وہ محل جہاں ٹی وی اشتہار بنانے والے ہی جاتے ہیں

یہ گذشتہ برس اگست کی بات ہے جب پاکستان میں کووڈ وبا کی پہلی لہر آئے ہوئے چار ماہ گزر چکے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی صرف دفتر سے گھر اور گھر کے اندر چار دیواری سے اکیلے کام کرتے ہوئے گزر رہی ہے۔ مگر شاید اس دوران ایسی تمام تر جگہوں پر (بغیر کسی ایس او پی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے) جایا جاسکتا تھا جو نزدیک بھی ہیں اور اس کی کوئی تاریخی اہمیت بھی۔

تو یہ کہانی ہے بیدی محل کی۔ 'بیدی محل' کے بارے میں سنا تو بہت تھا لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ یہ اسلام آباد سے کتنا دور اور کہاں واقع ہے۔ دو سال پہلے اسلام آباد منتقل ہونے پر بہت سے لوگوں نے بتایا تھا کہ شہر سے نزدیک بہت سی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں ایک ہی دن میں جاکر واپس آیا جاسکتا ہے۔ تو ایک روز اس محل کو دیکھنے کا پلان بنایا۔

تھوڑی سی تحقیق (یعنی گُوگل) کرنے پر پتا چلا کہ بیدی محل اسلام آباد سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر کلّر سیداں میں واقع ہے۔ پورا گھنٹہ لگے گا یا نہیں یہ اسی روڈ پر آنے والا روات، کہوٹہ لنک روڈ کا سگنل طے کرتا ہے جہاں اکثر ٹریفک جام رہتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے میں گوگل کی مدد سے روات کے راستے کلر سیداں تک پہنچ گئی۔

وہاں پہنچ کر حیرانی ہوئی کہ میرے بیدی محل کہنے پر بہت سے لوگوں کو نہیں پتا تھا کہ یہ کیا جگہ ہے۔ دو تین مرتبہ ایسا ہونے پر ایک پھل فروش نے دوبارہ پوچھا کہ 'بابے دا محل؟' تب ماجرا سمجھ آیا کہ بہت سے لوگ اسے بیدی محل کے نام سے شاید نہیں جانتے۔

بیدی محل
بیدی محل

میں محل کا پوچھتے پوچھتے آگے گئی تھی تو مجھے بتایا گیا کہ گاڑی دوبارہ موڑ کر فیصل بینک کی گلی میں چلی جاؤں جہاں سب کو پتا ہے کہ محل کہاں ہے۔ پہنچنے پر دو، تین تنگ گلیوں میں موجود گھروں کے اطراف سے گزرنا ہوا جہاں سے ایک سکول کا گیٹ نظر آیا۔

گیٹ کے باہر چوکیدار اور ایک رکشہ والے نے بتایا کہ یہی بیدی محل کا راستہ ہے اور اب اس محل کا ایک حصہ ایک سیکنڈری سکول کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ سن کر حیرانی ہوئی اور لگا کہ پتا نہیں اس عمارت کا اب کیا حال ہوچکا ہوگا۔

بظاہر سکول کا یہ چھوٹا سا گیٹ اندر ایک بڑی راہداری میں کھلتا ہے جہاں سے بالکل سامنے پتھروں کی ایک بھوری عمارت اور الٹے ہاتھ پر سفید رنگ کی سکول کی عمارت نظر آتی ہے، جو ایک ہی جگہ کی دو بالکل متضاد حقیقت بتاتی ہیں۔

بیدی محل کا بلند و بالا داخلی دروازہ بند رہتا ہے جو چوکیدار نے بتایا کہ سکھ یاتریوں کے آنے پر کھول دیا جاتا ہے۔ انہی چوکیدار کو، جنھوں نے اپنا نام صرف محمد بتایا، اسی احاطے میں موجود سکول کی رکھوالی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔

بیدی محل

مجھے بتایا گیا کہ محل کے دروازے کی چابی سکول کے پرنسپل کے پاس رہتی ہے جو کسی مہمان کے آنے پر ہی کھولا جاتا ہے۔ پرنسپل صاحب سے اسی دوران فون پر بات کرنے پر پتا چلا کہ اس سے پہلے اس محل کے اندر پرائمری جماعتوں کی کلاس ہوا کرتی تھی، جو اس عمارت کی مخدوش حالت دیکھ کر یہاں سے منتقل کردی گئی۔ انھوں نے کہا کہ 'ہم نے اس دوران دوسرے سکول کی تعمیر مکمل ہونے کا انتظار کیا تاکہ یہاں سے بچوں کو بروقت نکال لیا جائے۔'

یہ تعمیراتی کام دو سال پہلے مکمل ہوا جس کے بعد سکول کی اس نئی عمارت میں بچوں کو منتقل کردیا گیا ہے۔

ابھی یہی بات ہورہی تھی کہ اس دوران ایک لڑکا بھاگتا ہوا محل کی چابی لے کر پہنچا۔

دروازہ کھلتے ہی پہلا دیدار سامنے کی دیوار کا ہوا جس پر 'صفائی کا خاص خیال رکھیں' لکھا ہوا تھا۔

بیدی محل

اندر جاتے ہی پہلے دیوار آتی ہے اور پھر الٹے ہاتھ پر مڑتے ہی ایک بڑی سی راہداری آتی ہے۔ جس تک پہنچنے کے بعد ایک اور دروازہ آتا ہے۔ ان بھاری دروازوں پر لکڑی کا کام ہوا ہے جبکہ اس کے اوپر سوکھے ہوئے گلاب کے پھول آج بھی لٹکے ہوئے ہیں۔ پوچھنے پر چوکیدار نے بتایا کہ جب اس عمارت میں سکول ہوا کرتا تھا تو یہاں ون ڈِش پارٹی ہوئی تھی جس کے بعد سے یہ پھول یہیں لٹکے رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ٹی وی اشتہار کی شوٹنگ بھی کی جاتی ہے۔

دروازہ کھلنے پر ایک اور خوبصورت راہداری سامنے آتی ہے جس کے گِرد بنی چاروں دیواروں پر کی گئی مصوری آپ کو اپنی طرف کھینچتی بھی ہے اور گزرے ہوئے دور کی کہانی بھی سناتی ہے۔

بیدی محل
بیدی محل
بیدی محل

اسی راہداری سے چار مختلف راستے پہلی اور دوسری منزل کی طرف جاتے ہیں جہاں اسی طرح کا کام ہوا ہے۔ تیسری منزل سے اس محل کی پہلی منزل پر بنی راہداری کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب، کلر سیداں کا بھی مکمل منظر نظر آتا ہے۔

بیدی محل
بیدی محل

کھیم سنگھ بیدی کون تھا اور ان کے اس محل کی کیا اہمیت ہے؟

سر لیپل ایچ گریفن کی انگریزی زبان کی کتاب دی پنجاب چیف کا اردو ترجمہ ہونے والی کتاب تذکرہ روسائے پنجاب کے مطابق یہ محل بابا کھیم سنگھ بیدی نے انیسویں صدی کے اواخر میں تعمیر کروایا تھا۔

بابا کھیم سنگھ بیدی کے بارے میں لیپل ایچ گریفن لکھتے ہیں کہ ان کی پیدائش فروری 1832 میں کلّر، ضلع راولپنڈی میں ہوئی تھی۔ اور ان کا براہِ راست تعلق سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک سے ہے۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بارے میں گریفن لکھتے ہیں کہ اس دوران بابا کھیم سنگھ بیدی نے برٹش راج کا ساتھ دیتے ہوئے گوگیرہ (ضلع اوکاڑہ) کے علاقے میں مقامی لوگوں کی 'بغاوت' روکی تھی۔ جس کے نتیجے میں انھیں 1877 میں مجسٹریٹ مقرر کیا گیا اور پھر 1878 میں اعزازی طور پر منصف کی اضافی ذمہ داری بھی دی گئی۔ جبکہ جنگِ آزادی کی تحریک میں برٹش راج کا ساتھ دینے اور ان کی خدمات کے نتیجے میں انھیں 1893 میں انھیں وائسرائے قانون ساز کونسل کا حصہ بنایا گیا۔ جس کے بعد 1898 میں انھیں سر کا خطاب دیا گیا۔

اب اگر اس محل کی بات کریں تو اس عمارت کی دیواروں پر بنی مصوری آہستہ آہستہ ماند پڑرہی ہے۔ جبکہ دیواروں پر کئی جگہ کائی جم رہی ہے۔

بیدی محل
بیدی محل

اس وقت اس محل کو بند کردیا گیا ہے۔ جبکہ اس کے سامنے موجود سیکنڈری سکول کووڈ کی وبا پھیلنے سے پہلے تک کھلا تھا۔

پرانی تعمیرات پر تحقیق کرنے والے صحافی ذوالفقار کلہوڑو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پوٹوھار خطے میں ایسے بہت سے محل اور تعمیرات ہیں جو حکومت کی مدد کے منتظر ہیں۔ آہستہ آہستہ ان تمام تعمیرات پر یا تو قبضہ ہوجائے گا۔ یا پھر ان کو سکولوں یا دیگر حکومتی عمارتوں میں تبدیل کردیا جائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ ایک اور بات کا خیال بھی رکھنا ہوگا کہ پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو ان مختلف مقامات کی تزئین و آرائش کے لیے پیسے دینے کے لیے کوئی مجبور نہ کرے۔ 'اس وقت بہت سے ایسے گروپ موجود ہیں جو سکھوں کو ان کی تاریخ بیچ رہے ہیں تاکہ وہ یہاں آئے بغیر اس پر پیسے لگائیں۔لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ پیسے نہیں لگتے اور بیچ میں ایجنٹ کھا جاتے ہیں۔'

دوسری جانب محققین کہتے ہیں کہ یہ ایک اچھا دور ہے جہاں وفاقی حکومت کا بھی دھیان سیر و تفریح اور تاریخی مقامات کی تعمیرات کی طرف مبذول ہے۔ جس کے نتیجے میں ان تعمیرات کو عام عوام کے لیے کھولا جاسکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان مقامات کی مزید تشہیر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو کھنڈر بننے تک کی نوبت نہیں آئی گی۔

اس وقت تو یہ محل گاہے بگاہے کّلر سیداں آنے والے لوگوں کے لیے اور خاص کر سِکھ یاتریوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک خوف یہ بھی ہے کہ یہ کمرشل اشتہارات کے لیے استعمال ہوتے ہوتے اپنی موجودہ شناخت نہ کھو دے۔

error: