ٹیپو سلطان: کرناٹک کا ہیرو ہے یا ہندو دشمن ظالم حکمران

(آج سے 270 سال قبل میسور کے سلطان حیدر علی کے گھر ان کے بیٹے ٹیپو سلطان کی ولادت ہوئی جن کی حکمرانی، جرات، شجاعت اور اصول پسندی کی داستان ان کی موت کے سالوں بعد بھی سنائی جاتی ہیں۔ یہ تحریر پہلی بار مئی 2018 میں شائع ہوئی تھی اور آج ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کے موقع پر یہ مضمون دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔)

انڈیا میں میسور کے سابق حکمراں ٹیپو سلطان کو ایک بہادر اور محب وطن حکمراں کے طور پرہی نہیں مذہبی رواداری کے علمبردار کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

لیکن کچھ عرصے سے بی جے پی کے رہنما اور دائیں بازو کے نظریات کے مورخ ٹیپو کو ظالم اور ہندو دشمن مسلم سلطان کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹیپو کو ہندوؤں کا قتل عام کرنے والا حکمراں بتایا جا رہا ہے۔

کرناٹک کے انتخابی مہم کے دوران بھی کئی بار یہ سوال اٹھایا گیا کہ ٹیپو ریاست کا ہیرو ہے یا ہندو دشمن ظالم حکمران؟

ٹیپو سلطان میسور سے تقریـباً 15 کلومیٹر دور سری رنگا پٹنم میں ایک خوبصورت مقبرے میں اپنے والد حیدر علی اور والدہ فاطمہ فخرالنسا کے پہلو میں دفن ہیں۔ سری رنگا پٹنم ٹیپو کا دارالسلطنت تھا اور یہاں جگہ جگہ ٹیپو کے دورکے محلات، عمارتیں اور کھنڈرات ہیں۔

ٹیپو پر اس تنازعے کے باوجود ہزاروں لوگ اب بھی ٹیپو کے مقبرے اور ان کے محلات دیکھنے کے لیے سری رنگا پٹنم آتے ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں میسور کا ٹیپو اب بھی ایک محب وطن انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دینے والا ہیرو اور سیکیولرحکمراں ہے۔

ٹیپو سلطان کا مزار
،تصویر کا کیپشنسری رنگا پٹنم میں ٹیپو سلطان کا مزار دیکھنے کے بہت سے لوگ آتے ہیں

میسور کے 18ویں صدی کےحکمراں ٹیپو سلطان انگزیزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ کرناٹک کی سابقہ کانگریس حکومت نے چند برس قبل ریاست کے کئی دیگر ہیروز کی طرح ٹیپو کو افتخارِ کرناٹک قرار دیا اور ان کے یوم پیدائش پر سرکاری طور پر جشن منانا شروع کیا۔

بی جے پی اور آر ایس ایس اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ریاستی حکومت صرف مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ٹیپو کی پیدائش کا جشن مناتی ہے۔ ریاستی بی جے پی کے رہنما اننت کمار ہیگڑے کا کہنا ہے کہ ٹیپو متعصب حکمران تھا اور اس نے ساحلی علاقوں میں ہزاروں ہندوؤں کا قتل عام کیا اور مندر ڈھائے تھے۔

ان کا کہنا ہے: 'ٹیپو ہیرو نہیں بلکہ ہزاروں ہندوؤں کا قاتل تھا۔‘

ٹیپو کی سلطنت میں غالب اکثریت ہندوؤوں کی تھی۔ ٹیپو سلطان مذہبی رواداری اور روشن خیالی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے سری رنگا پٹنم، میسور اور اپنی سلطنت کے کئی دیگر مقامات پر متعدد مندر تعمیر کرائے اور مندروں کے لیے زمینیں دیں۔ خود ان کے اپنے محل کے داخلی دروازے سے محض چند سو میٹر کی دوری پر ایک بہت بڑا مندر واقع ہے۔

لیکن ہندوتوا سے متاثر بہت سے دانشور اور مورخین ٹیپو کو ظالم اور ہندو مخالف حکمران قرار دیتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈاکٹر چدانند مورتی نے کنڑ زبان میں ٹیپو پر لکھے جانے والی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ 'بہت چالاک حکمراں تھا۔ اس نے میسور سلطنت کے اندر اپنی ہندو رعایا پر ظلم نہیں ڈھایا اور نہ ہی ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا۔ لیکن ریاست سے باہر ساحلی کورگ علاقوں اور کیرالہ کے مالابار علاقے پر حملے میں اس نے ہندوؤں پر بہت ظلم ڈھائے۔ وہ ظالم، بے رحم اور متعصب حکمراں تھا۔ وہ جہادی تھا۔ اس نے ہزاروں ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنایا وہ اپنی مذہبی کتاب پر عمل کرتا تھا جس میں لکھا ہے کہ بت پرستوں کو قتل کرو۔'

ٹیپو سلطان کا مزار
،تصویر کا کیپشنٹیپو سلطان میسور سے تقریـباً 15 کلومیٹر دور سری رنگا پٹنم میں ایک خوبصورت مقبرے میں اپنے والد حیدر علی اور والدہ فاطمہ فخرالنسا کے پہلو میں دفن ہیں

مورخ روی ورما نے ٹیپو سلطان کے بارے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے: ’کیرالہ میں ٹیپو کی فوجی مہمات کے بارے میں متعدد مسنتد دستاویزات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ میسور کا ٹیپو سلطان ایک متعصب مسلم جابر حکمران تھا جو کیرالہ میں سینکڑوں ہندو مندروں کو تباہ کرنے، بڑی تعداد میں ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنانے اور ہندوؤں پر بے پناہ مظالم ڈھانے کا ذمےدار تھا۔'

روی ورما نے متعدد مندروں کی فہرست بھی پیش کی ہے جو بقول ان کے ٹیپو نے تباہ کیے۔

لیکن ٹیپو کا گہرا مطالعہ کرنے والے مورخ پروفیسر بی شیخ علی کہتے ہیں کہ ان دعوؤں کا کوئی تاريخی ثبوت نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ٹیپو کی ظالم حکمراں کی نئی شبیہ تاریخ سے زیادہ موجودہ سیاسی ماحول سے متاثر ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'جب مسلمان آئے تو انھوں نے اپنے حساب سے تاریخ لکھی، جب انگریز آئے تو انھوں نےاپنے حساب سے لکھی۔ اب پارٹی بدل گئی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ اسے اپنی طرح سے بدلا جائے۔ وہ تاریخ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔'

پروفیسر علی
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی بدلتی ہوئی سیاست میں تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے

پروفیسر علی کہتے ہیں کہ تاریخ کو اس کے عصری سیاسی اور سماجی پس منظر میں معروضیت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کی بدلتی ہوئی سیاست میں تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے۔ اس بدلتے ہوئے پس منظر میں کوشش یہی ہے کہ مستقبل کی تاریخ میں ٹیپو سلطان جیسے ماضی کے حکمرانوں کو شاید فراموش کر دیا جائے یا پھر انھیں ہندو دشمن، ظالم حکمراں کے طور پر پیش کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *