وفاقی بجٹ 21-2020: کیا یہ بجٹ عام آدمی کے لیے بھی سود مند ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ملک کا 8400 ارب روپے خسارے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ تیسرا وفاقی بجٹ ہے۔ وفاقی بجٹ کو حکومت کی جانب سے معاشی ترقی میں اٖضافے کا بجٹ قرار دیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں نو سو ارب سے زائد سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں تو اس کے ساتھ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف مراعات اور ٹیکس چھوٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں جہاں مختلف شعبوں کے لیے مختلف مراعات اور ان پر ٹیکسوں کا نفاذ کیا گیا ہے تو دوسری جانب ایک عام آدمی کے لیے اس بجٹ میں کیا ہے کہ جس کے ذریعے اسے فائدہ حاصل ہو سکے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں کمی/اضافہ اور معاشی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات ایک عام آدمی کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔

پاکستان

تنخواہ اور پنشن میں اضافہ

وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جو دس فیصد ایڈہاک ریلیف کی صورت میں انہیں دیا جائے گا۔ بجٹ میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کورونا وائرس کے بحران اور اس کی وجہ سے معیشت میں پیدا ہونے والے منفی رجحان کے باعث حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافے کا اعلان ملک میں مہنگائی کی بلند شرح کے باعث ملازمین کو ریلیف فراہم کرے گا۔

موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے تک افراط زر کی شرح دس فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ اور پنشن میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دو سال میں مہنگائی کی شرح بلند سطح پر موجود ہے۔ وفاقی بجٹ میں کم از کم اجرت بھی بڑھا دی گئی ہے جو اب 20 ہزار روپے ہو گی جو اس سے قبل 17500 روپے تھی۔

ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کم از کم اجرت 20000 تک بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے تاہم اس پر عمل درآمد کس حد تک ہوتا ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔

ٹیکسوں میں چھوٹ کا عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں مختلف پیداواری شعبوں کو ٹیکس کی مد میں چھوٹ دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے پیداواری شعبے کو مراعات دے کر ملکی معاشی پیداوار کو بڑھانا ہے جس کا اگلے مالی سال میں ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے۔ ٹیکسوں میں چھوٹ سے پیداواری شعبے میں سرگرمیوں میں اضافہ جہاں معیشت کو فروغ دے گا تو اس کے ساتھ یہ ملک میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

پاکستان

اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عام آدمی کے زیر استعمال چیزوں پر ٹیکس کی شرح بھی گھٹا دی ہے جن میں سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی شامل ہیں۔

وفاقی بجٹ میں 850 سی سی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کے ساتھ ’ویلیو ایڈڈ ٹیکس‘ اور ’فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی‘ کی شرح میں بھی رعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عالیہ خان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی جو ایک عام آدمی کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے تاکہ وہ موٹر سائیکل سے چھوٹی گاڑی پر آسکے۔ اسی طرح ٹیلی کام سروسز پر ٹیکسوں کی چھوٹ سے بھی ایک عام آدمی کے لیے ٹیلی کام رابطہ کاری میں زیادہ سہولت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹی صنعتوں کے لیے مراعات اور ٹیکسوں میں کمی بھی ایک عام شخص کو ریلیف فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر عالیہ نے زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے زرعی آلات پر ٹیکسوں میں کمی کو ایک عام کسان کے لیے مثبت اقدام قرار دیا جو اس شعبے میں ترقی اور ایک عام کسان کی حالت بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔

اسی طرح شہری گھرانے کو کاروبار کے لیے بلا سود پانچ لاکھ تک کا قرضہ اور کاشتکار کو ڈیرھ لاکھ تک کا بلا سود قرضہ بھی کم آمدنی والے طبقات کی بہتری میں مدد گار ثابت ہو گا۔

ٹیکس اہداف میں اضافہ عام آدمی کو کیا متاثر کر سکتا ہے؟

حکومت نے اگلے مالی سال میں موجودہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ ہدف اگلے مالی سال میں 5800 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں تاریخی طور پر ملک کے مجموعی ٹیکس آمدنی میں ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کا توازن بہت بگڑا ہوا ہے۔ ملک کے مجموعی محصولات میں زیادہ حصہ اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں آتا ہے جو سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پٹرولیم ڈیویلمپنٹ لیوی کی شکل میں خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔

ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب نچلی سطح پر موجود ہے جس کی وجہ ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں کم محصولات کا اکٹھا ہونا ہے۔ اگلے مالی سال میں بڑے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے حکومت کو سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی جیسے ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے ممکن ہوگا جس کی قیمت ایک عام صارف کو چیزیں مہنگے داموں خریدنے کی صورت میں چکانا پڑے گی۔

انسٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر امجد رشید نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کے لیے حکومت کو زیادہ اقدامات اٹھانے پڑیں گے تاہم اسے ایسا میکنزم اپنانا پڑے گا کہ عام آدمی اس سے متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جب ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی ہے تو زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تو سرمایہ دار یا صنعت کار قیمتیں بڑھا کر صارف سے یہ ٹیکس وصول کر لیتا ہے۔

امجد رشید کے مطابق معیشت میں ابھی بھی بہت سارے غیر رسمی شعبے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور شاید حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنا ٹیکس زیادہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لایا گیا کہ جس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے۔

بجٹ

سبسڈی میں اضافہ عام آدمی کے لیے کیسے فائدہ مند ثابت ہو گا؟

وفاقی بجٹ میں سبسڈی کا تخیمنہ 682 ارب روپے رکھا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے مختلف چیزوں کی قیمت پر زرتلافی دے کر ان کی قیمت ایک عام آدمی کی قوت خرید میں لائی جا سکے۔ ان میں بجلی کے بلوں پر دی جانے والی سبسڈی کے علاوہ خوراک پر دی جانے والی سبسڈی شامل ہے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ خان نے اس اقدام کو بھی عام آدمی کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ ملک میں بجلی کی قمیتوں اور دوسری چیزوں کی نرخوں میں اضافے کو سبسڈی کے ذریعے ہی قابو پا کر ان چیزوں کو عام آدمی کی قوت خرید میں لایا جا سکتا ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اضافہ عام آدمی کے لیے کیسے سود مند ہوگا ؟

پاکستان

وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقم میں اضافہ کر دیا گیا ہے جو موجودہ مالی سال کے 650 ارب روپے کے مقابلے میں 900 ارب روپے ہوگا۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اضافے کے ذریعے حکومت ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی میں زیادہ رقم خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ذریعے موجودہ مالی سال کے مقابلے میں اگلے مالی سال میں زیادہ رقم خرچ کر کے حکومت معیشت کے مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ چاہتی ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بہتری سیمنٹ، سریا اور دوسرے تعمیراتی شعبوں کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گی جو عام آدمی کے لیے نئی ملازمتوں کی شکل میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

بجٹ

تعلیم اور صحت کے لیے مختص بجٹ

وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ میں بھی اقدامات شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں لوگوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے حکومت 1.1 ارب ڈالر ویکسین کی خریداری پر خرچ کرے گی جس کے ذریعے اگلے مالی سال میں دس کروڑ لوگوں کو ویکیسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح یونیورسل ہیلتھ کوریج کو بڑھا کر زیادہ سے زیادہ افراد کو طبی سہولیات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے جس کے ذریعے تعلیم کے فروغ کا اعلان کیا گیا ہے۔

غریب اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سوشل سیکورٹی کا پیکج

وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں معاشرے کے غریب اور کم آمادنی والے افراد کے لیے سوشل سکیورٹی کے تحت مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے زیر نگرانی چلنے والے احساس کفالت پروگرام کے لیے اگلے مالی سال میں بجٹ بڑھا دیا گیا ہے جس کے ذریعے موجودہ مشکل معاشی حالات میں غریب اور کم آمدنی والے افراد کو نقد رقم کی صورت میں امداد دی جا سکے گی۔

اگلے مالی سال کے لیے احساس کفالت پروگرام کے لیے رقم 210 ارب روپے سے بڑھا کر 260 ارب کر دی گئی ہے۔ حکومت نے اس پروگرام کی رقم کورونا وائرس کی وجہ سے جنم لینے والے معاشی بحران میں غریب اور پسماندہ طبقات کی مدد کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل:

سوشل میڈیا پر جہاں کچھ حلقے اس بحٹ کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں وہیں بیشتر افراد اسے ’ہر بار جیسا۔۔۔ اعداد و شمار کا ہیر پھیر‘ قرار دیتے مہنگائی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

AJSaadShah

سعد نے لکھا ’وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ امیر کے فائدہ مند جبکہ غریب کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔‘

عبد القادر شاہین نے تبصرہ کیا: حکومت کی طرف سے حالیہ وفاقی بجٹ میں غریب عوام کے لیے ریلیف کے دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے اور یہ بجٹ ہرلحاظ سے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کی عکاس ہے جس میں متوسط طبقے کے لیے کچھ نہیں۔

MiftahIsmail

راشد حسن نے لکھا ’بجٹ ایک معاشی اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہونے کے باوجود بہت سارے عوام کی امیدوں کا محور ہوتا ہے۔ 2021 کا بجٹ شاید انڈسٹری اور پرائیوٹ سیکٹر کے لیے ٹھنڈی ہو اکا جھونکا ثابت ہو لیکن غریب آدمی اور سرکاری ملازمین شاید اس سال مزید غربت کی طرف دھکیلے جائیں گے۔

ایک اور صارف نے دفاعی بجٹ کا موازنہ تعلیم کے بجٹ سے کرتے ہوئے لکھا ’گولی بندوق کے لیے 1330 ارب مختص لیکن کتاب اور قلم کے لیے صرف 9 ارب۔ پھر عقل سے پیدل لوگ پوچھتے ہیں ہماری جہالت، غریبی اور مفلسی کیوں نہیں جاتی؟‘

iqrarulhassan

صحافی اقرار الحسن نے لکھا ’آج بجٹ ٹرانسمیشن میں بلڈرز، صنعتکاروں، تاجر نمائندوں، معیشت کے ماہروں کو پہلی بار بجٹ اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کی سمت کو درست قرار دیتے ہوئے سُنا۔۔۔ اچھا لگا۔ اللہ کرے عمران خان صاحب کی حکومت کی اِن پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کا غریب جلد خوشحالی کی منزل پر پہنچے۔‘

انصر احمد بجٹ سے خوش ہیں۔۔۔ انھوں نے لکھا ’ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ، کاغذ اور بورڈ، سٹیل، دواسازی، پینٹ، کیمیکلز، الیکٹرانکس، کیبلز اور فائبر آپٹکس اور آٹوموبائل تک تمام نعتوں کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ ملی ہے۔ شاید ہی کوئی انڈسٹری بچی ہو۔‘

aaq62

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *