Dunya Pakistan

ٹوئٹر سے ہٹائے جانے والے لوگوں میں مقبول ایپ ’پارلر‘ گوگل سٹور سے غائب

گوگل نے ’اظہار آزادی‘ پر مبنی سماجی رابطوں کی ایپ ’پارلر‘ کو ’قابل اعتراض‘ مواد نہ حذف کرنے پر اپنے پلے سٹور سے ہٹا دیا ہے۔

پارلر ایپ نے خود کو ایک ’غیر جانبدار‘ ایپ کی حیثیت سے متعارف کرایا ہے اور اس کی ان لوگوں میں بڑی مقبولیت ہے جن پر ٹوئٹر نے پابندی عائد کر دی ہے۔

لیکن گوگل نے کہا ہے کہ اس ایپ میں تشدد پر مبنی مواد کو حذف نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ ایپل نے بھی پارلر کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انھوں نے مواد کی نگرانی میں ایپل کے قوانین کا خیال نہیں کیا تو اسے ایپل سٹور سے ہٹا دیا جائے گا۔

پارلر کے سربراہ جان ماٹزے نے کہا: ’ہم سیاسی بنیادوں پر دباؤ ڈالنے والی کمپنیوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی ان حکمرانوں کے جو آزادی اظہار رائے سے نفرت کرتے ہیں۔‘

تین سال قبل لانچ ہونے والی ایپ ’پارلر‘ امریکہ میں ان افراد میں بالخصوص مقبول ہے جو صدر ٹرمپ کے حامی ہیں اور دائیں بازو کے خیالات رکھتے ہیں۔ یہ افراد ماضی میں متعدد بار ٹوئٹر اور فیس بک پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ یہ کمپنیاں ان کے خیالات کو بے جا طور پر سنسر کرتی ہیں۔

صدر ٹرمپ خود تو پارلر استعمال نہیں کرتے لیکن اس پلیٹ فارم پر کئی نامور افراد موجود ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے ٹیکساس ریاست سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز کے تقریباً پچاس لاکھ فالورز ہیں جبکہ فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کے ستر لاکھ فالورز ہیں۔

حال میں امریکی انتخاب کے بعد اس ایپ کا سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار کیا گیا تھا جب ٹوئٹر اور فیس بک نے انتخابات کے حوالے سے پھیلائے جانے والی گمراہ کن معلومت کے خلاف اقدامات اٹھائے تھے۔

،تصویر کا کیپشنایپل کا کہنا تھا کہ پارلر ایپ کی مدد سے امریکہ کے کیپٹل ہل پر چھ جنوری کو حملے کی منصوبہ بندی کی گئی

لیکن ایپل اور گوگل دونوں نے کہا ہے کہ یہ ایپ مواد کی نگرانی کے لیے بنائے گئے ان کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

گوگل نے اپنے بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے پارلر کو اپنے پلے سٹور سے ہٹا دیا ہے۔

’ہماری پالیسی ہے ایپس اپنے صارفین کی مدد سے دیے گئے مواد کی نگرانی کریں اور ان میں سے نامناسب جیسے تشدد پر اکسانے والے مواد کو ہٹائیں۔ حالیہ دنوں میں جو صورتحال ہے اور جس سے عوامی امن و عامہ کے لیے موجود خطرے کے پیش نظر ہم اس ایپ کو پلے سٹور سے معطل کر رہے ہیں تاوقتیکہ وہ اپنے مسائل پر توجہ دیں۔‘

اس کے علاوہ ایپل کمپنی نے بھی پارلر کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے معاملات بہتر کر لیں ورنہ انھیں ایپل کے ایپ سٹور سے ہٹا دیا جائے گا۔

ایپل کا کہنا تھا کہ انھیں ان الزامات کی معلومات ہیں جن میں کہا گیا کہ ’پارلر ایپ کی مدد سے امریکہ کے کیپٹل ہل پر چھ جنوری کو حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔‘

پارلر ایپ کے سربراہ جان ماٹزے کا کہنا ہے کہ ان کی ایپ نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اور کہا کہ فیس بک پر موجود گروپس نے ایسا کیا۔

لیکن ایپل کا مؤقف تھا کہ ان کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پارلر نے مؤثر طور پر اپنے مواد کی نگرانی نہیں کی جس میں غیر قانونی اقدامات اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اس سے صارفین کے تحفظ کو خدشات پیدا ہوئے۔

Exit mobile version