ٹرومین ڈاکٹرائین: وہ 33 سیکنڈ جن میں 75 سال قبل سرد جنگ کی بنیاد رکھی گئی

امریکہ کے 33ویں صدر ہیری ٹرومین نے ایوان نمائندگان میں گول چشمہ اور کالا سوٹ پہنے کالے رنگ کا وہ فولڈر کھولا جس سے وہ تقریر پڑھا کرتے تھے۔

انھوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور پھر سامعین پر ایک نظر دوڑاتے ہوئے بولے ’اس وقت دنیا کو جس سنگین صورتحال کا سامنا ہے اس کا تقاضا تھا کہ میں کانگریس کے مشترکہ سیشن کے سامنے حاضر ہوں۔ اس صورتحال سے ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی جڑی ہوئی ہے۔‘

یہ 12 مارچ، 1947 کا دن تھا۔

صرف دو سال قبل ہی یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کے جرمنی کو شکست دے کر امریکہ کی قومی سلامتی کو محفوظ بنایا جا چکا تھا۔

لیکن اس دن امریکی صدر نے ایک اور خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

ان کی تقریر، جسے ’ٹرومین ڈاکٹرائن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، میں دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کے حمایتی سویت یونین اور کمیونزم کے خلاف برسر پیکار ہونے کی بات کی گئی۔

اگرچہ سرد جنگ کی شروعات کی بحث کافی پیچیدہ ہے اور یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ اس کا آغاز ہیری ٹرومین کی تقریر سے ہی ہوا، لیکن چند مؤرخ سمجھتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ تھا جب سرد جنگ کا باقاعدہ اعلان ہوا۔

امید کی جگہ خوف نے کیسے لی؟

میلون لیفیر ورجینیا یونیورسٹی کے ایوارڈ یافتہ پروفیسر ایمیریٹس سرد جنگ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مغرب اور سویت یونین کے تعلقات میں خرابی بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔

سٹالن
،تصویر کا کیپشناس وقت کا ایک کارٹون جس میں دکھایا گیا کہ ٹرومین ڈاکٹرائن کی وجہ سے سٹالن کی طبیعت بگڑ گئی

’دوسری جنگ عظیم کے دوران سٹالن کی خواہش تھی کی مغرب کی جانب سے جرمنی کے خلاف محاذ 1942 میں ہی کھول دیا جائے لیکن ایسا 1944 تک نہیں ہو سکا۔

پھر امریکہ اور برطانیہ نے ایٹم بم کی ایجاد کو سٹالن سے چھپائے رکھا جس کو جاسوسوں کے ذریعے علم ہوا جب کہ امریکہ کو معلوم تھا کہ سویت یونین خفیہ طریقے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سب کے باوجود نازی جرمنی، اٹلی اور جاپان کو شکست دینے کی ترجیح نے ان معاملات پر پردہ ڈالے رکھا۔‘

جیسے ہی جنگ ختم ہوئی تو امریکی پالیسی سازوں کی ترجیح بدل گئی۔ اب ان کا کام اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ یورپ اور ایشیا کے وسائل پر کوئی اور قبضہ نہ جما سکے۔

بی بی سی فورم میں میلون لیفیر نے بتایا کہ 1946-47 میں ’اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ سٹالن اور سوویت یونین کھلے عام جنگ کا آغاز کر دیں گے۔ بلکہ خدشہ یہ تھا کہ وہ جنگ سے تباہ حال یورپ میں موجود افراتفری اور معاشرتی و سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھائیں گے جیسا کہ اٹلی اور فرانس میں کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار کے لیے کوشش کی۔‘

ادھر چین میں کمیونسٹ خانہ جنگی میں مصروف تھے اور ان کی جیت کا مطلب ہوتا کہ سٹالن کا اثر و رسوخ مشرقی ایشیا تک پھیل جاتا۔

اگر ڈومینو تھیوری کا استعمال ذہن نشین کیا جائے تو یہ خدشہ اور بھی خطرناک ہو جاتا۔ اس تھیوری، جس کو امریکی خارجہ پالیسی میں اہمیت دی جاتی تھی، کا مطلب تھا کہ کسی بھی ایک کمیونسٹ مخالف حکومت کے گر جانے سے ہمسایہ ممالک میں بھی اثر پڑتا ہے۔

الفاظ کی جنگ

ٹرومین ڈاکٹرائین تک کا سفر طے کرنے میں جہاں رویوں کا عمل دخل تھا، وہیں الفاظ کی ایک جنگ بھی تھی جس نے اہم کردار ادا کیا۔

سٹالن

نو فروری 1946 کو سٹالن نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ماسکو میں پہلے اہم خطاب میں ایک اور جنگ عظیم کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی معیشت میں سرمایہ دارانہ نظام کی بات کی۔

سٹالن کے مطابق مذید جنگی تباہی لازم تھی کیوں کہ پرامن فیصلوں کے لیے ملکوں کے پاس کوئی طریقہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے تحت چلنے والے ممالک کی بے ڈھنگی ترقی کی وجہ سے ان کے اور ایسے ممالک کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس برآمدی منڈی موجود نہیں اور پھر اپنے حق میں معاملات پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

سٹالن کے مطابق سویت یونین کو اگلے سالوں میں اپنی توانائی اور وسائل اس کوشش میں صرف کرنی چاہیے جس سے کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ایک طویل ٹیلی گرام

ڈینس بوسٹڈروف اوہائیو میں کالج آف ایجوکیشن کے کمیونیکیشن سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ بی بی سی فورم سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت صدر ہیری ٹرومین سمیت زیادہ تر امریکی عہدے داروں نے اس تقریر پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔ لیکن چند لوگوں کا خیال تھا کہ سٹالن کی تقریر تقریباً تیسری عالمی جنگ کا اعلان ہے۔

مثال کے طور پر، ڈینس کہتے ہیں، ’سٹالن نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ سائنس میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ بیرون ملک ہونے والی سائنسی ترقی کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘

’امریکی عہدے داروں نے اس اعلان سے یہ مطلب اخذ کیا کہ سٹالن بھی ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب سٹالن نے کہا کہ سوویت یونین اپنی سٹیل کی پیداوار کو تین گنا بڑھائے گا تو امریکی حکام اور میڈیا نے اس سے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ مغرب سے جنگ کی تیاری کرنے والے ہیں۔‘

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے ماسکو میں سفارت خانے کو لکھا کہ وہ سوویت یونین کے عالمی عزائم کا تجزیہ کیا جائے۔ اس وقت تک ایک انجانے سفارت کار جارج کینن کا جواب دھماکے دار تھا۔

جارج کینن
،تصویر کا کیپشنجارج کینن

ڈینس کہتے ہیں کہ ’کینن نے آٹھ ہزار لفظوں پر مبنی ایک طویل ٹیلیگرام بھجوایا جس میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے کہ کمیونزم ایک بیماری کی طرح ہے، جو جسم کو اندر سے تباہ کر دیتا ہے۔‘

کینن نے اس ٹیلیگرام میں کمیونسٹ کی جانب سے ٹریڈ یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں، ثقافتی گروہوں میں شمولیت کی جانب بھی توجہ دلائی کہ دشمن ہمارے اندر سے وار کر سکتا ہے۔

’کینن نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سوویت یونین کی پالیسی یہ سوچ کر بنائی جا رہی ہے کہ مغرب اس کے خلاف ہو چکا ہے اور اب سوویت یونین توسیع پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

’ان کی رائے تھی کہ ایسا کرنے سے ماسکو، یعنی سوویت یونین کو مخالفت سے ہی روکا جا سکتا ہے چاہے وہ سیاسی شکل میں ہو یا عسکری صورت میں۔ انھوں نے تجویز دی کہ ایک طویل المدتی پالیسی مرتب کی جائے جو صبر آزما لیکن ٹھوس ہو اور سوویت یونین کے ہر قدم پر ہر دم نظر رکھے۔‘

اس طویل ٹیلی گرام کو امریکہ میں کافی پذیرائی ملی جس نے ان لوگوں کو خاموش کرا دیا جو عقلی تجزیے کے حامی تھے۔

’امن کے ستون‘

سٹالن کی تقریر کے چند ہی ہفتوں بعد، مارچ 1946 میں، برطانیہ کے ونسٹن چرچل نے بھی الفاظ کی جنگ میں حصہ ڈالا جب انھوں نے ایک خطاب میں یورپ کی صورت حال پر بات کی۔

ونسٹن چرچل اور ٹرومین
،تصویر کا کیپشنونسٹن چرچل اور ٹرومین

چرچل نے کہا کہ ’یورپ پر ایک آہنی پردہ گر چکا ہے۔۔۔ وارسا، برلن، پراگ جیسے مشہور شہروں اور ان کی آبادی سوویت تسلط میں ہیں جن کو کسی نہ کسی طرح سوویت اثر و رسوخ کا سامنا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سوویت یونین کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔‘

چرچل کی اس تقریر، جسے امن کے ستون کے نام سے جانا جاتا ہے، کے بعد سٹالن نے سابق برطانوی وزیر اعظم کو جنگ کا خوہش مند شخص قرار دیا۔

لندن سکول آف اکنامکس میں عالمی تاریخ کے پروفیسر ولادیسلاوو زوبک کہتے ہیں کہ ’اس تقریر پر سٹالن سیخ پا تھے۔‘

چرچل، جو چند ماہ قبل تک سوویت یوینین کے اتحادی تھے، اب برطانیہ اور امریکہ کے اتحاد کی بات کر رہے تھے۔

’اس سے سٹالن کا شک اور گہرا ہوا۔ سٹالن نے سوویت عوام کو مذید سٹیل کی پیداوار بڑھانے اور سائنس دانوں پر خفیہ طور پر ایٹم بم تیار کرنے کی ہدایت کی، اس لیے نہیں کہ وہ تیسری عالمی جنگ کرنا چاہتے تھے، بلکہ انھوں نے خود کو اس بات کا یقین دلا دیا تھا کہ طاقت ہی جیت کی ضمانت ہے۔‘

نوویکوو ٹیلی گرام

ایک جانب جہاں مغرب سوویت یونین کے ارادوں کو بھانپنے کی کوشش کر رہا تھا وہیں سوویت یونین بھی یہ جانچنے میں مصروف تھا کہ اس کے سابقہ اتحادی اب کیا کر رہے ہیں۔

امریکہ میں سوویت یونین کے سفیر نیکولائی نوویکوو نے بھی ستمبر 1946 میں ایک ٹیلی گرام بھیجا۔

نیکولائی نوویکوو
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں سوویت یونین کے سفیر نیکولائی نوویکوو (سب سے بائیں جانب)

انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد معاشی طور پر طاقت ور ہوا ہے اور اب عالمی اثرورسوخ کا خواب دیکھ رہا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں سامراجی نظام کی جھلک ملتی ہے جو دنیا پر حکومت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’امریکی صدر ٹرومین اور دیگر حکام کے بیانات کا اصل مطلب یہی ہے کہ امریکہ کو دنیا پر راج کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکی سفارت کاری کی تمام قوتیں، جن میں فوج، فضائیہ، بحریہ، انڈسٹری اور سائنس دان شامل ہیں، اسی خارجہ پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔‘

اس ٹیلی گرام نے سوویت یونین کے اس عزم میں اضافہ کر دیا جس کے تحت سوویت یونین کو بھی مشرقی یورپ میں اپنے اثر ورسوخ کو محفوظ بنانے کے لیے توسیع پسندی کی جانب بڑھنا تھا۔

اور اس طرح سرد جنگ کی دو اطراف کے مابین خوف، شک اور عدم اعتماد بڑھتا چلا گیا۔

موت کا ڈر

یکم فروروی 1947 کو امریکی محکمہ خارجہ کو برطانوی فارن آفس سے ایک پیغام وصول ہوا جس کے مطابق برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قرض کے بوجھ تلے دب کر یونان اور ترکی کو وہ فوجی اور معاشی امداد دینے کے قابل نہیں رہا تھا اور اس کے نتیجے میں خطے میں خلا پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس پیغام کے 19 دن بعد صدر ہیری ٹرومین نے اپنے تاریخی خطاب میں امریکی کانگریس سے یونان اور ترکی کے لیے 400 ملین ڈالر کی امداد کی منظوری مانگی اور امریکی عوام کو کمیونزم کے خلاف برسرپیکار ہونے کی تاکید کی۔

یہ پیشرفت یقیناً امریکی خارجہ پالیسی میں اچانک نہیں آئی تھی۔ صدر ٹرومین کو اس وقت ایک نئی ریپبلکن کانگریس کا سامنا تھا جو تنہائی پسند خارجہ پالییس کی حامی تھی جب کہ امریکی عوام بھی جنگ سے تنگ آ چکی تھی اور اپنے پیاروں کی واپسی کی راہ دیکھ رہی تھی۔

اس وقت تک امریکہ کی جانب سے کسی اور ملک کو معاشی مدد دینے کا رواج بھی شروع نہیں ہو تھا۔ اسی لیے اس تقریر سے پہلے صدر ٹرومین نے کانگریس کے ممبران سے علیحدہ علیحدہ ملاقات بھی کی تاکہ ان کو قائل کیا جا سکے۔

ٹرومین ڈوکٹرائین

سینیٹر آرتھر وینڈن برگ، جو سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین تھے، نے ٹرومین کو یقین دلایا کہ ری پبلکن ان کی حمایت کریں گے اگر انھوں نے کمیونسٹ سے خانہ جنگی کے شکار یونان اور سوویت یونین کی جانب سے ڈارڈینالز کا کنٹرول دینے کے دباو کا شکار ترکی کو امداد کا اعلان کیا۔

لیکن سینیٹر وانڈن برگ نے یہ بھی کہا کہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکی عوام کو اس حد تک خوفزدہ کرنا ہو گا کہ جیسے ان کو موت کا سامنا ہے۔

ٹرومین نے اس مشورے پر عمل کیا اور ان کی 19 منٹ کی تقریر کے 33 سیکنڈ کے دوران انھوں نے اپنے دلائل کا نچوڑ پیش کیا:

’میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کی پالیسی یہ ہونی چاہیے کہ وہ آزاد لوگوں کی حمایت کرے جو مسلح اقلیتوں یا بیرونی دباو کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری معاشی مدد سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔‘

واضح رہے کہ ٹرومین بہت اعلی مقرر نہیں تھے لیکن ان کی یہ کمزوری اس موقع پر ان کے کام آئی کیوں کہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی بناوٹ کے بغیر سچ بول رہے ہیں۔

اگرچہ کہ ان کی تقریر کو پزیرائی ملی اور لوگوں نے اٹھ کر تالیاں بجائیں لیکن یہ حمایت ہر کسی کی جانب سے نہیں تھی۔ اگلے چند ہفتوں تک یہ معاملہ بحث کا موضوع رہا۔

لیکن 22 مئی 1947 کو امریکی ایوان نمائندگان نے اس تجویز کو منظور کر دیا اور اس بل کو قانون کی شکل دے دی گئی جس کے مطابق کمیونسٹ مارچ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جانا تھا۔

ٹرومین

امریکہ کی سوچ کے برخلاف سوویت یونین کے مورخ آندرے شیسٹاکوو اپنی کتاب سوویت یونین کی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ’1947 میں صدر ٹرومین نے امریکہ کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا حق دے دیا۔‘

معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ ٹرومین ڈاکٹرائن ہی اس مارشل پلان کی بنیاد رکھتی ہے جس کے تحت نیٹو کی تشکیل ہوئی اور آئندہ 40 سال تک امریکی خارجہ پالییس کا محور بنی رہی۔

اس داستان کو شروع کرنے اور دنیا کو تقسیم کرنے میں جن الفاظ نے مدد دی، ان کا استعمال اب تک جاری ہے۔

ڈینس بوسٹڈروف کہتے ہیں کہ ’کبھی ہم زبان کا استعمال کرتے ہیں اور کبھی ہم زبان کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔‘