ٹیسٹ کرکٹ کا مہنگا ترین اوور: انڈین کپتان جسپریت بمراہ کے ریکارڈ اور سٹورٹ براڈ کے انوکھے اعزاز پر دلچسپ تبصرے

انڈین ٹیسٹ ٹیم کے ریگولر کپتان روہت شرما کی غیر موجودگی میں جب کپتانی کی ذمہ داری فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کو دی گئی تو لوگوں نے انڈیا کے مایہ ناز آل راؤنڈر کپل دیو کو یاد کیا۔

کرکٹ کے مبصرین نے لکھا کہ کپل کے بعد پہلی بار کسی فاسٹ بولر کو ٹیسٹ میچز کی کپتانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ جسپریت بمراہ اپنے پہلے ہی میچ میں کپل کی بیٹنگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔

صرف اتنا ہی نہیں، وہ بیٹنگ میں ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی بنا دیں گے۔

یاد رہے کہ انڈیا ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے اور وہ سیریز کا پہلا میچ برمنگھم میں کھیل رہی ہے۔

آخر بمراہ نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا کہ انڈیا کے کرکٹ فینز خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں اور دنیا بھر کے کرکٹ مداح بمراہ کے ساتھ انگلینڈ کے بولر سٹوراٹ بروڈ کو بھی ان کے منفی ریکارڈ کے لیے یاد کر رہے ہیں۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے مداح کارتک چودھری سنیچر کو کپتان جسپریت بمراہ کی بیٹنگ سے متاثر ہوئے۔

انھوں نے انگلینڈ کے بولر سٹورٹ براڈ کی دو تصاویر کے ساتھ ایک ٹویٹ کیا۔

چودھری نے لکھا کہ 'ہم ان دو تصویروں کے درمیان بڑے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ انھوں نے 'یووی' اور 'بمرہ' ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔ '

یہ کرکٹ شائقین کے لیے ایک ناقابل یقین لمحہ تھا اور اس کا اظہار سٹورٹ براڈ کی تصویر سے بھی ہوتا ہے۔ بہر حال جب جسپریت بمراہ نے براڈ کے 18ویں اوور کا سامنا کرتے ہوئے شاٹ لگائے تو لوگوں کو سنہ 2007 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں براڈ کو چھ چھکے لگاتے ہوئے انڈین بیٹسمین یوراج سنگھ یاد آ گئے۔

اپنی سوئنگ اور سیم بولنگ کے لیے دنیا بھر میں مشہور بمراہ نے ہفتے کے روز بیٹ سے وہ کمال کر دکھایا جو ان سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی اور بلے باز نہیں کر سکا۔

لارا 12 اپریل
،تصویر کا کیپشناب تک یہ ریکارڈ لارا اور بیلی کے نام تھا

ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ

براڈ کے اس اوور میں مجموعی طور پر 35 رنز بنے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز کا نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بیٹسمین برائن لارا اور آسٹریلیا کے سابق کپتان جارج بیلی کے نام تھا۔ دونوں نے ایک اوور میں 28-28 رنز بنائے تھے جبکہ پاکستان کے شاہد آفریدی ایک اوور میں 27 رنز کے ساتھ ان کے بعد آتے ہیں۔

بمراہ نے انڈین اننگز کے 84ویں اوور میں براڈ کو نشانہ بنایا۔

پہلی گیند پر چار رنز۔ دوسری گیند وائیڈ تھی اور باؤنڈری سے باہر چلی گئی۔ اس پر انڈین ٹیم کو مجموعی طور پر پانچ رنز مل گئے۔

اگلی گیند نو بال تھی جسے بمراہ نے چھ رنز کے لیے باؤنڈری کے باہر بھیج دیا۔ اکاؤنٹ میں کل سات رنز کا اضافہ ہوا۔ اگلی تین گیندوں پر انھوں نے لگاتار تین چوکے لگائے۔

انھوں نے اوور کی پانچویں گیند پر چھکا لگایا اور آخری گیند پر ایک رن بنایا۔ اس طرح اوور میں کل 35 رنز بنے۔ ان میں سے 29 رنز بمراہ کے بیٹ سے بنے۔

محمد سراج دوسرے سرے پر بمراہ کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے۔ اپنے کپتان کے کمال پر وہ بھی پچ پر ہی کھلکھلا اٹھے۔ ان کی ہنسی کو بھی مداحوں نے پسند کیا۔

صحافی وویک سنگھ نے بمراہ کے کارنامے پر سابق کپتان وراٹ کوہلی کا ردعمل ٹویٹ کیا۔

یوراج سے مقابلہ

لیکن، زیادہ تر شائقین کو ڈیڑھ دہائی قبل یوراج سنگھ کی کارکردگی یاد تھی۔

پاکستان کے ایک ٹوئٹر صارف محمد جنید خان نے لکھا کہ 'سٹورٹ براڈ کسی خاص وجہ سے انڈیا کے پسندیدہ بولر ہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں تو آپ جانتے ہیں۔'

یاد رہے کہ اس سے قبل ٹی 20 کے ورلڈ کپ میچ میں یورراج سنگھ نے ان کو ہی چھ چھکے جڑے تھے اور کل 36 رنز حاصل کیے تھے۔

اس میچ میں یوراج سنگھ نے صرف 16 گیندوں پر 58 رنز بنائے تھے۔ ان میں تین چوکے اور سات چھکے شامل تھے۔

یعنی اس وقت سٹورٹ براڈ ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ کرکٹ میں مہنگا ترین اوور کرانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا کہ براڈ کو ون ڈے میں بھی موقع دینا چاہیے۔

پاکستان کے ایک دوسرے ٹوئٹر صارف شاہد ہاشمی نے لکھا '550 وکٹ لینے والے سٹورٹ براڈ کے دو خراب ریکارڈ ہیں۔ ایک ٹی 20 میں سب سے مہنگا اوور: 36 رنز

دوسرے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے مہنگا اوور: 35 رنز'

اس سے قبل سنہ 1990 میں انڈیا کے آج تک کے بہترین آل راؤنڈر کپل دیو نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ای ای ہیمنگس کو لگاتار چار چھکے لگائے تھے اور انگلینڈ کے خلاف فالو آن کے خطرے کو ختم کر دیا تھا۔

اسی طرح انڈیا کے اپنے زمانے کے جارحانہ طرز سے بیٹنگ کرنے والے سندیپ پاٹل نے سنہ 1982 میں مانچسٹر میں کھیلے گئے میچ میں آر جی ڈی ولس کو چھ چوکے لگائے تھے جبکہ درمیان میں ایک نو بال تھی۔

بمراہ

ان کے علاوہ سری لنکا کے اوپنر سنتھ جے سوریا اور ویسٹ انڈیز کے اوپنر کرس گیل نے ٹیسٹ کرکٹ کے ایک اوور میں لگاتار چھ چوکے لگانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

برمنگھم ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ ایک وقت ان کا فیصلہ درست نظر آ رہا تھا جبہ انڈین ٹیم 98 رنز پر پانچ وکٹیں گنوا چکی تھی۔ اس کے بعد رشبھ پنت نے 146 اور رویندر جڈیجہ نے 104 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط سکور تک پہنچانے میں مدد کی۔ جبکہ بمراہ نے 16 گیندوں میں ناٹ آؤٹ 31 رنز بنائے اور انڈین اننگز کو 400 رنز تک پہنچانے میں مدد کی۔

بہر حال بمراہ کی اس ناقابل یقین بیٹنگ کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ میں چھ چھکوں کا ریکارڈ ابھی قائم ہونا باقی ہے لیکن کرکٹ نے جس طرح جارحانہ بیٹنگ کا رخ اختیار کیا ہے ٹیسٹ میں چھ چھکے زیادہ دور نہیں ہیں۔