ٹک ٹاک: سندھ ہائی کورٹ کا ٹک ٹاک پر 8 جولائی تک پابندی لگانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک کو معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے تمام فریقین کو آٹھ جولائی کو طلب کیا ہے اور پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ اس وقت تک ٹک ٹاک ایپ کو معطل کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے یہ حکم ایک درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن دائر کرنے کے بعد دیا گیا ہے جس میں درخواست گزار نے دیگر الزامات سمیت یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس ایپ کے ذریعے پاکستان میں ’ہم جنسی پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے‘۔

درخواست گزار بیریسٹر اسد اشفاق نے اپنی درخواست میں پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ٹک ٹاک کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں 'فحاشی' پھیل رہی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ایپ پر پابندی عائد کر دے۔

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی کے حکم کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی حکم پر کہا تھا کہ یہ 'ایک اور ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کے عوام بڑی قیمت چکائیں گے۔'

ہم جنس پرست

یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، کے حکام نے پشاور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ انھوں نے بڑی تعداد میں اس ایپ سے غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا ہے اوراس کے علاوہ وہ ٹاک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

درخواس گزار بیریسٹر اسد اشفاق کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کی جانب سے ’پاکستان کے قوانین کی پیروی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی پاکستان کے کلچر کا خیال رکھا جارہا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہوئی جس میں ایل جی بی ٹی پرائیڈ منتھ منانے کا اعلان کیا گیا ہے جو ’اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے‘۔

دوران سماعت انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست کی تھی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی لہٰذا اس سروس کو معطل کیا جائے۔