وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی

موٹروے پر عورت کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ویران سڑک پر تنہا کھڑی تھی۔ مینارِ پاکستان پر 4سو لوگوں نے ایک لڑکی کے کپڑے کیوں پھاڑے؟ کیونکہ وہ ٹک ٹاک بناتے ہوئے معنی خیز اشارے کر رہی تھی۔ نور مقدم کا قتل کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ایک غیرمرد کے گھر تنہا گئی تھی۔ 6برس کی زینب کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ اُس کے والدین ملک میں نہیں تھے۔ یومِ آزادی کے موقع پر ایک لفنگے نے رکشے میں بیٹھی خاتون کا زبردستی بوسہ کیوں لیا؟ کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے 14اگست کی رات کو باہر نکل آئی تھی۔ راولپنڈی میں مدرسے کے ناظم نے 12سال کی طالبہ پر جنسی تشدد کیوں کیا؟ کیونکہ اُس کے ماں باپ نے لڑکی کو مرد استاد کے پاس بھیجنے کی غلطی کی تھی۔ رکشے میں سوار ہونے والی ماں بیٹی کو رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کےساتھ مل کر ریپ کیوں کیا؟ یہ بڑھتی ہوئی فحاشی کی وجہ سے ہے۔ 3سالہ بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ دین سے دوری کا انجام ہے۔ ٹھٹھہ میں 14سال کی لڑکی کی لاش کا قبر سے نکال کر ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی گھٹن کا نتیجہ ہے۔ پردہ دار عورت کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی آزادی کا نتیجہ ہے۔ پانچ بچوں کی ماں کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ مادر پدر آزادی کے ثمرات ہیں۔ ذہنی طور پر معذور بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی!

یہ ہے ہماری ڈھٹائی کا عالم۔ جنسی درندگی کے ہر واقعے کے بعد ذہنی افلاس کے مارے مرد ایک نئی توجیہہ تراشتے ہیں اور گھما پھرا کر عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ظلم کا شکار ہونے والی کوئی عورت اگر ماڈرن ہو، جینز پہنتی ہو، دوپٹہ نہ لیتی ہویا لڑکوں کے ساتھ ٹک ٹاک وڈیو بناتی ہو تو پھر چاہے کوئی اُس کی بوٹیاں کرکے گٹر میں ہی کیوں نہ بہا دے، یہ لوگ اُس عورت کا ہی قصور نکالیں گے۔ وہ براہِ راست یہ تو نہیں کہیں گے کہ عورت کی بوٹیاں کرنے والے نے ٹھیک کام کیا لیکن بالواسطہ اُن کی گفتگو کا لب لباب یہی ہوگا کہ جس عورت کی برہنہ کرکے گردن کاٹی گئی، وہ ایک بازاری عورت تھی اور ایسی عورتوں کا یہی انجام ہوتا ہے (ہونا چاہئے)۔ گویا اگر انہیں موقع ملے تو وہ بھی تمام ’بازاری عورتوں‘ کے ساتھ یہی سلوک کریں! بیمار ذہنیت کے یہ لوگ پوپلے منہ سے جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی عورت کو مظلوم تو کہتے ہیں مگر اگلے ہی لمحے اُس عورت کی کردار کشی کرکے اس جرم میں برابر کے شریک بھی بن جاتے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ نہ عورت کے لباس کا ہے اور نہ فحاشی کا، نہ جنسی آزادی کا ہے اور نہ ہی عورت کے کردار کا، یہ مسئلہ پاکستانی مرد کا ہے جو کسی حال میں بھی عورت کو اپنی طرح کا انسان نہیں سمجھتا۔ آپ غور کریں کہ آخر عورت کو ہی ہمیشہ کسی بات کی ’اجازت‘ کیوں لینی پڑتی ہے اور یہ ’اجازت‘ دینے کا اختیار مرد کے پاس ہی کیوں ہوتا ہے؟ جبکہ مردوں کو تو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی! انہوں نے پھٹی ہوئی جینز پہننی ہو، ٹک ٹاک میں ناچ کر دکھانا ہویا کلب میں سوئمنگ کرنی ہو انہیں کسی کی اجازت درکار نہیں ہوتی اِس لئے کہ وہ مرد ہیں اور اُن کے پاس خود کو ہر قسم کی اجازت دینے کا کلی اختیار ہوتا ہے۔ البتہ عورتوں کو ہر کام کی اجازت لینی پڑتی ہے، جیسے طالبان بار بار افغانستان میں اعلان کر رہے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ’اجازت‘ ہوگی، گویا یہ اجازت ایک احسانِ عظیم ہے جو وہ اپنے سے کمتر کسی مخلوق پر کر رہے ہیں۔ یہ نام نہاد اجازت دینا ہی دراصل اُس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض مرد عورتوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ اِس نظریہ حیات کے جو حامی یہاں ہیں وہ بھی عورتوں کو ایک ’حد‘ کے اندر رہ کر کچھ مخصوص نوعیت کے کام کرنے کی ’اجازت‘ دیتے ہیں اور جواز یہ بتاتے ہیں کہ یہ حدود خدا نے طے کی ہیں۔ یہ غلط فہمی نہ جانے انہیں کیوں ہے کہ اللہ کی حدود و قیود انہوں نے قوم کو سمجھانی ہیں، حالانکہ خدا نے خود قران میں کہا ہے کہ اِس کا مطلب سمجھا دینا بھی اللہ ہی کے ذمے ہے (مفہوم۔ سورہ القٰیمۃ، آیت 18-19)۔ دین کی آڑ میں پاکستان کے 11کروڑ مردوں کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ باقی 11کروڑ عورتوں کو یہ بتائیں کہ انہوں نے کیا پہنناہے اور کب، کیسے اور کہاں جانا ہے؟ پاکستانی عورتیں اپنے اچھے برے کی خود تمیز کر سکتی ہیں اور روز قیامت اپنے اعمال کا خود حساب بھی دے دیں گی، آخر مرد وں کو اُن کی آخرت کی فکر کیوں ہے ؟ مردوں کو تو اپنی فکر کرنی چاہئے کہ اُن سے اِس بات کا جواب لیا جائے گا کہ جب چار سو کتے ایک لڑکی کو بھنبھوڑ رہے تھے تو تم اُس حال میں بھی لڑکی کو ہی قصور وار کیوں کہہ رہے تھے؟

جو لڑکی شلوار قمیض پہن کر مینار پاکستان پر ٹک ٹاک بنانے گئی تھی اگر منی اسکرٹ پہن کر امریکہ کے مجسمہ آزادی جاتی اور اسی انداز میں ٹک ٹاک بناتی تو کیا اِس بات کا امکان تھا کہ وہاں بھی 4سو مرد اُس پر پِل پڑتے؟ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ اِس بات کا جواب نفی میں ہے۔ لاکھوں مسلمان امریکہ اور مغربی ممالک میں رہتے ہیں اور اپنی بچیوں کے لئے اُن ممالک کو پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ملک سمجھتے ہیں۔ حالانکہ امریکہ اور یورپ میں کوئی اسلامی نظام نافذ نہیں، فحاشی اور عریانی وہاں عام ہے، عورتیں نیم برہنہ لباس میں پھرتی ہیں اور سر عام پھانسیوں کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان عورتیں کفار کے ملک میں بلا روک ٹوک گھومتی پھرتی ہیں اور باہر نکلنے سے پہلے انہیں گھر کے کسی مرد کو حفاظت کے لئے ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور جینز پہننے سے پہلے یہ نہیں سوچنا پڑتا کہ کہیں اِس بات کو جواز بنا کر 4سو درندے اسے چیر پھاڑ کر برہنہ نہ کر دیں! کیا ہمارے ملک میں اِس بات کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے کہ ایک مثالی عورت، جو شرعی پردہ بھی کرتی ہو، گھر سے تنہا نکلے اور ہمیشہ بحفاظت واپس آئے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی اور وجہ اِس کی یہ ہے کہ مسئلہ عورت، اُس کے پردے یا لباس میں نہیں، مسئلہ مرد میں ہے۔ الاسکا سے لے کر مکاؤ تک اور افغانستان سے لے کر بحر منجمد شمالی تک عورت تو ہر جگہ ہے لیکن کہیں وہ برقع میں بھی محفوظ نہیں اور کہیں بکنی میں بھی کوئی آنکھ اٹھا کر اسے نہیں دیکھتا۔ ایسا کیوں ہے؟ جس دن ہمیں یہ بات سمجھ آ گئی اُس دن مینارِ پاکستان بھی مجسمہ آزادی کی طرح محفوظ تصور ہوگا۔

وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی” پر ایک تبصرہ

  • August 25, 2021 at 10:20 pm
    Permalink

    اگر معاملہ لباس کا ہو تو امریکا اور دنیا بھر کے بیچز پر ایک سیکنڈ میں ستر رہپ ہوں اور الف ننگے بیچز پرتو سواۓ ریپ کے کچھ ممکن ہی نہ ہو۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: