وہ پاکستانی کھلاڑی جو انگلش کاؤنٹی کرکٹ کی ضرورت بن گئے

ساٹھ سے نوے کی دہائی تک انگلش کاؤنٹی کرکٹ پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھی۔

اس کا فائدہ کھلاڑیوں کو بھی ہوا کرتا تھا کیونکہ انھیں اپنے کھیل میں غیر معمولی بہتری لانے کا موقع ملتا اور دوسری جانب ان کاؤنٹی ٹیموں نے بھی ان کرکٹرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت اہم فتوحات حاصل کیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب انگلش کاؤنٹی ٹیمیں پاکستانی کرکٹرز کی خدمات پورے سیزن کے لیے حاصل کرتی تھیں لیکن اب انٹرنیشنل کرکٹ کی مصروفیات کے باعث کرکٹرز پورے سیزن کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔

خیال رہے کہ انگلش کاؤنٹی سیزن بھی آج کل کے آئی پی ایل مقابلوں کی طرح سب کی توجہ کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اب کاؤنٹی ٹیمیں تینوں فارمیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کرکٹرز سے معاہدے کرتی ہیں۔

اس سال پاکستان کے دس کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے دکھائی دیں گے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حالیہ دنوں میں ان کرکٹرز کی بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی کارکردگی کے سبب انگلش کاؤنٹیز نے بھی انھیں ہاتھوں ہاتھ لینے کا موقع ضائع نہیں کیا اور وہ ان کرکٹرز کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔

ان میں سے کچھ کرکٹرز فرسٹ کلاس میچوں میں یعنی کاؤنٹی چیمپئن شپ میں حصہ لے رہے ہیں اور چند کا معاہدہ ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے لیے ہوا۔

شاہن

شاہین شاہ آفریدی (مڈل سیکس)

شاہین شاہ آفریدی کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ وہ اس وقت دنیا کے بہترین نوجوان فاسٹ بولر ہیں جنھوں نے صرف 22 سال کی عمر میں اپنی صلاحیتوں کا زبردست مظاہرہ کیا۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ سنہ 2021 میں آئی سی سی کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

انگلش کاؤنٹی مڈل سیکس نے شاہین شاہ آفریدی سے کاؤنٹی چیمپیئن شپ اور ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ دونوں میں کھیلنے کا معاہدہ کیا ہے اور وہ جولائی کے وسط تک کاؤنٹی کو دستیاب ہوں گے۔

حسن

حسن علی (لنکا شائر)

فاسٹ بولر حسن علی پچھلے چند ماہ سے اپنی فٹنس اور فارم کے سلسلے میں مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں وہ اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے جس کے لیے وہ مشہور ہیں تاہم پہلی بار انگلش کاؤنٹی کھیلتے ہوئے وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے بہت زیادہ پرامید نظر آتے ہیں۔

حسن علی اس سیزن میں لنکا شائر کاؤنٹی کی طرف سے چھ فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیں گے۔

حسن علی کو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے جیمز اینڈرسن کے ساتھ کھیلیں گے جن سے وہ بولنگ کی اہم باتیں سیکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جیمز اینڈرسن کو جمی بھائی کہہ کر بھی مخاطب کیا۔

حسن علی کو اس بات پر بھی خوشی ہے کہ وہ لنکاشائر کاؤنٹی کے گراؤنڈ اولڈ ٹریفرڈ میں بھی کھیلیں گے۔ یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں انھوں نے سنہ 2016 میں اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کا آغاز کیا تھا۔

عباس

محمد عباس (ہیمپشائر)

میڈیم فاسٹ بولر محمد عباس نے پہلی مرتبہ سنہ 2018 میں لیسٹرشائر کاؤنٹی کی نمائندگی کی تھی۔

یہ وہ سیزن تھا جس میں انھوں نے مجموعی طور پر 64 فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں سے نو وکٹیں آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں حاصل کیں اور پھر انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں وہ آٹھ وکٹیں حاصل کر کے مین آف دی میچ بھی قرار پائے تھے۔

محمد عباس نے گذشتہ انگلش سیزن میں ہیمپشائر کی نمائندگی کرتے ہوئے 41 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

محمد عباس اس سیزن میں بھی ہیمپشائر کی طرف سے کھیل رہے ہیں اور انھوں نے سمرسٹ کے خلاف سیزن کے پہلے میچ میں صرف پچاس رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی اننگز اور 113 رنز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے باوجود محمد عباس اس وقت پاکستانی ٹیم کا حصہ نہیں۔

نسیم

نسیم شاہ (گلوسٹر شائر)

نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کو گلوسٹر شائر نے کاؤنٹی چیمپئن شپ اور ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے لیے حاصل کیا ہے لیکن بدقسمتی سے کندھے کی تکلیف کے سبب نسیم شاہ کاؤنٹی چیمپئن شپ کے پہلے میچ کی پہلی اننگز میں صرف گیارہ اوورز ہی کروا پائے اور دوسری اننگز میں وہ بولنگ نہ کر سکے۔

حارث

حارث رؤف (یارکشائر)

حارث رؤف پاکستان سپر لیگ کھیلنے والی ٹیم لاہور قلندرز کی پراڈکٹ ہیں اور وہ آسٹریلوی بگ بیش میں بھی متاثر کن کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

یارکشائر کاؤنٹی ان کی وکٹ لینے کی صلاحیتوں سے امید لگائے ہوئے ہے۔

شاداب

شاداب خان (یارکشائر)

شاداب خان سے بھی یارکشائر کاؤنٹی نے معاہدہ کیا تاہم وہ صرف ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے دستیاب ہوں گے۔

ٹی ٹوئنٹی شاداب خان کا پسندیدہ فارمیٹ ہے جس میں وہ پی ایس ایل سمیت مختلف ملکوں کی فرنچائز کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

اظہر

اظہرعلی (ووسٹرشائر)

اظہر علی کا ووسٹر شائر کی طرف سے یہ پہلا سیزن ہے اور وہ پورے سیزن کے لیے دستیاب ہیں تاہم بدقسمتی سے وہ سمرسٹ کے خلاف پہلے میچ میں ناکام رہے۔

پہلی اننگز میں وہ صفر پر رن آؤٹ ہو گئے جبکہ دوسری اننگز میں وہ دو رن بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

اظہر علی اس سے قبل سمرسٹ کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں اور سمرسٹ کی طرف سے اپنے پہلے ہی میچ میں انھوں نے سنچری بنائی تھی جو اتفاق سے ان کی موجودہ ٹیم ووسٹر شائر کے خلاف تھی۔

پجارا

محمد رضوان (سسیکس)

سنہ 2021 کے بہترین آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے محمد رضوان کاؤنٹی شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جو انھیں اسی انداز میں کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ وہ اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ میں کر رہے ہیں۔

رضوان جولائی کے وسط تک کاؤنٹی چیمپئین شپ اور ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ دونوں میں حصہ لیں گے۔

شان

شان مسعود (ڈربی شائر)

پاکستان سپر لیگ میں شاندار کارکردگی کے بعد عام خیال یہی تھا کہ شان مسعود کو آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں موقع ملے گا تاہم ان پر امام الحق کو ترجیح دی گئی اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

شان مسعود نے ڈربی شائر کی طرف سے سیزن کا آغاز شاندار انداز میں کیا۔

لارڈز میں انھوں نے مڈل سیکس کے خلاف میچ کی پہلی اننگز میں 91 اور دوسری اننگز میں 62 رنز سکور کیے جبکہ سسیکس کے خلاف دوسرے میچ کی پہلی اننگز میں انھوں نے ڈبل سنچری سکور کی۔ یہ ان کے فرسٹ کلاس کریئر کی پہلی ڈبل سنچری ہے۔

ظفر

ظفر گوہر (گلوسٹر شائر)

لیفٹ آرم سپنر ظفر گوہر کا یہ گلوسٹر شائر کی طرف سے دوسرا سیزن ہے۔ گذشتہ سیزن میں انھوں نے چار میچوں میں صرف 14 کی اوسط سے بیس وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ظفر گوہر کو مکمل کنٹریکٹ اگست/ستمبر میں ملنے کی توقع ہے۔

بوائز

ظہیرعباس کی سنچریاں اور وقار یونس کی یارکرز

یوں تو انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں کئی پاکستانی کرکٹرز کھیلے ہیں لیکن چند کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی آج بھی شائقین کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔

ان میں عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم کی بیٹنگ اور بولنگ کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں اسی طرح ماجد خان، آصف اقبال، مشتاق محمد، مشتاق احمد اور انتخاب عالم سے بھی کئی یادگار پرفارمنسز وابستہ ہیں۔

ستر کے عشرے میں جس بیٹسمین نے کاؤنٹی کرکٹ میں سب سے بھرپور تاثر چھوڑا وہ گلوسٹر شائر کی طرف سے کھیلنے والے ظہیر عباس تھے جو فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری مکمل کرنے والے واحد ایشیائی بلے باز ہیں۔

اسی طرح بولنگ میں فاسٹ بولر وقار یونس کی یارکرز یادگار ہیں خاص کر سنہ 1991 کا سیزن جب انھوں نے سرے کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے ہوئے 113 وکٹیں حاصل کی تھیں۔