ٹرمپ کے حامی سینیٹروں کا جو بائیڈن کی جیت کی توثیق رکوانے کی کوشش

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ریپبلکن سینیٹروں کے ایک گروپ کی جانب سے جو بائیڈن کی کامیابی کی سینیٹ سے توثیق کو روکوانے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے گیارہ سینیٹروں کی کوشش ہے کہ وہ سینیٹ سے جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر منتخب ہونے کی توثیق کو کم از کم دس دن کے لیے روک دیا جائے تاکہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی کی چھان بین کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ریپبلکن سینیٹروں کی یہ کوشش ناکام ہو گی کیونکہ سینیٹروں کی اکثریت جو بائیڈن کے انتخاب کی توثیق کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جو بائیڈن بیس جنوری کو بطور صدر اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور انھوں نے ابھی تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور مسلسل انتخابات میں فراڈ کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے انتخابی دھاندلی کا الزام تو عائد نہیں کیا لیکن انھوں سنیچر کے روز ان کے چیف آف سٹاف مارک شارٹ نے کہا کہ نائب صدر مائیک 'ان دسویں لاکھ امریکیوں کے امریکی صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے حوالے سے خدشات سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

نائب صدر پینس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اراکان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا جنھیں قانون کے مطابق یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انتخابات کے حوالے سے اعتراض اٹھا سکیں اور کانگریس اور امریکی لوگوں کے سامنے شہادتیں لا سکیں۔

سینیٹ کے صدر ہونے کے ناطے نائب صدر مائیک پینس کی ذمہ داری ہے کہ وہ چھ جنوری کے سینیٹ کے اجلاس کی نگرانی کریں جس روز سینیٹ نے جو بائیڈن کی بطور صدر انتخاب کی توثیق کرنی ہے۔ .

امریکہ کی تمام پچاس ریاستی کی اسمبلیوں نے انتخابی نتائج کی تصدیق کی ہے۔

ابھی تک امریکی عدالتیں ساٹھ ایسی درخواستوں کو مسترد کی چکی ہیں جن میں جو بائیڈن کی جیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے

ٹرمپ کے اتحادی چاہتے کیا ہیں؟

ted cruz
،تصویر کا کیپشنٹیکساس سے سینیٹر ٹام کروز کا کہنا ہے کہ فراڈ کے الزامات چھان بین سے انتخابی عمل پر اعتبار بڑھے گا

ٹیکساس سے سینیٹر ٹیڈ کروز کی سربراہی میں سینیٹروں کے اس گروپ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ نومبر میں ہونے والی صدارتی انتخابات کے بارے میں دھوکہ دہی، اور قانون پر عمل درآمد نہ کرانے کے حوالے سے ایسے الزامات سامنے آئے ہیں جن کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔

سینٹروں کے گروپ نے 1877 کی ایک نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسا کمیشن مقرر کرے جو دس روز میں ان ریاستوں کے ووٹوں کا آڈٹ کر سکے جہاں باقاعدگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ان سینیٹروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ 'ہم سادہ نہیں ہیں، ہمیں پوری توقع ہے کہ تمام ڈیموکریٹ اور شاید کچھ ریپبلکن بھی ہمارے خلاف ووٹ دی۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: