’’ٹھنڈ پروگرام‘‘

دو یا تین ہفتے پہلے کی بات ہے۔وقت گزاری کے لئے لیپ ٹاپ کھول کر ٹویٹر پر لگائے مضامین اور پیغامات دیکھ رہا تھا۔اچانک ایک ری ٹویٹ پر نظر پڑی۔امریکہ کے کسی تھنک ٹینک کے لئے کام کرنے والے ایک محقق نے جس کا نام مجھے اب یاد نہیں آرہا افغانستان کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تھا۔وہ ری ٹویٹ ہوا۔مذکورہ مضمون کے عنوان نے مجھے چونکا دیا کیونکہ وہ افغانستان پر نگاہ رکھنے کے لئے بھارت میں امریکہ کو فوجی اڈوں جیسی سہولت فراہم کرنے کا عندیہ دے رہا تھا۔

فوری طورپر میں نے اس امکان کو دور کی کوڑی تصور کیا۔بھارت افغانستان کا براہِ راست ہمسایہ نہیں ہے۔وہاں کسی مقام پر امریکہ کو ڈرون اور دیگر طیارے رکھنے کی مودی سرکار اجازت بھی فراہم کردے تو وہاں سے اڑے طیارے کو ہر صورت پاکستان کی فضا سے گزرتے ہوئے افغانستان تک پہنچا ہوگا۔ پاکستان کے لئے ایسے بندوبست کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔

مضمون نگار کا تاہم دعویٰ تھا کہ ماضی کی ریاست جموںوکشمیر سے 5اگست 2019کے روز زبردستی جدا کئے لداخ میں ایسی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔لداخ کے ذکر نے مجھے مزید حیران کیا۔لداخ بھارت کو چین کا ہمسایہ بھی بناتا ہے اور ان دونوں ممالک کے مابین وہاں کی سرحد طے کرنے کے لئے اب تک اتفاق نہیں ہوپایا ہے۔1962کی بھارت-چین جنگ اسی سرحدی قضیے کی وجہ سے ہوئی تھی۔گزشتہ دو برسوں سے اس تنازعہ میں مزید شدت نمودار ہورہی ہے۔بسااوقات جنگ کی جانب دھکیلنے والی فوجی جھڑپیں بھی شروع ہوجاتی ہیں۔ ایسے حالات میں امریکہ کے جاسوسی طیارے اگر لداخ سے اڑنا شروع ہوگئے تو پاکستان کے علاوہ چین بھی ان کے ہدف کو فقط افغانستان تک ہی محدود تصور نہیں کرے گا۔

بدھ کی صبح اٹھ کر اخبارات دیکھے تو مذکورہ مضمون کو پڑھتے ہوئے جو رائے بنائی تھی اس پر نظر ثانی کو مجبور ہوا۔ یہ سوچتے ہوئے اپنی ملامت بھی کی کہ مجھے مذکورہ مضمون میں ہوئے دعویٰ کو خود کو عقل کل تصور کرتے ماہرین کی طرح عجلت میں رد نہیں کرنا چاہیے تھا۔تھوڑی تحقیق کی ضرورت تھی۔اس سے میں نے اجتناب برتا۔ ایسی کاہلی مجھ جیسے عملی صحافت سے ریٹائر ہوئے رپورٹر کو بھی شرمندہ کردیتی ہے۔

بدھ کی صبح میری شرمندگی کا بنیادی سبب روسی وزیر خارجہ کا ایک بیان تھا۔مذکورہ بیان کے ذریعے موصوف نے دعویٰ کیا کہ امریکہ افغانستان کی فضائی نگرانی کے لئے بھارت سے تعاون کا طلب گار ہے۔روسی وزیر خارجہ کسی تھنک ٹینک کا ملازم نہیں۔تیل وگیس کے ذخائر سے مالا مال اور 1990کی دہائی تک امریکہ کے پائے کی سپرطاقت رہے ملک کا وزیر خارجہ ہے۔امریکہ اور کمیونسٹ روس کے درمیان کئی دہائیوں تک جاری رہی سردجنگ کے دوران غیر جانب داری کا دعوے دار ہوتے ہوئے بھی نہرو اور اس کے وارثوں کا بھارت روس کا قریبی دوست رہا۔1970کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی اندرا گاندھی کی حکومت نے سوویت یونین کے ساتھ ایک جامع دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔اس معاہدے کی بدولت اندرا حکومت پاکستان کو دولخت کرنے کے لئے مشرقی پاکستا ن میں فوجی مداخلت کے قابل ہوئی تھی۔

سرد جنگ کے اختتام کے بعد بھارت نے من موہن سنگھ کے دور سے امریکہ کے قریب آنے کی کوششیں شروع کردیں۔اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے ان کوششوں میں مزید تیزی دکھائی۔ روس کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات بھی اگرچہ برقرار رکھے۔مودی سرکار مگر ٹرمپ کی جگری یار ہونے کو ضرورت سے زیادہ بے تاب ہوگئی۔بائیڈن انتظامیہ مگر اس کی وجہ سے کوئی خفگی محسوس نہیں کرتی۔امریکہ میں ایک دوسرے کی شدید دشمن ہونے کے باوجود ری پبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتیں کم از کم اس سوچ کو یکسوئی سے تسلیم کرتی ہیں کہ چین کو لگام ڈالنے کے لئے بھارت سے تعلقات کو ہمہ گیر اور بھرپور بنایا جائے۔

افغانستان کا قریبی ہمسایہ نہ ہونے کے باوجود بھارت خود کو اس خطے کا چودھری شمار کرتے ہوئے اس ملک کا مستقبل طے کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔طالبان حکومت کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کو بھی و ہ آمادہ نہیں۔اپنی چوہدراہٹ اجاگر کرنے کے لئے اس نے افغانستان کے امور میں دلچسپی لینے والے ممالک کے مشیران برائے قومی سلامتی کو ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔پاکستان نے وہاں جانے سے انکار کردیا۔دیکھتے ہیں ایران اور وسطی ایشیاء کے ممالک اس ضمن میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔روسی وزیر خارجہ کا بیان اگرچہ عندیہ دے رہا ہے کہ اس کا ملک بھارت کی افغانستان میں چوہدراہٹ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔بدھ کے روز امریکہ کی بھارت میں فوجی اڈہ ڈھونڈنے کی خواہش کو عیاں کرتا روسی وزیر خارجہ کا بیان درحقیقت سفارت کارانہ مہارت سے مودی سرکار کو شرمندہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔

مجھے ہرگز خبر نہیں کہ پاکستان کی حکومت امریکہ کی اس خواہش کی بابت کیا سوچ رہی ہے جس کا ذکر روسی وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کردیا ہے۔ان دنوں فیصلہ سازی کے جو مراکز وطن عزیز میں موجود ہیں ان تک مجھے کوئی رسائی میسر نہیں۔میرے چند ساتھی اگرچہ اس ضمن میں بہت باخبر تصور کرتے ہیں۔اپنے یوٹیوب چینلوں کے ذریعے مجھ جیسے نکمے صحافی کو اپنی رسائی سے مرعوب کرنے والے یہ دوست بھی تاہم ابھی تک مجھے یہ بتانہیں پائے ہیں کہ حال ہی میں مفتی منیب الرحمن صاحب کی سرپرستی میں وزیر آباد میں دھرنا دئیے بیٹھی تنظیم کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اس کے بنیادی نکات کیا ہیں۔

سنا ہے ہمارے ہاں سب پہ بالادست کا ڈرامہ رچاتی ایک منتخب پارلیمان بھی موجود ہے۔اس کے دو ایوان ہیں جن کی خارجہ اور دفاعی امور کی بابت دھانسو نظر آتی کمیٹیاں بھی ہیں۔ ان کمیٹیوں کو بھی لیکن افغانستان کے بارے میں ریاست پاکستان کی ترجیحات کا اتنا ہی علم ہے جتنا میرے اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کو ان دنوں سوڈان اور ایتھوپیا میں جاری خلفشار کی بابت ہوسکتا ہے۔جس ملک کے صحافی اور سیاست دان اہم ترین امور کی بابت بے خبر رہنے کو ترجیح دیں وہاں مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافی کو بھی اپنی اوقات میں رہنا ہوگا۔’’ہورہے گا کچھ نہ کچھ‘‘ سوچتے ہوئے ٹھنڈ پروگرام اور جی بہلانے کو شدت سے اس امکان کا انتظار کہ ہماری کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل کس ملک کے خلاف کھیلے گی۔

error: