ٹوکیو اولمپکس 2021: طلحہ طالب، مشکلات اور تکالیف کا بوجھ اٹھانے والے باہمت ویٹ لفٹر

نہ مستقل ملازمت، نہ بنیادی سہولتیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ ٹریننگ، لیکن اس کے باوجود اگر کسی کھلاڑی کا اولمپکس مقابلوں میں شرکت کا خواب حقیقت بن جائے تو سوچیے یہ اس کھلاڑی کے لیے کتنی خوشی کی بات ہو گی۔

یہ 21 سالہ پاکستانی ویٹ لفٹر طلحہ طالب کے کریئر کا لب لباب ہے، جو ٹوکیو اولمپکس میں 67 کلوگرام کیٹگری میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

طلحہ طالب کی کہانی بھی پاکستان کے ان کئی کھلاڑیوں سے مختلف نہیں ہے جس میں چمکتے تمغے تو نظر آتے ہیں لیکن اُن تمغوں کے حصول میں چھپے کرب کو ہر کوئی محسوس نہیں کر سکتا، جس سے گزر کر یہ کھلاڑی اپنے سینے پر یہ تمغے سجاتے ہیں۔

اولمپکس تک کیسے پہنچے؟

طلحہ طالب

طلحہ طالب کو ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کا موقع اگرچہ انویٹیشن کوٹہ پر ملا ہے لیکن اس کا اصل سبب وہ عمدہ کارکردگی ہے جس کا مظاہرہ وہ گذشتہ چار، پانچ برسوں سے بین الاقوامی سطح پر کرتے آ رہے ہیں۔

طلحہ طالب نے بی بی سی اردو کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ ’اولمپکس میں کوالیفائی کرنے کے لیے انھیں چھ ایونٹس میں حصہ لینا تھا اور ان میں اچھی کارکردگی دکھانی تھی۔ میں نے 2018 میں اسلامک سولیڈیرٹی گیمز میں ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے جیتے۔ چین میں ہونے والی ایشین چیمپیئن شپ میں میری ساتویں پوزیشن آئی۔ بدقسمتی سے فلائٹ مس ہونے کی وجہ سے میں ایشین جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ میں حصہ نہ لے سکا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں ساؤتھ ایشین چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوا لیکن اس ایونٹ کو کوالیفائنگ راؤنڈ کا درجہ نہ مل سکا۔ گذشتہ سال میں نے ازبکستان میں ہونے والی انٹرنیشنل سولیڈیرٹی چیمپیئن شپ میں تین طلائی تمغے جیتے جبکہ ایشین چیمپیئن شپ میں بھی میری کارکردگی اچھی رہی تھی۔‘

’انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن میری اس کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے تھی اور اسی وجہ سے مجھے اولمپکس میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔‘

طلحہ طالب بتاتے ہیں ’پاکستان سپورٹس بورڈ نے گذشتہ تین سال سے کسی قسم کا ٹریننگ کیمپ نہیں لگایا۔ مجھے آج تک ٹریننگ کے لیے کسی دوسرے ملک جانے کا اتفاق بھی نہیں ہوا ہے جو کچھ بھی ہے وہ گوجرانوالہ میں ہی ہے۔‘

مستقل ملازمت سے محروم

طلحہ طالب

طلحہ طالب بتاتے ہیں ’میں تین سال سے پاکستان واپڈا سے وابستہ ہوں لیکن انھوں نے نہ ہی میری ملازمت مستقل کی ہے اور نہ ہی کوئی ترقی دی ہے، حالانکہ انھی تین برسوں میں بین الاقوامی سطح پر میری کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔‘

’میں نے گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ میں چار سال سے قومی چیمپیئن ہوں اور اس وقت قومی ریکارڈ ہولڈر ہوں۔‘

طلحہ طالب کا کہنا ہے ’واپڈا کی تنخواہ سے میں ویٹ لفٹنگ نہیں کر سکتا۔ میں مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ خوراک اور فوڈ سپلیمنٹ کے اخراجات کافی ہوتے ہیں۔‘

طلحہ طالب کہتے ہیں ’میں نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے اور کافی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا ہوں مشکلات بھی اسی طرح بڑھتی گئی ہیں۔ لیکن اس صورتحال میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن نے میرا بہت ساتھ دیا ہے، شروع سے اب تک میرا خیال رکھا ہے اور میرا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا ہے۔‘

’پھر میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ میں جو بھی پرفارمنس دے رہا ہوں وہ اپنے ملک کے لیے ہے۔ ہمت نہیں ہارنی ہے۔ اپنی ٹریننگ میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی ہے اور یہی سوچ کر ٹریننگ کرتا رہا ہوں کہ اگر اولمپکس میں شرکت کا موقع آ گیا تو اپنے آپ کو تیار رکھوں۔‘

میرا خواب بیٹا پورا کرے گا

طلحہ طالب

طلحہ طالب کا تعلق پہلوانوں اور ویٹ لفٹرز کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔

ان کے والد محمد اسلام ناطق بھی ویٹ لفٹر رہے ہیں لیکن کندھے کی تکلیف کی وجہ سے وہ اپنا کریئر جاری نہ رکھ سکے۔

طلحہ طالب کہتے ہیں ’میرے والد ویٹ لفٹنگ میں بڑا نام چاہتے تھے، یہ ان کا خواب تھا جو پورا نہ ہو سکا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ جو کام میں نہ کر سکا وہ میرا بیٹا کرے۔‘

’وہ مجھے اپنے ساتھ کلب لے جایا کرتے تھے اس وقت میری عمرصرف آٹھ سال تھی۔ میرے والد میرے استاد بھی ہیں، انھوں نے مجھے اس کھیل کی بنیادی باتیں سکھائیں اور آج تک میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ میں جب بارہ سال کا تھا تو قومی جونیئر چیمپیئن بنا تھا۔‘

اولمپک ویٹ لفٹر کی پیش گوئی

طلحہ طالب نے اپنے والد کے علاوہ دو دیگر کوچز سے بھی تربیت حاصل کی ہے یہ دونوں بھائی ارشد ملک اور نوید اسلم ملک ہیں۔ یہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

ارشد ملک نے 1976 کے مانٹریال اولمپکس کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ طلحہ طالب ان کے بعد اب پہلے پاکستانی ویٹ لفٹر ہیں جو اولمپکس میں حصہ لینے والے ہیں۔

طلحہ طالب بتاتے ہیں ’میں دس گیارہ سال کا تھا جب ارشد ملک نے مجھے ٹریننگ دی تھی اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں ایک دن اچھا ویٹ لفٹر بنوں گا۔ ان کے بھائی نوید اسلم ملک نے بھی میری ٹریننگ کی ہے ۔ ان کا زیادہ اثر مجھ پر رہا ہے۔‘

دیسی ساز و سامان کے ساتھ ٹریننگ

طلحہ طالب

طلحہ طالب کو اس بات کا دکھ ہے کہ گوجرانوالہ میں ویٹ لفٹرز کی بہت بڑی تعداد موجود ہونے کے باوجود یہاں صرف ایک کلب ہے جہاں ویٹ لفٹنگ کا بین الاقوامی معیار کا سامان موجود ہے۔

باقی جتنے بھی کلب ہیں وہاں دیسی ساخت کے وزن رکھے ہوئے ہیں اور جب وہ انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں تو اس وقت انھیں انٹرنیشنل معیار کے وزن کو ایڈجسٹ کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔

طلحہ طالب کہتے ہیں ’ویٹ لفٹنگ کے انٹرنیشنل معیار کے سامان کا میرے جیسا بندہ بھی متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا پورا سیٹ دس سے پندرہ لاکھ روپے تک آتا ہے۔ میں چند روز پہلے پنجاب سپورٹس بورڈ کے حکام سے ملا تھا جنھوں نے میرے لیے چینی ساخت کے انٹرنیشنل وزن کا بندوست کیا ہے۔‘

’یہ بھی کہا ہے کہ اولمپکس کے بعد انھیں ٹریننگ کے لیے مناسب جگہ بھی فراہم کی جائے گی کیونکہ ابھی میں جس سکول کی جگہ پر ٹریننگ کر رہا تھا اس کی انتظامیہ نے اسے خالی کرنے کو کہا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *