ٹوکیو اولمپکس: مختلف ممالک اپنے کھلاڑیوں کو اولمپکس میں کامیابی پر کیا انعامات دیتے ہیں؟

اولمپک مقابلوں میں میڈل جیتنے کے کافی فوائد ہیں، کامیابی کا احساس، عزت، شہرت۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سے ممالک اپنی کھلاڑیوں کو یگر انعامات بھی دیتے ہیں، جن میں پیسے، گھر، اور یہاں تک کہ گائیں بھی شامل ہیں۔

اگرچہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کھلاڑیوں کو شرکت یا میڈل جیتنے پر پیسے نہیں دیتی، پھر بھی بہت سے ملک کھلاڑیوں کو مالی انعامات دیتے ہیں۔

ذیل میں کچھ ایسے انعامات کا ذکر ہے جو کہ ٹوکیو 2020 اولمپکس میں کامیاب کھلاڑیوں کو مل سکتے ہیں۔

دو نئے گھر

اولمپکس
،تصویر کا کیپشنہدل دیاز اپنے ملک کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل کا جشن مناتے ہوئے۔ وہ اپنی فتح کے بعد دو گھروں کی مالک بھی بن چکی ہیں۔

ویٹ لفٹر ہدلن دیاز کی وجہ سے فلپائن کا پورا ملک 26 جولائی کو خوشی منانے لگا جب انھوں نے ملک کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جیتا۔ وہ 55 کلو گرام کی کیٹیگری میں کامیاب ہو کر ایک قومی ہیرو بن گئی ہیں۔

مگر ان کی کامیابی نے ان کی زندگی ایک اور طرح بدلی ہے۔ انھیں فلپائن سپورٹس کمیشن اور فلپائن کے صدر کی جانب سے 2 لاکھ ڈالر کے مجموعی انعامات ملیں گے اور ان کے علاوہ انھیں دو گھر بھی دیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک پرتعیش اپارٹمنٹ چینی فلپائنی ارب پتی اینڈرو لم تام کی جانب سے دیا گیا ہے۔

یہ سب ایک ایسی خاتون کے لیے کوئی کم رقم نہیں جو اس وقت فلپائنی فضائیہ میں بطور سارجنٹ تقریباً ماہانہ 500 ڈالر کماتی ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ کامیابی تو حاصل کر لی ہے مگر اس کی تیاری کے لیے ان کے پاس جم تک نہیں تھا اور انھوں نے عارضی طور پر مختلف چیزوں کو ویٹ لفٹنگ کا سامان بنا کر کام چلایا۔

نقد انعامات

اولمپکس
،تصویر کا کیپشنملیشیا نے اولمپکس میڈلز جیتنے والوں کے لیے بھاری انعامات کا اعلان کیا ہے تاہم اب تک وہ صرف بیڈمنٹن میں ایک کانسی کا تمغہ ہی جیت پایا ہے

نقد انعامات مختلف ممالک میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔

بہت سارے میڈلز جیتنے والے ممالک کے کھلاڑیوں کے پاس عموماً بہترین اور جدید ترین سہولیات ہوتی ہیں اور انھیں عام طور پر کم نقد انعام ملتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ایسے کھلاڑی جو کہ سہولیات کے بجائے اپنی محنت سے ہیرو بنتے ہیں، ان کو عموماً زیادہ انعامات ملتے ہیں۔

اولمپکس

ملیشیا نے 13 اولمپک مقابلوں میں اب تک صرف 11 میڈل جیتے ہیں اور انھوں نے ٹوکیو میں طلائی تمغہ جیتنے والوں کو دو لاکھ 41 ہزار ڈالر دینے کا کہا ہے (چاندی کے لیے ڈیڑھ لاکھ ڈالر اور کانسی کے لیے 24 ہزار ڈالر) انعام رکھا گیا ہے۔

دو اگست تک ٹوکیو میں ملیشیا نے اب تک صرف ایک کانسی کا تمغہ جیتا ہے جو کہ مردوں کے ڈبلز بیڈمنٹن مقابلوں میں جیتا گیا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے پاس 29 جولائی تک 500 میڈل آ چکے تھے اور وہاں حکومت میڈل جیتنے والوں کے لیے ملیشیا کے انعامات کا 10 فیصد رکھے ہوئے ہے۔ آسٹریلیا نے ٹوکیو اولمپکس میں اب تک 30 سے زیادہ میڈل جیت بھی لیے ہیں۔

چمکتی نئی کاریں

اولمپکس
،تصویر کا کیپشنمیڈلز جیتنے والے روسی ایتھلیٹس کو پرتعیش گاڑیاں انعام میں دی جائیں گی

مگر زیادہ میڈلز جیتنے والے ممالک میں چین اور روس ذرا مختلف ہیں۔ وہ اپنے کھلاڑیوں کو نہ صرف بہت سے نقد انعامات دیتے ہیں بلکہ قومی اور علاقائی حکام تحفے بھی دیتے ہیں۔ روس میں ایسے تحفوں میں نئی کاریں اور اپارٹمنٹس شامل ہیں۔

گائے بھینسیں

اولمپکس
،تصویر کا کیپشنماضی میں کچھ ایتھلیٹس کو کامیابی پر گائیں بھی ملی ہیں

لیکن کچھ انعامات قدرے غیر معمولی ہوتے ہیں۔

لندن کے 2012 اولمپکس میں جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑیوں نے کشتی رانی میں میڈل جیتا تو ان چاروں کو ایک ایک گائے دی گئی۔

انھیں یہ جانور ایک کاروباری شخصیت اور ٹی وی شیف جین سکانل کی جانب سے دیے گئے تھے جو کہ بار بی کیو کے ماہر ہیں۔

نئی نوکریاں، بہتر تنخواہ، اور فوجی سروس سے چھٹی

اولمپکس
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی میرابائی چانو کو ویٹ لفٹنگ میں گولڈ میڈل ملا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملازمت پر ترقی بھی

بہت سارے ممالک میں اولمپک میڈل کی وجہ سے آپ کو نئی نوکری مل جاتی ہے۔ یا بہتر تنخواہ مل جاتی ہے۔

انڈیا کی ویٹ لفٹر میرابائی چانو کو سلور میڈل کے لیے ساڑھے تین لاکھ ڈالر تو دیے جائیں گے مگر انھیں انڈین ریلوے کی طرف سے ترقی دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا میں میڈل جیتنے والوں کو نقد انعامات تو دیے جاتے ہیں مگر شاید ان کے لیے سب سے بڑا انعام فوجی سروس سے 18 ماہ کی چھوٹ ہوتی ہے۔

مالی فائدے سے کہیں زیادہ

اولمپکس
،تصویر کا کیپشناولمپکس میں بی ایم ایکس ریسنگ کی چیمپیئن برطانیہ کی بیتھنی شریور کو ٹوکیو گیمز کی تیاری کے لیے عطیات کا سہارا لینا پڑا تھا

اولمپک مقابلوں میں کامیاب ہونے والوں کو انعامات دینا کوئی نئی بات نہیں اور ایسا 1980 کی دہائی سے کیا جاتا ہے مگر ان انعامات کا حجم بڑھ گیا ہے۔

سنگار پور کے جوسف سکولنگ کو ریو 2016 میں غیر متوقع طور پر امریکی مائیکل فیلپس کو ہرانے پر حکومت کی جانب سے ساڑھے سات لاکھ ڈالر دیے گئے۔

مگر بہت سے لوگوں کے لیے یہ زندگی کا واحد فائدہ سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کھیلوں میں مداحوں کو زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے سپانسرشپ کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔

فروری میں تحقیقی گروپ گلوبل ایتھلیٹ نے 500 اولمپک کھلاڑیوں کے انٹرویو کیے اور ان میں سے تقریباً 60 فیصد نے کہا کہ وہ خود کو مالی طور پر مستحکم نہیں سمجھتے۔

کئی ممالک یہاں تک کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی کچھ کھلاڑیوں کو کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے ٹوکیو گیمز کی تیاری کرنی پڑی۔

اوپر سے کووڈ 19 کی وبا نے معاملات کو اور مشکل بنا دیا ہے کیونکہ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے چھوٹے مقابلے جہاں سے وہ شرکت کی فیس لیتے ہیں منسوخ ہوگئے۔