے ہیں ان کے معاملات کو دیکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر عائشہ پاشا سے جب نئے سال کے بجٹ میں ملک کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے کے دفاع اور ترقیاتی بجٹ پر اثر کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں دفاعی بجٹ پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ترقیاتی بجٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

error: