ٹرمپ کا مواخذہ، بائیڈن کی صدارت کے پہلے 100 دنوں پر کس طرح اثرانداز ہو گا؟

ایک ہفتہ قبل بندوقیں تانیں سکیورٹی اہلکاروں نے مشتعل ہجوم کے خلاف جس ایوان نمائندگان کا دفاع کیا، ٹھیک ایک ہفتے بعد اسی ایوان میں ارکان پارلیمنٹ اس صدر کے مواخذے کے لیے جمع ہوئے جنھوں نے ہجوم کی حمایت کی تھی۔

امریکہ کی 231 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی صدر کا دو بار مواخذہ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے صدر جو اپنے دور صدارت کی تاریخی کامیابیوں پر فخر کرنا چاہتے ہیں، ان کے منصب کا یہ انجام انتہائی شرمناک ہے۔

مواخذے میں صدر ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس کے قریب اپنی حامی ریلی میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے انھیں دارالحکومت میں ہنگامہ آرائی کرنے پر اکسایا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی منظوری دے دی ہے اوراب ایوان بالا سینیٹ میں ان کا ٹرائل کیا جائے گا جہاں ایک سو اراکین پر مشتمل یہ ادارہ (سینٹ ) ایک بار پھر امریکی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کی زیرصدارت جیوری کی حیثیت سے بیٹھے گا۔

اس مقدمے کی سماعت جو بائیڈن کی حلف برداری کے بعد شروع ہوگی اور اس پر بہت زیادہ شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ایوان کی کارروائی کے سیاسی مضمرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

رپبلکنز نے صدر کے ساتھ رابطے ختم کر دیے

ابھی ایک سال قبل ہی ایوان نمائندگان نے پہلی بار ایک بھی رپبلکن ووٹ کے بغیر صدر ٹرمپ کا مواخذہ کیا تھا۔ اس مرتبہ ان کی اپنی ہی جماعت کے 10 ممبران نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے اور اس کے علاوہ کئی اراکین نے دارالحکومت میں ہنگامہ آرائی کے دن ان کے الفاظ اور اقدامات کی مذمت کی ہے۔

چیمبر میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی رپبلکن اور سابق نائب صدر ڈیک چینی کی بیٹی، لز چینی سب سے زیادہ قابل ذکر شخصیت ہیں۔

ڈیموکریٹس نے مواخذے کی بحث کے دوران اکثر ان کے بیان کا حوالہ دیا تھا، جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’امریکہ کے صدر کی جانب سے آئین اور اپنے عہدے کے ساتھ اس سے بڑی غداری کا آج تک کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ کچھ رپبلکنز سینیٹ میں صدر کو الزامات کے مجرم قرار دینے والی ووٹنگ کے حامی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے منگل کی شب خبر دی تھی کہ اکثریت کے رہنما مِچ مک کونل اس بات پر ’خوش تھے‘ کہ ٹرمپ مواخذے کی راہ پر گامزن ہیں اور انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس عمل سے پارٹی کو صفائی کا موقع ملے گا۔

اس کے بعد انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک فیصلہ محفوظ رکھیں گے جب تک کہ مقدمے کی سماعت ختم نہیں ہوجاتی۔ لیکن سینیٹر کا دفتر جو عموماً ہر معاملے پر لب سیے رکھتا ہے، ایسی خبریں کوئی معمولی بات نہیں۔ پارٹی کے اندر اختلافات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

بدھ کے روز ایوان میں نظر آنے والی واضح تفریق، آنے والے دنوں میں رپبلکنز کے لیے انتخاب کی راہ ہموار کرے گی۔ ایک طرف اس صدر کی حمایت جاری ہے جس نے ووٹرز کا ایک نیا اتحاد بنایا جس نے 2016 میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس میں انھیں کامیابی دلوائی، لیکن 2020 میں وہ ہار گئے۔

دوسری طرف ایک غیر یقینی مستقبل ہے - لیکن اس مستقبل میں وہ متنازع بیانات والے صدر سے آزاد ہوں گے۔

ڈیموکریٹس نے ٹرمپ اور ٹرمپ ازم کا خاتمہ کر دیا

House members

پچھلے ہفتے کے ہنگامے کے کچھ گھنٹوں میں، ڈیموکریٹس یہ بحث کر رہے تھے کہ صدر کے اس حملے کا کس طرح بہتر جواب دیا جائے اور انھیں کیا سزا دی جائے۔ ان کے خیال میں ٹرمپ نے نہ صرف امریکی جمہوریت بلکہ ان کو بھی خطرات لاحق کر دے ہیں۔

آخر میں انھوں نے ٹرمپ کو مواخذہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ ان کا سب سے مؤثر اقدام تھا۔

تاہم بدھ کے روز ڈیموکریٹس نے صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ نہیں کیا۔ وہ مجموعی طور پر ٹرمپ ازم کا مواخذہ کررہے تھے۔ مواخذے کے آرٹیکل میں خاص طور پر ان مہینوں کا حوالہ دیا گیا تھا جب ٹرمپ نے نومبر کے عام انتخاب کے نتائج کو نہ ماننے اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے میں صرف کیے تھے اور ایوان نمائندگان میں مباحثے کے دوران، انھوں نے دور صدارت کے دوران ٹرمپ کے طرز عمل پر تنقید کی اور کانگریس میں ان رپبلکنز پر بھی تنقید کی جو ٹرمپ کی حمایت کرتے تھے۔

ہوسکتا ہے کہ ایسے رپبلکن ہوں جو ٹرمپ اور ٹرمپ ازم سے دوری چاہتے ہوں، لیکن یہ واضح ہے کہ کانگریس میں کم سے کم کچھ ڈیموکریٹ صدر سے جڑے رہنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پچھلے ہفتے کی ہنگامہ آرائی پوری رپبلکن پارٹی کے گلے میں پھنسی ہڈی جیسی ہے۔

صدر ٹرمپ کا برا وقت چل رہا ہے- لیکن ابھی تک انھیں نکالا نہیں گیا

پچھلے چند مہینوں میں تاریخ کے ایک متبادل رخ کے بارے میں ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی شکست کو پوری طرح سے چیلنج کرنے کی بجائے، نومبر میں خاموشی سے اس کا اعتراف کرلیا۔ رپبلکنز شاید جارجیا میں ایک انتخاب جیت جاتے اور پھر بھی سینیٹ پر قابض رہتے۔ ٹرمپ، ان کی سیاست کو دفن کرنے کے خواہشمند رپبلکنز کا سامنا کرنے کے بجائے، پارٹی کے کنگ میکر بن جاتے۔

2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ایک حقیقی امکان پیدا ہو جاتا۔

ٹرمپ

لیکن اب ٹرمپ رسی کے کونے پر ہیں۔ انھیں اپنے پیارے ٹوئٹر اکاؤنٹ سمیت سوشل میڈیا سے خاموش کرا دیا گیا ہے۔ اگرچہ انھیں سینیٹ کی جانب سے کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے منع نہیں کیا گیا، لیکن رپبلکن پارٹی کے اندر ان کا اقتدار اور اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے۔

بدھ کے روز ایوان نمائندگان میں عوامی رائے شماری کے ساتھ ساتھ کئی افراد کا کہنا تھا کہ صدر کو ابھی بھی ان کی پارٹی کے اندر حمایت حاصل ہے۔ لیکن پچھلے ہفتوں میں ان کے مخالفین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہو گی، جو گرے ہوئے صدر کو ایک آخری مکا مارنا چاہتے ہیں۔

وہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ہیں۔

پانچ سالوں سے ٹرمپ اپنے ناقدین اور پیش گوئیاں کرنے والے ماہر کو غلط ثابت کرنے میں لگے تھے۔ وہ ایسے سکینڈلز اور تنازعات سے بچ نکلے جو عموماً کسی دوسرے دوسرے سیاستدان کو دفن کر دیتے۔

لیکن اس بار کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔

سینیٹ ٹرائل بائیڈن کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے

اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن کو اس وبائی بیماری کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو ایک دن میں 4000 سے زیادہ امریکیوں کی زندگیاں لے رہی ہے اورامریکہ کے معاشی حالات خراب کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ اور اس وقت جو وہ ان چیلنجز سے نمٹ رہے ہوں گے سینیٹ میں ان کے پیش رو کے مواخذے کی سماعت ہو رہی ہو گی۔

رپبلکنز نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ اس وقت جب امریکہ کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، مواخذہ امریکیوں میں مزید تفریق اور اشتعال کا باعث بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن نے قوم کو متحد کرنے کے جو وعدے کیے ہیں، مواخذہ انھیں مشکل بنا دے گا۔

شاید ایسا ہو سکتا ہے، اگرچہ رپبلیکنز کی جانب سے بائیڈن کے انتخاب جیتنے کے دوران ایک طویل مہم چلائی گئی، جس کے جواب میں ڈیموکریٹس نے امریکہ کو متحد کرنے والے دعوے پر تیزی سے کام کیا ہے۔

Joe Biden and Kamala Harris

تاہم مواخذے کا مقدمہ بائیڈن کے دور صدارت کے ابتدائی دنوں میں ان کے لیے کچھ حقیقی عملی چیلنج پیش کر رہا ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سینیٹ، ٹرمپ کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مصروف ہو گی اور شاید اسی وجہ سے وہ بائیڈن کے 100 دن کے ایجنڈے کو نافذ کرنے پر توجہ دینے سے قاصر رہے گی اور اس کی وجہ یہ بھی ہے وہ جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اراکین کی تقرریوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکے گی اور یہی چیز جو بائیڈن کی وفاقی حکومت کے نظام کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔

بائیڈن نے پوچھا ہے کہ کیا سینیٹ جس وقت سابق صدر کے لیے جیوری کے طور پر نہیں بیٹھی ہوئی تو کیا وہ تصدیق اور قانون سازی پر کام کرتے ہوئے، ٹرمپ کا جز وقتی ٹرائل کرسکتی ہے۔

تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ رپبلکن یا غیر جماعتی سینیٹ کے پارلیمنٹیرین اس منصوبے کی حمایت کریں گے۔

کسی بھی نئے صدر کے لیے پہلے 100 دن بہت اہم وقت ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس کا سیاسی اثر و رسوخ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کے مواخذے نے کم از کم جو بائیڈن کی کچھ طاقت تو کم کر دی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *