وقت کی اہمیت

اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،قدرت کی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت ''وقت'' بھی ہے،جو کہ ایک بہت بڑی نعمت اور انسان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے۔وقت کی یہ نعمت دنیا میں بسنے والیہر انسان کو بلا تفریق حاصل ہے۔وقت انسان کی زندگی کا دوسرا نام ہیاور زندگی اس کی مرہون منت ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب انسان کا دنیا میں مقررہ وقت پورا ہوتا ہیتو اس کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔وقت ایک گراں مایہ دولت ہے اور یہ دولت تقاضا کرتی ہے کہ اسے ضائع نہ کیا جائے۔کیونکہ اگر انسان کی سستی یا لاپرواہی سے وقت ہاتھ سے نکل گیا تو یہ واپس نہیں آتا۔تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی و کامرانی ہمیشہ انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہیجو وقت شناس اور اس کے قدر دان ہوتے ہیں،اور ہاتھ پر ہاتھ دھرنے اور خیالی پلاؤ پکانے میں مگن رہنے والوں کے خیالوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی،اور نہ وقت ان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔فارسی کا مشہور قول ہے کہ ''وقت از دست رفتہ وتیزازکمان جستہ بازیناید''یعنی ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا،اور نبی آخر الزمان نے بھی وقت کی اہمیت پر فرمایا،دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے وہ ہیں وقت اور صحت۔
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ ایک برف فروش سے مجھ کو بہت عبرت ہوئی کہ وہ کہتا جا رہا تھا کہ ''اے لوگو مجھ پر رحم کرو میرے پاس ایسا سرمایہ ہے کہ ہر لمحہ تھوڑا تھوڑا ختم ہوتا جا رہا ہے''اس طرح کی ہماری بھی حالت ہے کہ ہر لمحہ برف کی طرح تھوڑی تھوڑی عمر ختم ہو جاتی ہے اس کے پگھلنے سے پہلے جلدی بیچنے کی فکر کرو،فراغت کے وقت کو مشغولی سے پہلیغنیمت سمجھو،زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو اور کام کرنا شروع کر دو۔بقول حسن البنائشہید''وقت ہی زندگی ہیاور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان کی زندگی اس وقت سے عبارت ہیجسے وہ پیدائش کی گھڑی سے لے کر آخری سانس تک گزارتا ہے''جب وقت کی اتنی اہمیت ہییہاں تک کہ وقت ہی کو زندگی سے تعبیر کیا گیا ہیتو ایک مسلمان پر وقت کیاعتبار سے بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس لیے اسے چاہئیے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اور ہمیشہ انہیں پیش نظر رکھیاور علم و ادراک کے دائرے سے آگے بڑھ کر انہیں عملی جامہ پہننانے کی کوشش کرے۔ہمارے اسلاف کرام نے علمی و عملی زندگیوں میں جو عالی مقام حاصل کیااور میدان میں منوایا یہ سب وقت کی قدر کرنے اور اسے اپنے کام میں لانے ہی کی بدولت ہے۔ان کی عالی ہمت اور جذبہ و جوش کا اندازہ ان کی عملی خدمات سے لگایا جا سکتا ہیکہ ان کی نظر میں وقت کی کتنی اہمیت تھی۔انسان اپنی زندگی میں کوئی بھی کام کریتو اس سے پہلے یہ ضرور سوچے کہ اس کام میں میرے لیے دین یا دنیا کا کوئی فائدہ موجود ہے یانہیں۔اگر کسی کام میں کوئی فائدہ نہیں ہے تووہ فضول اور لا یعنی کام ہیاور اس سے اپنے وقت کی حفاظت کرنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔اگر ہم نے کام کرنے سے پہلے اسی سوچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو تو ہمارے لیے اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچانا آسان ہو جائے گا۔
حلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک شخص حاضر ہوااور ایک کرتب دکھایا کہ فرش کے بیچ میں ایک سوئی کھڑی کی اور پھر ہاتھ میں مزید سوئیاں لے کر کچھ فاصلہ پر کھڑا ہو گیااور ان سے فرش پر کھڑی سوئی کا نشانی لینا شروع کیا،اس نے اس طرح کئی سوئیاں پھینکیں اور سب کی سب فرش پر کھڑی سوئی کے ناکیمیں داخل ہو کر پار ہو گئیں۔اس منظر نے خلیفہ سمیت تما دربار والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔خلیفہ ہارون الرشید نے اس کو دس دینارانعام دینے اور اور ساتھ ہی دس کوڑے مارنے کا حکم دیا،حاضرین نے وجہ پوچھی تو کہا کہ دس دینارانعام تو اس کی ذہانت اور تجربیکی وجہ سے اور دس کوڑیاس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے وقت اور صلاحیت کو ایسے کام میں ضائع کیا جس میں دین و دنیا کسی کا فائدہ نہیں۔نوجوان نسل کسی بھی قوم کا مستقبل ہوا کرتی ہیاس لیے ان کا وقت صرف انہی کیلیے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کیلیے اہم ہوتا ہے۔اور اگر وہ اپنے اوقات کو ضائع کرتے ہیں تو یہ پوری قوم کا نقصان ہوتا ہے۔بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل اس وقت اپنے قیمتی اوقات کو بے دریغ ضائع کرنے میں مصروف ہے جو ہمارا المیہ ہے۔غرض یہ کہ ہمیں من حیث القوم ضیاع وقت کی اس بیماری پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *