ٹوٹے ۔قسط3

حفظِ مراتب

ادب، آداب، تکلفات اور حفظِ مراتب کے ذکر میں پولیس کا نام آنے پر قارئین یقیناً چونکے ہوں گے لیکن یہ حقیقت ہے اور میں اس میں رتی بھر مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ اس کے ثبوت میں میں وہ چند اعلانات یہاں درج کرتا ہوں جو ایک دفعہ میں نے ٹریفک پولیس والوں کی زبانی مال روڈ پر لائوڈ اسپیکر سے سنے ، اس سے پتہ چلے گا کہ چھوٹے بڑے کا لحاظ آج کسی میں ہے تو وہ صرف پولیس میں ہے ’’نمونہ کلام‘‘ درج ذیل ہے۔

’’نیلی ٹیوٹا والے صاحب!زحمت تو ہوگی مگر براہ کرام اپنی گاڑی زبیرا کراسنگ سے ذرا پیچھے لے جائیں اس سے ٹریفک میں دشواری پیش آ رہی ہے، بہت نوازش ، شکریہ!‘‘

’’ویسپا والے صاحب! دائیں جانب مڑنے کی کوشش نہ کریں پہلے مین روڈ کا ٹریفک گزرنے دیں اتنی بے صبری کی ضرورت نہیں۔ شکریہ!‘‘

’’اوئے سائیکل والے! اندھا ہوگیا ہے، دیکھتا نہیں اشارہ بند ہے، یہ سڑک تیرے باپ کی نہیں، دفع ہو جا! شکریہ‘‘

اہل ِقلم

قلم لکھنے کے کام آتا ہے، چنانچہ میں نےکئی ایک لوگوں کو اس سےلکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے تاہم بیشتر اہل قلم اس سے شلوار میں ناڑا ڈالتے ہیں ویسے تو اہل قلم وہ بھی ہیں جنہوں نے لمبی لمبی قلمیں رکھی ہوتی ہیں بہر حال قلم ایک مفید چیز ہے بشرطیکہ اس سے لکھنے کا کام نہ کیا جائے۔

انتخابی منشور

میں نے ایک عاشق کی گفتگو سنی تو حیران ہوا اور پوچھا کہ کامیابی کی صورت میں اس کا ’’انتخابی منشور‘‘ کیا ہوگا اس پر وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ کچھ بھی نہیں بس اس منشور کی پہلی شق پوری کرنے کے مطالبے پر محبوب کو سمجھانا ہے کہ آسمان سے تارے توڑکر لانا کسی بندۂ بشر کے بس کا روگ نہیں یہ وعدہ تو محض جذبات میں آ کر کیاگیا تھا اور اس میں ’’تارے‘‘ کو استعارے کے طور پر استعمال کیاگیا تھا۔ دوسرے مطالبے کے بارے میں اسے بتانا ہے کہ گو زمین پر کہکشاں بچھانے کا کام خاصا مشکل ہے لیکن ان شا ءاللہ یہ وعدہ پورا کر دیاجائے گا۔ یہ کہنا اس لئے ضروری ہے کہ محبوب کے ساتھ ’’رابطہ‘‘ قائم رہے اور وہ عاشق کے پیچھے پیچھے چلتا رہے۔ تیسراوعدہ یعنی میں تمہارے لئے جان قربان کردوںگا۔ یاد دلائے جانے پر مجبوب کی گردن میں بانہیں ڈال دی جائیں اور کہا جائے جانِ من! اگر میں ہی نہ رہا تو یہ وعدے کون پورے کرے گا‘‘۔

افادیت

کچھ چیزوں کے ساتھ کچھ چیزیں ضرور آتی ہیں۔ مثلاً بھینسوں کے ساتھ جوہڑ آتا ہے۔ پاتھیاں آتی ہیں اور وڑینویں (بنولے) آتے ہیں۔ مونچھوں کےساتھ قینچی آتی ہے اور ’’مساوات‘‘ قائم کرتے کرتے قینچی باقی رہ جاتی ہے۔ مونچھیں صاف ہو جاتی ہیں۔ میں یہ سب تجربے کر بیٹھا ہوں۔ بچپن میں گھر والوں نے ایک بھینس پالی تھی جس کی نگرانی کا کام میرے سپرد کیا گیا تھا۔ جوہڑ ، پاتھیوں اور وڑینووں سےتنگ آ کر ایک دن میں نے الٹی میٹم دے دیا اور کہا ’’اس گھر میں میں رہوں گا یا یہ بھینس رہے گی‘‘۔ ظاہر ہے بھینس ہی نے رہنا تھا کیونکہ میں دودھ نہیں دیتا تھا۔ کسی زمانے میں میں نے مونچھیں بھی رکھی ہوئی تھیں اور ان مونچھوں کے ساتھ قینچی بھی گھر میں چلی آئی مگر ’’مساوات‘‘ کے چکر میں پڑ کر یہاں بھی مونچھوں ہی کو گھر نکالا دینا پڑا۔ اب میرے پاس مونچھیں ہیں اور نہ قینچی ہے۔ دنیا کی بے ثباتی پررونا آتا ہے۔

کمبخت

گزشتہ دنوں میں ایک بیگم صاحبہ کے ہاں مہمان تھا۔ بیگم صاحبہ بہت بڑی سماجی کارکن ہیں نیز ایک عرصے سے عورتوں کے حقوق کے لئے سینہ سپر ہیں۔ انہوں نے بڑے تپاک سے میرا استقبال کیا۔ ڈرائنگ روم میں بٹھایا، چائے بنا کر پیش کی اور معذرت کے انداز میں کہنےلگیں ’’ریاض پتہ نہیں کہاں مر گیا ہے ورنہ چائے کے ساتھ کچھ منگواتی‘‘۔بعد ازاں وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگ گئیں اور باتوں باتوں میں ایک بار پھر انہوں نے ریاض کے لتے لینے شروع کردیئے۔ یہ موضوع ٹلا تو انہوں نے اپنی سماجی خدمات گنوانا شروع کیں اور درمیان میں آ کر ایک بار پھر ریاض کا ذکر چھیڑدیا۔’’ میں تو اس سے سخت تنگ آئی ہوں سمجھ نہیں آتی کیا کروں! ‘‘میں نے جب انہیں اس قدر تنگ دیکھا تو کہا کرنا کیا ہے اسے نوکری سے جواب دے دیں، کوئی اور ملازم رکھ لیں۔ میرا یہ مشورہ سن کر وہ سوچ میں پڑ گئیں اور پھر کچھ دیر توقف کے بعد کہنے لگیں آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں لیکن میں یہ قدم فوری طور پر نہیں اٹھا سکتی، میں حیران ہوا اور پوچھا یہ کیوں؟ بولیں ’’ذرا وہ خواتین کو طلاق والا حق مل جائے یہ ریاض کم بخت میرا شوہر ہے!‘‘

انقلابی راگ

گدھا بہت ثقہ جانور ہے یہ کبھی نہیں ہنستا۔ گدھے کبھی نہیں ہنستے، گدھے کی آواز میں ایک عجیب طرح کا جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے جب رات گئے یہ انقلابی راگ چھیڑتا ہے تو لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں چند لوگ انقلابی راگ اسی لَےمیں گاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: