وہ ’باغِ زہر‘ جہاں موجود چند پودوں کو چھونے سے ہی انسان کی موت ہو سکتی ہے

سیاہ گیٹ پر انتباہ ہے ’یہ پودے جان لیوا ہو سکتے ہیں‘ اور یہ انتباہ مذاق نہیں۔ ان لوہے کی سیاہ سلاخوں کے پیچھے موجود پلاٹ دنیا کا سب سے خطرناک باغ ہے اور یہ عوام کے لیے کھلا ہوا ہے۔

انگلینڈ میں نارتھ ہمبرلینڈ میں ایلنوک کے مقام پر یہ ’پوائزن گارڈن‘ سنہ 2005 میں بنا تھا۔ یہاں 100 سے زیادہ زہریلے اور نشہ آور پودے موجود ہیں۔

اس باغ میں گائیڈ ڈین سمتھ نے بتایا کہ سیاحوں کو باغ میں داخلے سے پہلے حفاظتی بریفنگ دی جاتی ہے۔

انھیں بتایا جاتا ہے کہ اس باغ میں وہ کسی بھی پودے کو نہ تو ہاتھ لگا سکتے ہیں نہ چکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ سکتے ہیں۔

اس احتیاط کے باوجود جیسا کہ ویب سائٹ کے نوٹ میں بھی لکھا ہے کہ کبھی کبھار کچھ سیاح اس زہریلی فضا میں چلتے ہوئے وہاں سانس لینے کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔

ڈین سمتھ نے کہا کہ یہاں پر کاشت کیے جانے والے خطرناک پودے مانکس ہُڈ، یا ’وولفس بین‘ ہے، جس میں ایکونیٹائن، جو کہ ایک نیوروٹوکسن اور کارڈیو ٹاکسن ہوتا ہے لیکن یہ سب سے بُرا نہیں۔

’یہاں ہمارے پاس جو سب سے زہریلا پودا ہے وہ رسین کا ہے جسے عام اصطلاح میں کیسٹر بین یا کیسٹر آئل پلانٹ کہا جاتا ہے۔‘

’گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ اسے دنیا کا سب سے زہریلا پودا مانتا ہے۔‘

ڈین سمتھ نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ باغ میں اگنے والی بہت سی چیزیں بہت عام ہیں اور یہاں کے بہت سے پودے برطانیہ میں اگنے والے جنگلی پودے ہیں اور زیادہ تر پودوں کی کاشت خطرناک حد تک آسان ہے۔ یہاں تک کہ مشہور گھریلو باغی جھاڑیاں جیسے روڈوڈینڈرون بھی یہاں ہیں۔ ان پتوں میں گریانوٹوکسن ہوتا ہے جو کھانے سے انسان کے اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ ’آپ کے پتے کھانے کا امکان نہیں ہے کیونکہ ان کا ذائقہ ناگوار ہوتا ہے۔‘

اور پھر وہاں لیبرنم کا درخت ہے، جو برطانیہ کا دوسرا سب سے زیادہ زہریلا درخت ہے (صرف ییو کا درخت زیادہ خطرناک ہے)۔ بہت سے لوگ ان کے خوبصورت پیلے پھولوں کی وجہ سے اپنے گھروں کے آس پاس رہنے دیتے ہیں مگر ان میں سائٹسائن نامی زہر ہوتا ہے۔

ڈین سمتھ کے مطابق یہ ’درخت اتنا زہریلا ہے کہ اگر شاخوں میں سے کوئی ایک فرش پر گر جائے تو کئی مہینوں تک وہیں پڑی رہے اور بعد میں وہاں کسی کے ساتھ کتا آ جائے اور اسے اٹھا لے تو اس بات کے امکانات ہیں کہ کتا واک مکمل نہیں کر سکے گا اور مر جائے گا۔‘

زہریلے پودے اپنے زہر سے صرف انسانوں یا کتوں کو ہی متاثر نہیں کرتے۔

جیسا کہ سمتھ بتاتے ہیں اگر روڈوڈینڈرون کافی تعداد میں قریب قریب اگ جائیں تو وہ زمین کو بھی زہر آلودہ کر سکتے ہیں۔ پھر اس زمین پر ان کے علاوہ اور کچھ نہیں اگ سکے گا۔

اگر شہد کی مکھیاں انہی پودوں سے شہد نکالیں تو وہ مائع لال رنگ کا ہو جاتا ہے جسے اگر کم مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ نشہ آور کیمیائی خصوصیت رکھتا ہے۔ سمتھ خبردار کرتے ہیں کہ اس کی زیادہ مقدار جان لیوا ہو سکتی ہے۔

کچھ پودے اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ان کو کھانے، چھونے یا سونگھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس باغیچے میں ایک ایسا پودا بھی ہے جس کی اگر آپ صرف صفائی کریں تو یہ آپ کو ہلاک کر سکتا ہے۔

پرونس لاروکیراسس نامی پودے، جسے چیری لارل یا انگلش لارل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں دو ایسے اجزا ہیں جو الگ الگ ہوں تو بے ضرر ہوتے ہیں۔ یہ سیانو جینک گلائکوسائیڈز اور سائینائیڈ اونز ہی۔ لیکن اگر کوئی جانور پتوں کو چباتے ہوئے ان دونوں اجزا کو ملا لے یا کوئی انسان ان کو کاٹنے کی کوشش کرے تو یہ سائینائِیڈ گیس خارج کرتے ہیں۔

باغ زہر

سمتھ کہتے ہیں کہ ’عام طور پر آپ ایک ایسی جگہ پر ہوتے ہیں جہاں ہوا موجود ہوتی ہے لیکن اگر آپ ان کے ساتھ کسی بند جگہ پر ہوں جہاں سے ہوا کا اخراج نہیں ہو سکتا، جیسا کہ گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر کہیں لے جا رہے ہوں، تو آپ سائینائید گیس کے قریب موجود ہیں۔‘

کرسمس روز کی طرح ہیلی بورز بھی ایک خطرناک پودا ہے۔ اس کی جڑ میں ایسے کارڈیو ٹوکسن یا زہر موجود ہیں جو آپ کے دل کی دھڑکن بند کر سکتے ہیں اور اس کا رس خارش پیدا کرتا ہے۔ سمتھ خبردار کرتے ہیں کہ ان کے قریب جاتے ہوئے دستانے پہنیں اور ان کو اپنے دانتوں سے کھینچ کر کبھی بھی نہ اتاریں۔

اس باغیچے کے باغبان کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے۔

یہاں کے ہیڈ مالی رابرٹ ٹرنینٹ کہتے ہیں کہ ان کا سٹاف مختلف طرح کے حفاظتی اقدامات لیتا ہے۔

’کچھ ایسے پودے ہیں جہاں آپ کو کسی طرح کی حفاظت درکار نہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جہاں آپ مکمل حفاظتی سوٹ، فیس ماسک اور دستانوں کے بغیر نہیں جا سکتے۔‘

باغبان ایمی تھورپ ان تمام خدشات سے پریشان نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ مجھے پریشان ہونا چاہیے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے بہت سے پودے ہم سے پہلے سے موجود ہیں۔ تو یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان کے بارے میں آگہی حاصل کریں۔ ان میں سے بہت سے پودوں کا اچھا استعمال ہوتا ہے، یہ سب برے نہیں۔‘

درحقیقت یہاں موجود بہت سے خطرناک پودے بیماریوں سے علاج کا ذریعہ ہیں۔ جیسا کہ ییو جو چھاتی کے سرطان کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔

پیری ونکل پودا بھی دو دھاری تلوار ہے۔ اس کے اجزا مہلک ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان کا درست استعمال کیا جائے تو ان سے مفید ادوایات بنائی جا سکتی ہیں۔

تو یہ حیران کن نہیں کہ یہ باغ منشیات کے بارے میں تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے۔ کلیئر مچل جو کمیونٹی اینڈ ایجوکیشن ہیڈ ہیں، بتاتی ہیں کہ انگلینڈ کے شمال مشرق میں منشیات سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔

’نوجوانوں تک درست معلومات پہنچانے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ڈرگ ایجوکیشن پروگرام کا منصوبہ زہریلے باغ کی سیر سے نکلا۔ اس پروگرام کا مقصد ہی منشیات سے بچانا ہے۔‘

یہ باغ منشیات کی اے بی سی بھی بتاتا ہے۔ سمتھ کہتے ہیں کہ ’یہاں افیم اگائی جاتی ہے جو کلاس اے ہے، بھنگ جو کلاس بی ہے اور کاتھا ایڈولس جسے کھاٹ کے نام سے جانا جاتا ہے کلاس سی میں شمار ہوتی ہے۔‘

لیکن باغبان ٹرنینٹ کے مطابق ان کا عملہ ہر پودے کا حساب رکھتا ہے اور ہر سیزن کے اختتام پر باقاعدہ ثبوت دیا جاتا ہے کہ ان پودوں کو تلف کر دیا گیا ہے۔